✍🏻 محمد عادل ارریاوی
___________________
محترم قارئین! معاشرہ کی اصلاح کی کوشش ہر دور میں رہی ہے انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد بھی اصلاح معاشرہ کے ساتھ انسانوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دینا تھا اللہ ربّ العزت نے اس امت کو خیر امت کہا ہے اس وجہ سے کہ وہ نیکی کی طرف بلاتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اسی کو قرآن کریم نے دعوت سے تعبیر کیا ہے دعوت و تذکیر کے طریقوں میں سے ایک تحریر بھی ہے تحریر کے ذریعہ اصلاح کی کوشش ایک مفید عمل ہے الذی علم بالقلم چوں کہ اس میں مضامین مختصر ہوتے ہیں پڑھنے والے کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔
خالق کا ئنات اللہ ربّ العزت کا ہم پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے ہمیں دیگر مخلوقات کی نسبت احسن تقویم میں پیدا فرما کر عقل و شعور فہم و ادراک والی نعمت سے نوازا جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو وہاں پہلے سے ایک معاشرہ موجودہ پاتے ہیں اور بے شمار لوگوں سے ہمارا سابقہ پیش آتا ہے اس میں اچھے اور بُرے ہر دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں اگر معاشرہ میں بڑے قسم کے لوگ زیادہ ہیں تو ان میں پرورش پانے والا اپنی سیاہ کاریوں سے معاشرہ کو لت پت کر دے گا۔
آج مسلم معاشرہ کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے نشہ بازی جوا سٹہ جیسے تباہ کن عادتوں میں معاشرہ کا ایک بڑا طبقہ مبتلا ہے شادی بیاہ میں فضول خرچی جہیز لا یعنی رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے کتنے گھرانے تباہ ہور ہے ہیں موبائل کے غلط استعمال سے نوجوان طبقہ بے حیائی اور فحاشی کا شکار ہے آج ہمارا معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے مرد و عورت جوان بوڑھے بچے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس خطہ اور ماحول میں اسلام کا آغاز ہوا وہ تہذیب اور ناشناسی انسانیت سوزی قتل و غارت گری شراب نوشی زنا کاری اور اخلاقی پسماندگی کا شکار تھا مگر وہاں اسلام نے ایسا عظیم انقلاب برپا کیا کہ پوری تاریخ انسانی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی پورے عہد رسالت میں چوری اور زنا کے کل چھ واقعات کا ذکر ملتا ہے حالاں کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں زنا کاری چوری اور شراب نوشی دن رات کا مشغلہ تھا اس روئے زمین پر اس سے بہتر معاشرہ وجود میں نہیں آیا یہ معاشرہ تقریبا ڈیڑھ ہزار سال پہلے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قیادت میں تعمیر ہوا اور یہ مثالی معاشرہ اس بدترین معاشرہ کے درمیان وجود میں آیا تھا جس سے یہ بدتر معاشرہ کا تصور ممکن نہیں تھا دین اسلام ایسا ہی انسانی معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس کا ایک نمونہ عہد رسالت و صحابہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو صحیح طریقے پر ادا کریں اگر کہیں امر بالمعروف پر محنت ہورہی ہے تو منکرات کی جانب سے غفلت برتی جارہی ہے جب کہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے منکرات پر بھی محنت ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے خوف خدا و خوف آخرت کی تعلیم کو ضروری قرار دیتا ہے اگر اس سے بے توجہی برتی گئی تو ممکن ہے کہ آئندہ صدی تک انسان اور جانور کا فرق مٹ جائے گا۔ معاشرہ کی اصلاح ہم سب کی دیر بینہ تمنا ہے معاشرہ کے ہر طبقہ کے ذہن میں یہ فکر سوار رہے کے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو اگر معاشرہ میں سدھار لانا ہو تو سب سے پہلے اس کی شروعات اپنے گھر سے ہونی چاہئے منقول ہے کہ خیرات گھر سے ملتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گھر اور خاندان کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے حتی کہ زکوۃ وخیرات دینا ہو تو اپنے قریبی لوگوں سے اس کی ابتدا کریں یہی حال دعوت دین اور اصلاح معاشرہ کا بھی ہے اگر ہر انسان اپنے گھر سے اصلاح معاشرہ کی فکر کرے تو اصلاح معاشرہ کی اس سے بہتر شکل نہیں ہو سکتی اپنے گھر کی اصلاح سے غافل رہ کر معاشرہ کے بگاڑ کا رونا معاشرہ کا سب سے بڑا بگاڑ ہے۔
اکثر یہ دیکھنے میں آیا کہ معاشرہ کی بگاڑ کی بنیادی وجہ گھر کا ماحول ہے اگر گھر کے افراد صیح ہوں تو معاشرہ کا صحیح ہونا ممکن ہے قرآن کریم نے معاشرہ کی اصلاح کے لئے بنیاد گھر کو بتایا ہے قرآن نے ایک مسلمان پر صرف اپنی اصلاح کی ذمہ داری عائد نہیں کی ؟ بلکہ اپنے گھر والوں اپنی اولاد اپنے عزیز و اقارب اور اپنے اہل خاندان کو راہ راست پر لانے کی کوشش بھی اس پر ڈالی ہے اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے وانذر عشیرتک الاقربین (اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ اپنے قریبی اہل خاندان کو عذاب الہی سے ڈرائے ) حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاء کرام کی سنت یہی رہی ہے کہ انھوں نے تبلیغ کا کام اپنے گھر والوں سے کیا آج جس تیزی کے ساتھ نئی نسل بے راہ روی کی طرف بڑھ رہی ہے اس کا مؤثر علاج ہمارے گھروں میں ہونا چاہئے۔
آج ہمارے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو زمانے کے بہاؤ پر چھوڑ چکے ہیں اگر مسلمانوں میں اپنے گھر کی اصلاح کا خاطر خواہ جذبہ پیدا ہو جائے تو انشاء اللہ بہت سارے گھر سدھر جائیں گے اور نئی نسل کی بھاری اکثریت راہ راست پر آجائے گی ان شاءاللہ العزیز ۔
اے اللہ ربّ العزت! ہمیں اپنے گھر اور معاشرہ کی اصلاح کی توفیق عطا فرما ہماری اولاد کو راہ حق پر چلنے والا بنا اور ہمیں اپنی ذمہ داری نبھانے والا بنا آمین یارب العالمین ۔