نیپال: سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی گرفتار، ’جنریشن زیڈ‘ احتجاج پر کریک ڈاؤن کا معاملہ

کھٹمنڈو، نمائندہ خصوصی:

نیپال کے سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کو ہفتہ کے روز گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر گزشتہ سال ہونے والے "جنریشن زیڈ” احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر طاقت کے بے جا استعمال اور ہلاکتوں کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

یہ گرفتاری ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے محض ایک روز قبل ہی نیپال کے نئے وزیرِاعظم بالین شاہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ نئی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی انصاف اور احتساب کے عمل کو تیز کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

سابق وزیرِ داخلہ بھی حراست میں

پولیس نے اس کارروائی کے دوران سابق وزیرِ داخلہ رمیش لیکھک کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

’جنریشن زیڈ‘ احتجاج: پس منظر

واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں نیپال بھر میں نوجوانوں کی قیادت میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں “جنریشن زیڈ پروٹسٹ” کہا جاتا ہے۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

تحقیقاتی رپورٹوں میں اس وقت کی حکومت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ حالات کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہی اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

"یہ انتقام نہیں، انصاف ہے”

نئی حکومت کے وزراء کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی سیاسی انتقام کا حصہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی عہدے یا جماعت سے ہو۔

نیپال کی سیاست میں نیا موڑ

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گرفتاری نیپال کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ایک طرف نوجوان قیادت ابھر رہی ہے تو دوسری جانب سابق حکمرانوں کے احتساب کا عمل بھی تیز ہو رہا ہے۔

بالین شاہ کی قیادت کو بھی ان عوامی احتجاجوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ملک میں سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔