خاموش معجزے کا ایک منظر

از: عارف حسین، ایڈیٹر سیل رواں

نئے سال کی آمد عموماً شور، روشنیوں اور ہنگاموں کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ گھڑیاں بارہ بجنے کا اعلان کرتی ہیں، شور بڑھتا ہے اور اسے خوشی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مگر اسی شور کے متوازی کہیں نہایت خاموشی میں ایسے مناظر بھی جنم لیتے ہیں جو وقتی نہیں بلکہ دائمی معنویت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر اس لمحے سامنے آیا جب 2025 خاموشی سے رخصت ہو رہا تھا اور 2026 کسی اعلان کے بغیر آغاز پا رہا تھا۔

اس درمیانی وقفے میں نہ چراغاں تھا، نہ تالیوں کی گونج – بس قرآنِ کریم کی مسلسل تلاوت تھی اور اس کے سامنے جھکی ہوئی وہ سماعت جو جانتی تھی کہ اصل نور آواز میں نہیں، کلام میں ہوتا ہے۔ ایک محدود سے دائرے میں قائم یہ خاموشی دراصل اپنے اندر ایک گہرا پیغام سموئے ہوئے تھی۔

ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم حفظ سنانے کا عمل بظاہر ایک فرد کا کارنامہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک پورے نظامِ تربیت کی گواہی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا ننھا طالبِ علم محمد علی جان ابن محمد بابل (مقام دھرم باڑی، پورنیہ، بہار) اپنے استاد مولانا منظر الاسلام صاحب مظاہری کے سامنے قرآن پیش کر رہا تھا۔ ایک زبان قرآن ادا کر رہی تھی اور دوسری سماعت پورے انہماک سے اسے محفوظ کر رہی تھی۔ یہ محض قرأت نہیں تھی بلکہ علم، محنت، ضبط اور امانت کی ایک زندہ روایت تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2025 ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا ؟

قرآنِ مجید محض ایک مقدس متن نہیں بلکہ ایک زندہ کتاب ہے جو فرد کے باطن کو تشکیل دیتی اور معاشروں کو سمت عطا کرتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” ایک ہی نشست میں پورا قرآن سنانا غیر معمولی حافظے کی مثال ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ اعلان ہے کہ قرآن حافظ کے سینے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کی سوچ، کردار اور شخصیت میں جذب ہو جاتا ہے۔

اس منظر کا ایک نہایت اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا پہلو والدین کا کردار ہے۔ قرآن سے وابستگی محض مدرسے یا استاد کی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی، اس کے پیچھے والدین کی وہ بصیرت کارفرما ہوتی ہے جو وقتی دنیاوی کامیابیوں پر دائمی اقدار کو ترجیح دیتی ہے۔ ایسے والدین جو اپنی اولاد کو محض مسابقتی دوڑ کا حصہ نہیں بلکہ قرآن کا امین دیکھنا چاہتے ہیں، درحقیقت معاشرے کی فکری بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔

اس واقعے کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایک سال کے اختتام اور دوسرے کے آغاز پر پیش آیا۔ گویا ایک سال قرآن کی برکت کے ساتھ مکمل ہوا اور دوسرا بھی اسی نور کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک علامت ہے—کہ اصل کامیابی کیلنڈر بدلنے میں نہیں، بلکہ سمت درست کرنے میں ہے۔

جب دنیا نئے سال کو شور میں خوش آمدید کہہ رہی تھی، اسی وقت خاموشی میں وہ کلام گونج رہا تھا جس نے تاریخ کے دھارے بدلے، تہذیبیں تعمیر کیں اور انسان کو اس کے مقصد سے روشناس کرایا۔ یہی فرق ہے رسم اور روح میں، عارضی جشن اور دائمی وابستگی میں۔

یہ بھی پڑھیں: ایٹمی توانائی قانون: کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

شاید ہمیں اسی خاموشی سے سیکھنے کی ضرورت ہے—کہ ہر روشنی چراغاں سے نہیں آتی، اور ہر خوشی شور کی محتاج نہیں ہوتی۔
سوال یہ ہے:
ہم نئی تاریخوں کا جشن مناتے ہوئے اپنی اولاد کو کس تاریخ سے جوڑ رہے ہیں وہ تاریخ جو صرف کیلنڈر میں لکھی جاتی ہے، یا وہ تاریخ جو قرآن انسان کے دل اور کردار میں رقم کرتا ہے؟

اللہ تعالیٰ اس ننھے حافظ کو قرآن کا سچا امین بنائے، اس کے علم میں رسوخ، عمل میں اخلاص اور کردار میں استقامت عطا فرمائے۔

استاذ محترم کو جزائے خیر دے کہ جن کے اخلاص، صبر اور توجہ سے قرآن سینوں سے سینوں تک منتقل ہو رہا ہے، اور ان کے علم و فیض کو تا دیر جاری و ساری رکھے۔
والدین کی اس قربانی، بصیرت اور اعتماد کو شرفِ قبولیت بخشے جنہوں نے دنیا کی دوڑ میں قرآن کو ترجیح دی، ان کے لیے یہ انتخاب دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنے۔ اور جس مدرسے کی آغوش میں یہ قرآنی خدمت پروان چڑھ رہی ہے، اسے علم، اعتدال اور خیر کا مستقل مرکز بنائے، جہاں سے قرآن صرف پڑھایا ہی نہ جائے بلکہ جیا بھی جائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔