از:- ظفر امام قاسمی دارالعلوم بہادرگنج، کشن گنج
___________________
یوں تو عام انسانوں کا خواب شریعت میں حجت کا درجہ نہیں رکھتا، اور نہ ہی اس کے ذریعے کوئی شرعی حکم لاگو ہوسکتا ہے،تاہم کچھ خواب ایسے سچے اور تعبیر آمیز ہوتے ہیں کہ مجھ جیسے خطاکار انسان کے لئے اس کی فوری تعبیر پر یقین کرنا کچھ مشکل سا ہو جاتا ہے،ایسے ہی ایک حالیہ خواب کی سچی تعبیر نے نہ صرف مجھے خوشیوں سے لبریز کیا بلکہ الحمدللہ میری ایک بہت بڑی ضرورت بھی پوری کردی۔
عید کی دوسری صبح میں اپنے مزرعہ میں کسی کام میں لگا ہوا تھا، تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ پاس کے مزرعے سے ہمارے گاؤں کی ایک دبلی پتلی سی عورت ساڑی کے پلو کو درست کرتی ہوئی شرماتی لجاتی میرے قریب آئیں،اور آکر پہلے اِدھر اُدھر کی سنانے لگی،یہ شاید ان کے مقصد کی تمہید تھی اور وہ یہ سب بول کر اپنے اندر کی ہمت مجتمع کر رہی تھیں (حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہ تھی) میرے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ کسی مقصد کے تحت آئی ہیں (کیونکہ اس سے دو دن پہلے میں نے ان کے یہاں بھی ایک رمضانی کِٹ پہنچایا تھا) کچھ دیر کے بعد کہنے لگیں:بابو کافی پریشانی سر پر آن پڑی ہے،تمہارے مامو (ان کے شوہر جو ایک پیشہ ور مزدور ہیں) تمہارے پاس کئی بار گئے مگر تم ملے نہیں،ہمیں پانچ ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے،کیونکہ آندھیوں کا موسم آ رہا ہے،گھر کافی خستہ حالی کا شکار ہے،اس کی مرمت کرنی ضروری ہے،کوئی اُپائے نظر نہیں آ رہا ہے،ناچار تمہارے پاس ہاتھ پھیلانے آئی ہوں“۔
ویسے اس دور کے لحاظ سے ان کے گھر کو گھر کہنا بجائے خود ”گھر“ کی توہین ہے،ٹین کی چدریوں سے گھرا قدآدم کے بقدر اس گھر کو سنیاسیوں کی کٹیا کہا جائے تو زیادہ موزوں ہے کہ اگر لامبا آدمی وسط میں کھڑا ہوجائے تو سر ٹین کی چھت سے جاکر لگے،اور یہ گھر بھی جمعیة والوں کی دین ہے،جب 2017ء کا تباہ کُن اور ہوش رُبا سیلاب آیا تھا تو تالاب کے کنارے بنا ان کا گھر سیلاب کی موجوں کی نذر ہوگیا تھا،اور کئی دن تک کے لئے ان کے سر کا سایہ بھی چھن گیا تھا،پھر جمعیة علماء کشن گنج کی کرم فرمائی سے انہیں ٹین کی چدریوں کی ایک کٹیا ملی جو اب امتدادِ ایام اور مرورِ سال کے ساتھ خستہ حالی کی شکار ہوچکی ہے،جس کی مرمت کی غرض لیکر وہ میرے پاس آئی تھیں،میں نے ان سے کہا:دیکھئے مامی! فی الحال تو میرے پاس پیسے نہیں ہیں،اور میں ابھی مدرسے کے چندے سے فارغ بھی نہیں ہوا ہوں،میں کچھ دنوں بعد کوشش کروں گا“ میں نے صاف طور پر محسوس کیا کہ ”کچھ دنوں بعد“ کا سن کر ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا،مایوسی کی ایک باریک سی لکیر ان کے چہرے پر پھیل گئی،لیکن وہ مجھ سے زبردستی بھی نہیں کرسکتی تھیں” اچھا بابو جلدی کوشش کرنا“ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھیں اور آہستگی کے ساتھ اپنے مزرعہ کی طرف مڑگئیں۔
کٹسوں کی تقسیم کے بعد ابھی میں تھوڑا پُرسکون ہوا ہی تھا کہ اس نئے تقاضے نے مجھے پھر سے بےآرامی کی دلدل میں دھکیل دیا،دماغ کی نسیں برق رفتاری کے ساتھ پھر سے اس مخلص انسان کی تلاش میں لگ گئیں جو میری ٹینشن کو دور کرسکے لیکن اس برق رفتاری کے آگے کوئی نام ٹھہرتا ہی نہیں تھا،ناچار وہاں سے اٹھا اور سوچ و فکر کو اگلے وقت کے لئے مؤخر کرکے گھر کی طرف چل دیا، گھر پہنچا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی کانوں سے لگایا تو سامنے خالہ کی آواز میرے انتظار میں تھی، علیک سلیک کے بعد خالہ نے کہا:سنا ہے کہ تم ضرورت مندوں کے کبھی کبھی کام آجایا کرتے ہو،ایک ایسی ہی ضرورت مند عورت میرے پاس بھی ہے گو کہ وہ غیر مسلم ہے مگر واقعی ضرورت مند ہے،اس کے پاس ٹیبویل (پانی کا نلکا) نہیں ہے،دوسروں کے یہاں جاتی ہے تو وہ گھرکیاں سناتے ہیں،میں نے تمہارے بارے میں اس سے کیا کہہ دیا،اب وہ بار بار میرے پاس آجاتی ہے،اگر گنجائش نکلے تو ذرا یاد رکھنا“ لو جی! ابھی ایک کا ہی معاملہ حل نہ ہوا تھا کہ دوسرا معاملہ سر پر آن پڑا، معاملہ بھی ایک غیر قوم کا،دل نے کہا کہ اگر اس کی ضرورت پوری کرکے نہ دوگے تو بےچاری کہاں جائےگی،اس کی قوم والوں نے مدد نہ کی تب ہی تو وہ تیرے پاس آئی ہے،میں خالہ کو کیا کہتا بس ان کے سامنے میں بھی امید کا ایک دِیا جلاکر چھوڑ دیا جو اب تک ٹمٹما رہا ہے۔
کیا کروں کیا نہ کروں؟ اسی ادھیڑ بن میں دو تین دن گزر گئے، ایک رات میں خوابِ نوشیں کی آغوش میں تھا،معلوم نہیں رات کا کون سا پہر تھا کہ میں نے دیکھا کہ بہادرگنج کے ”بدر الیکٹرانک“ کے مالک جناب بھائی الماس بدر میرے خواب میں آئے اور انہوں نے مجھے پندرہ ہزار روپے دئے،پھر پتہ نہیں کیوں مجھ سے انہوں نے پانچ ہزار واپس لے لئے،میرے پاس وہ دس ہزار روپے رہ گئے جن کی مجھے ضرورت تھی، میں بےحد خوش ہوا کہ چلو کام بن گیا،خواب ہی میں بہت سی دعائیں بدر بھائی کے لئے نکلیں،پھر جب آنکھیں کھلیں تو نہ وہاں پیسے تھے نہ بدر بھائی،وہ سب تو میری آنکھوں کے کھلتے ہی سراب بن چکے تھے،تاہم چونکہ بدر بھائی نے پچھلے سال اپریل کے مہینے میں میری چھوٹی سی درخواست پر کسی بیوہ کی بیٹی کی شادی کے لئے نہ صرف دس ہزار روپے کا تعاون کیا تھا بلکہ بڑا دل دکھاتے ہوئے کہا تھا: اگر کبھی اس طرح کی بات ہو تو مجھے یاد کیجیےگا،اِس خواب نے امیدبراری کا ایک چراغ میرے سامنے جلاکر رکھ دیا تھا اب اس کی روشنی میں مجھے آگے بڑھنا تھا،مگر فطری حجاب اور شرمندگی تھی کہ مانع بن رہی تھی۔
دو تین دن مزید گزرے،ایک رات ابھی سونے کے لئے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ پاس میں لیٹے ہوئے میرے عزیز بھانجے شادمان سلمہ نے مجھ سے کہا:مامو آپ ٹرسٹ کیوں نہیں بنالیتے اس سے کام کرنے میں آسانی ہوگی“ میں نے اس سے کہا:ہاں بھانجے ارادہ تو کافی پہلے سے ہے، تاہم اسے عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں ہو رہی کہ ع۔۔۔ بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔
اس کی اِس بات سے مجھے اپنا خواب یاد آیا اور بہ ہمتِ تمام ایک لمبی سی تمہید،خواب کی روداد اور بہت سی دعاؤں کے ساتھ بدر بھائی کو ایک وائس رکارڈنگ ارسال کردی،باوجودیکہ بدر بھائی اُس وقت کافی پریشانی کے عالم میں تھے،ان کا ننھا سا بیٹا عفیف بدر اور چھوٹی سی بچی عائزہ چیچک کی تکلیف میں مبتلا تھے،اپنے بچوں کی پریشانی کے سامنے وہ بےبس بنے ہوئے تھے،(مجھے اس کا علم بعد میں ہوا تھا) بدر بھائی نے نہ صرف میری ریکارڈنگ سنی بلکہ اسی وقت 5000 روپے اس پیغام کے ساتھ ارسال کردئے کہ:ابھی بچوں کو لے کر تھوڑا پریشان ہوں فی الحال یہ پانچ ہزار رکھیں پانچ تاریخ کے بعد ان شاء اللہ پھر کچھ بھیج دوں گا“واللہ اس وقت میری خوشی کا جو عالم تھا میرے الفاظ اس کے اظہار سے عاجز و درماندہ ہیں،مجھے یوں لگا جیسے میرے دامن میں ہفت اقلیم کی بادشاہت آکر سماگئی ہو،میں نے اللہ کا بےپناہ شکر ادا کیا اور دعاؤں کے دامن کو بدر بھائی کے لئے پھیلا دیا۔
بدر بھائی بہادرگنج کا ایک معروف نام ہیں،ضلع بھر کے لوگ اس نام سے واقف ہیں،اللہ پاک نے خوش اخلاقی،مروت،ہمدردی اور فداکاری ان کے اندر کوٹ کر بھری ہے،علماء سے وہ والہانہ لگاؤ اور عقیدت رکھتے ہیں،اللہ پاک نے ان کو جتنا خوش حال بنایا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کے سینے میں ایک خوبصورت دل بھی رکھا قہے جو دردمندوں اور بےکسوں کے لئے دھڑکتا رہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں ہی انہوں نے اپنی پہچان بنا لی ہے،خدائے پاک انہیں مزید ترقی کی دولت نصیب کرے اور دونوں جہاں کی بامرادیوں سے ان کے دامن کو بھردے،ان کے بچوں کو صحت عافیت کے ساتھ لمبی عمر عنایت کرے، آپ سے درخواست ہے کہ آپ جب بہادرگنج آئیں تو اپنی خدمت کے لئے بدر الیکٹرانک کا ضرور انتخاب کریں۔
اگلی صبح میں نے وہ پیسے چپکے سے اس ضرورت مند انسان کی مٹھی میں رکھ دئے،اس وقت ان کی حالت دیدنی تھی،کبھی وہ مجھے دیکھتے اور کبھی پیسوں پر نظریں جماتے،ایک دلکش سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی تھی اور زیرِ لب یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئے تھے کہ:بہت شکریہ بھانجے،بہت پریشانی میں تھے،تمہارے ذریعے سے یہ پریشانی دور گئی“۔
میں نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ کسی حد تک ایک ضرورت مند انسان کی پریشانیوں کے ازالے کا سبب بنا،تاہم اب بھی اس غیر مسلم عورت کے ٹیبویل کی ٹینشن سر پر سوار ہے،اسلام میں بےضرر غیرقوم کی نصرت و اعانت کی تعلیم بھی دی گئی ہے،اگر آپ قارئین میں سے کوئی ایک مکمل ٹیبویل یا اس کی قیمت کا کچھ حصہ ادا کرکے اپنے نامۂ اعمال کی نیکیوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو مجھ سے ذیل کے نمبر پر رابطہ کریں اور ہوسکے تو اسی نمبر پر اپنے حصہ کی رقم ڈال کر اسکرین شاٹ بھیجیں،ان شاء اللہ آپ کی یہ اعانت رائیگاں نہیں جائےگی،اگر چالیس پچاس لوگوں نے بھی سو سو کرکے بھیج دئے تب بھی کام ہوجائےگا۔مجھے امید ہے کہ اور کاموں کی طرح میرا یہ کام بھی پورا ہوگا ان شاء اللہ۔ جزاکم اللہ