جدید دور میں سماجی تبدیلیوں پر نظر رکھنا ناگزیر

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

علم و تحقیق ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو صرف بلند مرتبہ اور فضل و کمال سے ہی نہیں نوازتا ہے بلکہ انسانی سوچ و فکر اور اس کے نظریہ میں بھی مثبت تبدیلی لاتا ہے ۔ علم و تحقیق اور فکر و نظر سے مسلح شخص کی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ عہد حاضر کے سماجی ، سیاسی اور اقتصادی مسائل پر گہرائی سے نظر رکھتا ہے ۔ سماجی تبدیلیوں پر اپنی رائے رکھنے کا اہل ہوتا ہے اور پیچیدہ مسائل میں قوم و ملت کی صالح خطوط پر رہنمائی بھی کرتا ہے اس لیے یہ بات پوری طرح درست ہے کہ علم و تحقیق کی اہمیّت اور اس سے مرتب ہونے والے مثبت اثرات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جب ہم اصحاب علم وفضل اور علماء و دانشوروں کی تحریروں ، مقالات ، کتابوں اور بیانات کو دیکھتے ، سنتے اور پڑھتے ہیں تو اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم اور سماج و معاشرے میں ہم آہنگی اور بقائے باہم کے فروغ کے لیے مخلصانہ جدو جہد کی ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہم علماء اور ارباب دانش و بینش کے ان اقدامات کو نظر انداز کردیتے ہیں جن سے معاشرتی ہم آہنگی قائم ہو اور ان باتوں کو فروغ دینے یا معاشرے میں نشر کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے جو سماجی تفریق اور انتشار و خلفشار کا باعث بنتی ہیں ۔ یاد رکھیے! مطالعہ اور تحقیق ایک ایسا گوہر حیات ہے جو صحیح معنوں میں متوازن نظریہ قائم کرنے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس تناظر میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ
علماء اور دانشوروں کا کردار ہمیشہ نمایاں اور مثالی رہا ہے۔ وہ نہ صرف علم و تعلیم کے علمبرداررہے ہیں بلکہ معاشرے میں اتحاد و یگانگت ، انسانی احترام اور اجتماعی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں بھی رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں۔ علماء و اصحاب علم نے ہمیشہ مذہبی یا فرقہ وارانہ تعصب کے خلاف آواز بلند کی اور لوگوں کو یہ باور کرایا کہ اختلافات کو مکالمہ، علم اور اخلاقی اصولوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں علماء نے مختلف مذاہب اور فرقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور معاشرے میں امن و بھائی چارے کی فضا قائم رکھی۔ مثلا مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اپنے علمی کاموں اور تحریروں کے ذریعے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دیا۔ ان کی کتابیں اور تقریریں مسلمانوں کو نہ صرف مذہبی اصولوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی خدمت کے جذبے پر بھی ابھارتی ہیں ۔ اسی طرح مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے علم، تقویٰ، سیاسی بصیرت اور عملی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں اور برصغیر کی دیگر قوموں کو آزادی اور اتحاد کا پیغام دیا۔ مولانا مدنی کی زندگی کا مقصد صرف دینی تعلیم کی اشاعت تک محدود نہ رہا بلکہ آپ نے میدانِ سیاست اور سماجیات میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ خاص طور پر آپ نے اتحاد اور یکجہتی کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ تاریخ ہند میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
مولانا مدنی اس بات کے قائل تھے کہ ہندوستان ایک مشترکہ وطن ہے، جہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقات صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن کی بنیاد پر تمام باشندے ایک قوم کہلا سکتے ہیں۔ یہی نظریہ "متحدہ قومیت” کے نام سے مشہور ہوا۔ مولانا مدنی نے انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے ہندو مسلم اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ دونوں بڑی قومیں ایک پلیٹ فارم پر آئیں تو آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ آپ نے ہر اس کوشش کی مخالفت کی جو قوموں کو تقسیم کرے اور تفرقے کو بڑھائے۔ اسی طرح علامہ اقبال نے اپنے کلام میں صرف مذہبی تعلیمات نہیں دیں بلکہ اتحاد و یکجہتی، محبت انسانیت، اور اجتماعی فلاح و بہبود کے اصولوں پر زور دیا۔ اقبال کے نظریات نے برصغیر میں مسلمانوں اور دیگر معاشرتی گروہوں کے درمیان مشترکہ انسانی اقدار اور بھائی چارے کو اجاگر کیا۔
مولانا مودودی نے بھی اپنی تحریروں میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ اخلاقی اصولوں کو فروغ دیا اور لوگوں کو یہ باور کرایا کہ مذہب کی اصل روح امن، محبت اور انسانیت کی خدمت ہے۔ ان کے کام نے مختلف فرقوں کے درمیان نفرت اور تعصب کم کرنے میں مدد دی اور معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا۔
اسی طرح دانشور، جو دنیاوی علم، فلسفہ، ادب، تاریخ اور سائنس کے ماہر ہوتے ہیں، معاشرتی اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، مقالات اور تحقیقی کاموں کے ذریعے عوام میں فکری بیداری، تحمل اور سماجی شعور پیدا کیا۔ برصغیر میں کئی دانشور اور مفکرین نے آزادی کی تحریک، معاشرتی اصلاحات اور قومی اتحاد میں نمایاں کردار ادا کیا، جس سے مختلف فرقوں اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی قائم رہی۔ مثال کے طور پر، رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی شاعری اور ادبی تخلیقات کے ذریعے انسانی محبت، بھائی چارہ اور عالمی بھائی چارے کا پیغام دیا۔ ٹیگور نے مذہب اور قوم کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے انسانیت کی مشترکہ اقدار پر زور دیا، جس سے معاشرت میں ہم آہنگی اور رواداری کا فروغ ہوا۔
جواہر لال نہرو نے اپنے علمی اور سیاسی کاموں کے ذریعے مختلف ثقافتی اور مذہبی گروہوں کے درمیان قومی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے سیاسی نظریات اور تحریریں عوام میں مشترکہ قومی شعور پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بنیں، جس سے آزادی کی تحریک میں تمام فرقے اور طبقات متحد ہو سکے۔
مہاتما گاندھی کا فکری اور اخلاقی کردار بھی دانشورانہ پہلو رکھتا ہے۔ گاندھی جی نے عدم تشدد اور محبت کے فلسفے کے ذریعے سوسائٹی میں فرقہ وارانہ نفرت کے بجائے اتحاد کو فروغ دیا۔ ان کے مکالمے، تحریریں اور تحریکیں برصغیر کے مختلف گروہوں کو مشترکہ مقصد یعنی آزادی اور سماجی انصاف کے لیے متحد کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
علماء اور دانشور صرف نظریاتی رہنما نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اتحاد قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام میں اخلاقی تربیت، علمی بصیرت اور انسانی اقدار کے فروغ کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو مستحکم کیا۔ خانقاہوں، ادبی مجالس، تعلیمی اداروں اور تحریکوں کے ذریعے انہوں نے مختلف فرقوں اور طبقات کے درمیان مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ دیا۔ 1857 کی جنگ آزادی اور آزادی کی تحریک 1905-1947 میں علماء اور دانشور دونوں نے اپنے علمی اور اخلاقی کردار کے ذریعے عوام کو مذہب، ذات یا زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے روکا اور ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے متحد کیا۔ آج کے جدید دور میں، جہاں دنیا اور ملک میں مذہبی، سماجی اور سیاسی اختلافات بڑھ رہے ہیں، علماء اور دانشور کی تعلیمات اور عملی کردار ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اختلافات اور چیلنجوں کے باوجود محبت، احترام، علم اور اخلاقی اصولوں کے ذریعے ایک متحد اور پرامن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ قومی یکجہتی اور بین الاقوامی امن قائم رکھنے میں رہنمائی ملتی ہے ۔
سماجی رابطوں اور قومی مفادات کے فروغ میں جس طرح سے ارباب علم و تحقیق نے ہر دور میں مثالی کردار ادا کیا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی علمی موشگافیوں اور تحقیق کی بنیاد پر معاشرے کی رہنمائی کے لیے ایسے اصول بھی فراہم کیے ہیں جو سماج کے جدید تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں ۔ علم و تحقیق اور علماء و دانشوروں کا یہ کردار جدید دنیا کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ، طویل عرصہ تک اس حوالے سے علماء اور دانشوروں نے مشترکہ طور پر سماجی فلاح و بہبود کے لیے سعی کی، لیکن اب جو منظر نامہ ہے وہ کئی اعتبار سے بڑا خطرناک ہے وہ اس لیے کہ ایک تو ہم نے مذہبی علوم اور دنیوی علوم کے نام پر تفریق و امتیاز پیدا کردیا جس کے نتیجہ میں سماج میں اس طرح کے افراد تیار نہیں ہورہے ہیں جو یک وقت دونوں محاذوں پر قوم و ملت کی رہنمائی کرسکیں ۔ یا عہد وسطی میں جس طرح کی تعلیم و تربیت کا نظم و ضبط ہمارے اداروں میں تھا۔ اس جانب بھی ارباب علم و تحقیق کو خاصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کے نظام تعلیم کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جوں جوں سماج میں تبدیلیاں آتی گئیں اور علماء اور دانشوروں نے ان تبدیلیوں پر کسی طرح کا جائز و ناجائز کا کوئی فتویٰ نہیں لگیا بلکہ اس پر تحقیق و تفتیش کی اور ن سماجی تبدیلیوں میں مثبت پہلوؤں کو تلاش کرکے سماج کے لیے کارگر بنایا ۔ یہ سوچ علماء اور دانشوروں میں ان اداروں نے پیدا کی جن کی روشن تاریخ اور مثالی کارنامے آج بھی ملت و انسانیت کے لیے نمونہ عمل ہیں ۔
جس طرح سے علماء اور دانشوروں نے مل کر سماج میں امن و امان کے فروغ کے لیے جدو جہد کی اور اس کے مثبت نتائج آج تک ہم دیکھ رہے ہیں اسی طرح آج جدید و قدیم کی جو تفریق ہے اسے مٹا کر دونوں طبقوں متحدہ طور پر انسانیت کی فلاح اور قومی بہبود کے لیے کام کرنا ہوگا ۔ دوسری اہم بات یہ ہے آج جس طرح سے مسائل جنم لے رہے ہیں اور ہر روز نئی نئی تبدیلیاں سماج میں واقع ہورہی ہیں ان کے متعلق بھی ارباب علم و دانش کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا تاکہ کوئی ٹھوس اور مثبت نتیجہ نکل سکے ۔ اسی کے ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جدید دور میں نئے مسائل اور ایجادات و اختراعات پر منفی رائے بنانا یا ان کے استفادہ سے قوم کو الگ رکھنا دانش مندانہ اقدام نہیں ہے بلکہ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے دینی ادارے اور وہ ادارے جہاں عصری علوم پڑھائے جاتے ہیں دونوں مل کر بیٹھیں اور پھر کوئی نتیجہ نکالیں ۔ آج کا نوجوان طبقہ ان مسائل کا حل دینی تناظر میں چاہتا ہے جو اس کے سامنے آرہے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں جس کی وجہ آج کتنے نوجوان ایسے ہیں جو شکوک وشبہات میں مبتلا ہورہے ہیں لہٰذا اج کے جملہ سماجی ، سیاسی اور اقتصادی تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا تاکہ ہم بہتر طور پر اسلام کے پیغام کو پہنچا سکیں ۔ اسی طرح دانشوروں کو بھی مذہبی تعلیمات کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں محاذوں پر ہم آہنگی بنی رہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔