خوشبو پروین کی شاعری: روایت، تخلیقیت اور احساسات کا سنگم

تحریر: ابوشحمہ انصاری

سعادت گنج، بارہ بنکی

اردو شاعری کی سرزمین ہمیشہ ایسی آوازوں کی متلاشی رہی ہے جو روایت کے احترام کے ساتھ نئی معنویت، تازہ احساس اور عصری شعور کو ہم آہنگ کر سکیں۔ ایسے ہی تخلیقی منظرنامے میں خوشبو پروین کی شاعری ایک الگ پہچان کے ساتھ سامنے آتی ہے، جہاں لفظ محض اظہار نہیں بلکہ احساس کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کی تخلیقات میں جذبوں کی سچائی، فکری گہرائی اور فنی شعور اس طرح باہم پیوست نظر آتے ہیں کہ قاری خود کو محض قاری نہیں بلکہ شریکِ احساس محسوس کرتا ہے۔

ادبی سفر کے اسی ابتدائی مرحلے میں خوشبو پروین نے یہ واضح کر دیا کہ وہ روایت کی محض پیروکار نہیں بلکہ اس روایت میں نئی سانس پھونکنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔ 30 نومبر 1993 کو مونگیر میں پیدا ہونے والی خوشبو پروین کی شخصیت پر ان کے گھریلو اور تعلیمی ماحول کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ والد محمد نظام الدین قریشی اور والدہ روشن خاتون کی توجہ، تربیت اور تعلیم سے رغبت نے ان کے اندر مطالعے، تفکر اور تخلیق کا وہ ذوق پیدا کیا جو آگے چل کر شاعری کی صورت میں ڈھلتا گیا۔

تعلیم کے میدان میں خوشبو پروین کی سنجیدگی اور محنت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ میٹرک میں گولڈ میڈل حاصل کرنے سے لے کر یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایم فل تک اور پھر یونیورسٹی آف دہلی میں “اردو رباعی: فن اور امکانات” جیسے اہم موضوع پر پی ایچ ڈی کی تکمیل، یہ سب ان کے علمی شوق اور تحقیقی بصیرت کی روشن مثالیں ہیں۔ رباعی جیسی مختصر مگر گہری صنف کو موضوعِ تحقیق بنانا خود اس بات کا اعلان ہے کہ خوشبو پروین روایت کو دہرانے کے بجائے اس کے امکانات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کم عمری ہی میں اردو کلاسیکی ادب سے شغف نے خوشبو پروین کے اندر شاعری کا چراغ روشن کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا مجموعۂ رباعیات “خوشبو کی آواز” (نومبر 2018) محض ایک کتاب نہیں بلکہ ان کے فکری اور فنی سفر کی پہلی مضبوط دستک ثابت ہوا۔ اس مجموعے میں رباعی کی کلاسیکی ساخت کے اندر عصری شعور، نسائی احساس اور سماجی سچائی پوری قوت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔

رباعیات میں خوشبو پروین کی آواز بے باک بھی ہے اور باوقار بھی۔ ان کے یہاں احتجاج بھی ہے اور خودداری بھی۔ ایک نظر ان کی رباعیات پر ڈالیں تو یہ کیفیت نمایاں ہو جاتی ہے:
قدم قدم پر ہو جائے گا پھر میرا انکار شروع
گھر سے نکلی تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع
آخر دم تک مرد نے رشتہ کاروباری رکھا
نقد جہیز لیا تھا لیکن مہر ادھاری رکھا
بس تم کو بازار کی رونق راس آتی ہے
میں گھر کو بازار بنا دوں، کیا کہتے ہو
ان رباعیوں میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، نسائی شعور اور سماجی منافقت پر گہری ضرب صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ خوشبو پروین رباعی کو محض فنی مشق نہیں بناتیں بلکہ اسے فکری اور احتجاجی اظہار کا ایک موثر وسیلہ بنا دیتی ہیں۔

نومبر 2023 میں شائع ہونے والا غزلوں کا مجموعہ “جانِ شوریدہ” خوشبو پروین کے تخلیقی سفر کا ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ اس مجموعے میں غزل کی روایت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، مگر ساتھ ہی احساسات کی تازگی اور موضوعات کی وسعت بھی نمایاں ہے۔ عشق، ہجر، ذات کی کشمکش اور سماجی حقیقتیں ان کی غزلوں میں ایک نئے رنگ اور نئے لہجے کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔

غزل میں خوشبو پروین کا نسائی لہجہ کمزور یا محتاط نہیں بلکہ پُراعتماد اور توانا ہے۔ ان اشعار میں یہی کیفیت پوری شدت کے ساتھ جھلکتی ہے:
میں دھمکیوں بھرا پنجہ مروڑ سکتی ہوں
مجھے بھی حق ہے کہ میں تجھ کو چھوڑ سکتی ہوں
کسی کی بدتمیزی پر تمانچہ جڑ بھی سکتی ہے
جو لڑکی دکھ بیاں کرتی ہے، اک دن لڑ بھی سکتی ہے
جینا تنگ ہوا تو شہرِ دل سے ہجرت کر سکتی ہوں
جتنا پیار کیا ہے اس سے بڑھ کر ہجرت کر سکتی ہوں
یہ اشعار محض جذبات کا بیان نہیں بلکہ عورت کے شعور، خود مختاری اور فیصلہ کن قوت کا اعلان ہیں۔ یہاں خوشبو پروین روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بغاوت کی شائستہ زبان وضع کرتی نظر آتی ہیں۔
غزل کے فنی حسن اور جمالیاتی پہلوؤں کو بھی خوشبو پروین نے نہایت لطیف انداز میں برتا ہے۔ ان اشعار میں تخیل، موسیقیت اور احساس کی ہم آہنگی قابلِ توجہ ہے:
حاجت ہی نہیں داد کی محرابِ بدن کو
انگڑائی ابھی لذتِ زنجیر میں گم ہے
اب اور کسی لمس کے چھڑکاؤ کی حاجت
واللہ معطر ہوں میں خود اپنے بدن میں
رانجھا بنا پھرتا ہے کوئی ہیر میں گم ہے
ہر شخص یہاں خواب کی تعبیر میں گم ہے
اس نے لکھا تصویر پہ میری بادل سے نکلا آدھا چاند
آدھا چہرہ کھلا ہوا ہے، آدھے پر ہیں گیسو آئے
یہاں خوشبو پروین کی تخلیقی قوت پوری نزاکت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے، جہاں لفظ خوشبو بن کر قاری کے احساس میں سرایت کر جاتا ہے۔

تنقیدی میدان میں خوشبو پروین کی کتاب “بیانِ رباعی” (2024) ان کی سنجیدہ علمی کاوش کا ثبوت ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے رباعی کی تاریخ، فنی ساخت، موضوعاتی تنوع اور جدید امکانات پر نہایت مدلل گفتگو کی ہے۔ یہ کام محض تحقیق نہیں بلکہ رباعی کے فن سے ان کی فکری وابستگی کا آئینہ دار ہے۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں خوشبو پروین کو سبھدرا کماری چوہان ایوارڈ اور مولانا اسمعیل میرٹھی ایوارڈ جیسے اعزازات سے نوازا جانا اس حقیقت کی دلیل ہے کہ ان کا کام محض تخلیقی ہی نہیں بلکہ ادبی منظرنامے میں معتبر بھی ہے۔
مجموعی طور پر خوشبو پروین کی شاعری روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑی ایک مضبوط اور باوقار آواز ہے۔ ان کے یہاں احساس کی صداقت، فکر کی گہرائی اور اظہار کی خوبصورتی اس طرح یکجا ہو جاتی ہے کہ قاری متاثر ہونے کے ساتھ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خوشبو پروین کا تخلیقی سفر ابھی جاری ہے اور ان کے فن میں مزید وسعت، گہرائی اور نکھار کے امکانات روشن ہیں۔ اردو ادب کو ان سے ایسی تخلیقات کی امید ہے جو روایت کی پاسداری کے ساتھ نئے عہد کی معتبر آواز بھی بن سکیں۔

✓ مضمون نگار آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔