از:- محمد ناظم اشرف
دہرہ دون ، اتراکھنڈ
درسِ نظامی کی تعلیم کا آخری مرحلہ عموماً رجب المرجب میں مکمل ہو جاتا ہے، اور رجب کے آخری ایام یا شعبان کے آغاز میں امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان مدارس میں جہاں دورۂ حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں ختمِ بخاری، کہیں ختمِ مشکاۃ اور بعض مقامات پر ختمِ کلامُ اللہ کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ خوشی اور شکر کا موقع ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مبارک تقریبات بتدریج اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور ان میں ایسی رسم و رواج اور خرافات شامل ہو چکی ہیں جو دینی مزاج اور تقدسِ مسجد کے بالکل منافی ہیں,
چند ہی برسوں میں صورتحال اس نہج تک پہنچ گئی ہے کہ ختمِ بخاری کے پروگرام میں دستارِ فضیلت حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ وہ سب کچھ ہونے لگا ہے جو عموماً دنیوی تقریبات کا خاصہ ہوتا ہے، گھر والوں کی آمد، ہار پہنائے جانا، گلدستے پیش کرنا، گاڑیاں سجانا، اور پھر گاڑیوں کی چھت پر کھڑا کر کے جلوس کی صورت میں لے جانا ، یہ سب مناظر اب مدارس کے نام پر دیکھے جا رہے ہیں، طلبہ ہاتھ ہلاتے ہوئے گزرتے ہیں، ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، تصاویر لی جاتی ہیں اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا جاتا ہے۔
ان سارے اعمال میں نہ مسجد کا احترام باقی رہتا ہے، نہ نماز اور عبادت کا وقار باقی رہتا ہے اور نہ ہی علم و علماء کی وہ سنجیدگی جو ہمارے اسلاف کا امتیاز تھی ان تقریبات میں باقی رہی، مسجد جو ذکر و عبادت کا مرکز ہے، ایک تماشہ گاہ بنتی جا رہی ہے، حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جن خرافات پر علماء کرام شادیوں اور سماجی تقریبات میں جا کر تنبیہ کرتے ہیں، وہی امور اب مدارس اور مساجد کے اندر انجام دیے جا رہے ہیں یعنی ویڈیو گرافی، ہار پہنائے جانا، گاڑیوں کا جلوس، ہنگامہ آرائی اور غیر ضروری مرد و زن کا اختلاط …………
ایسے افسوس ناک حالات پر سوال یہ ہے کہ ہم امت کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر ان سب چیزوں کو دینی اعزاز کا نام دے کر جائز سمجھ لیا جائے، تو پھر وہ لوگ جو دین سے دور یا بیزار ہیں، اگر شادیوں میں یہی سب کچھ کریں، دلہے کو ہار پہنائیں، گاڑیاں سجائیں، شور شرابا کریں، ویڈیوز بنائیں ، تو ان پر اعتراض کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم خود اصلاحِ معاشرہ کے دروازے بند اور بگاڑ کے راستے کھول رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ آج شادیوں میں جو غیر معمولی اور خلافِ شرع رسمیں رائج ہو چکی ہیں، ان کے لیے کہیں نہ کہیں دینی حلقوں کی اس بے احتیاطی نے بھی راستہ ہموار کیا ہے۔ کم از کم مدارسِ دینیہ کو تو اس معاملے میں مثال بننا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ وہاں بھی یہی رنگ چڑھنے لگا ہے۔
اس لیے نہایت ضروری ہے کہ ختمِ بخاری، ختمِ مشکاۃ اور ختمِ قرآن جیسے بابرکت اور مقدس مواقع کو نہایت سادگی، وقار اور سنجیدگی کے ساتھ انجام دیا جائے، اگر ان تقریبات پر مکمل پابندی ممکن نہیں، تو کم از کم انہیں درس کے اندر، درس کے دوران، سادہ انداز میں مکمل کر دیا جائے۔ جس طالب علم نے قرآن مجید مکمل کیا ہے، کسی بڑے عالم یا اللہ والے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھوا دیا جائے، دستارِ فضیلت دے دی جائے ، بس! نہ بڑے مجمع کی ضرورت، نہ دعوتوں کی، نہ ہی کسی شور و ہنگامے کی چند حاجت ہے۔
کئی برس قبل حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت بصیرت کے ساتھ یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ ختمِ بخاری کے یہ موجودہ پروگرام بدعت کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، لہٰذا ان پر نظرِ ثانی ضروری ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ جو استاد پورا سال بخاری شریف پڑھاتا ہے، وہی اس کا ختم بھی کرا سکتا ہے اور وہی دعا بھی کرا سکتا ہے۔ اسی کی دعا پر اختتام ہونا چاہیے۔ محض کسی بڑے نام یا معروف شخصیت کو بلا کر، غیر ضروری اجتماع، دعوتیں اور اہتمام کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی مفید ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان تقریبات میں خواتین کی شمولیت، مرد و زن کا اختلاط اور میلے ، ٹھیلے کی صورت اور ایک دوسرے کی ویڈیوز بنانا، اور پورے مدرسے کا میلہ گاہ بن جانا ، یہ سب کچھ مدرسے کے احاطے میں کیا جانا، جس کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں، یہ امور نہ صرف شرعاً قابلِ اعتراض ہیں بلکہ دینی اداروں کی ساکھ اور وقار کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہیں۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مدارسِ دینیہ اس صورتِ حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، ان خرافات سے بچنے کا پختہ عزم کریں، اور اپنی تقریبات کو علم، تقویٰ اور سادگی کے سانچے میں واپس لائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ، اخلاص کے ساتھ عمل اور علم دین اور مساجد و مدارس کی عزت و عظمت کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین