جان محمد نے سب کا دل جیت لیا

از:- ناصر رامپوری مصباحی

اگر ایک طرف اتراکھنڈ کے جم ٹرینر دیپک کمار نے انصاف، انسانیت اور محبت کی مثال قائم کی تو دوسری طرف اتراپردیش (متھرا) کے اسکول ہیڈ ماسٹر جان محمد نے اپنی منصبِ ذمہ داری، حسنِ خدمات، حسنِ اخلاق سے تمام اسکول ٹیچرز، تمام اسکول طلبہ و طالبات اور تمام اہلِ بستی کا دل جیت لیا، جب کہ جان محمد کے علاوہ اسکول کے تمام ٹیچرز ہندو ہیں اور طلبہ و طالبات اور بستی کے باشندگان بھی نوے فیصد ہندو ہیں۔

جان محمد کو اسکول میں بچوں کو نماز پڑھانے جیسے فرضی الزام لگا کر معطل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ صبح سویرے بچوں سے راشٹگان بھی نہیں گَواتے ہیں، مگر اسکول کا ہر بچہ، ہر ٹیچر اور گاؤں کا ہر باشندہ ان سارے الزامات کو فرضی اور تعصب کا نتیجہ بتا کر جان محمد کی حمایت میں نہ صرف کھڑا ہو گیا بلکہ سراپا احتجاج بن گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ متعلقہ محکمہ کے افسران کو آناً فاناً اُنہیں سارے الزامات سے بری قرار دے کر باعزت بحال کرنا پڑا۔

حیرت کی بات یہ رہی کہ اسکول کا ایک بھی بچہ، ایک بھی بچہ کا ایک بھی ماں باپ، اسکول کا ایک بھی ٹیچر اور گاؤں کا ایک بھی فرد جان محمد سے نہ صرف یہ کہ غیر شاکی اور خوش نکلا بلکہ سب کے سب بضد ہو گئے کہ جان محمد کو جلد سے جلد بحال کیا جائے اور اسی اسکول میں بحال کیا جائے اور اس مطالبہ کو لے کر گاؤں کے قریب پانچ سو لوگ متعلقہ محکمہ اور ڈی ایم آفس تک پہنچ گئے، بلکہ دھکمی دینے لگے کہ اگر جان محمد کو جلد بحال نہیں کیا گیا تو ہم روڈ جام کر دیں گے۔

گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ جان محمد اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں اور وہ آندھی ہو یا بارش نہایت پابندی سے اسکول آتے ہیں، صبح سب سے پہلے آتے ہیں اور خود اسکول کھولتے ہیں اور چھٹی کے بعد سب سے آخر میں گھر جاتے ہیں، ایک خاتون نے کہا کہ اسکول وقت میں میرے بچے کو کچھ بخار ہوا تو جان محمد خود بچے کو لے کر ڈاکٹر سے دوا دلانے پہنچ گئے، اور جب اُن سے کہا گیا کہ آپ نے اتنی زحمت کیوں کی، آپ بچہ کو گھر بیجھ دیتے، تو اُنہوں نے کہا کہ ایک بھی بچہ جب تک میرے اسکول میں ہے وہ مکمل میری نگرانی اور ذمہ داری میں ہے، جب تک بچہ اسکول میں ہے میں اس کا ٹیچر بھی ہوں اور ماں باپ بھی۔

دراصل اس ملک کو دیپک جیسے ہندو اور جان محمد جیسے مسلمان کی ضرورت ہے، ایسے ہی لوگ ہمارے ملک کی دو آنکھیں ہیں، بھارت کے دو انمول رتن ہیں، ہمارے ملک کے ہیرے ہیں، بالخصوص ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم سب اپنے وطنِ عزیز کے لیے جان محمد بن جائیں، اگر ہم جان محمد بن گئے تو آندھیاں ہی چراغ کی حفاظت کریں گی، آج کے حالات میں ہمارا جان محمد بننا نہ صرف ہمارے ملی تحفظ و سرخ روئی کے لیے ضروری ہے بلکہ بہترین دعوتی حکمت بھی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔