میری پہچان ہندوستان

از:- سہیل لقمان تیمی
گڈا ،جھارکھنڈ

ــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہندوستان میرا عزیز وطن ہے، اسے اس دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا شرف حاصل ہے، جب بھی میں اپنے اس عزیز وطن کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا دل خوشی سے مچل جاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی سر سجدے میں گر پڑتا ہے کہ آج میرا یہ عزیز وطن آزاد ہے، اس آزاد وطن میں میں آزاد ہوں، میری فکر آزاد ہے اور میرا قلم آزاد ہے، میرا یہ عزیز وطن ہندوستان 15 اگست 1947ء سے پہلے آزاد نھیں تھا، بلکہ اس وقت یہ دنیا بھر میں ایک بدترین غلام ملک کی حیثیت سے متعارف تھا، اس پر سفید فام انگریزوں کا ناجائز تسلط تھا، یہ ہر اعتبار سے ان کی غلامی میں جکڑا ہوا تھا اور اپنے وجود اور سالمیت کی اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، میرا یہ عزیز وطن بڑی قربانیاں دینے کے بعد آخرکار 15 اگست 1947ء کو ان کے شکنجۂ استبداد سے آزاد ہو گیا۔

تاریخ ہند شاہد ہے کہ میرے اس عزیز وطن کی آزادی میں دیگر برادران وطن کے ساتھ ساتھ میرے آبا و اجداد نے بھی پڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسے جابر و ظالم انگریزوں کے ناپاک شکنجوں سے آزاد کرایا،انھوں نے اس کے لیے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، طرح طرح کی کلفتیں اٹھائیں،جیلوں کی مسموم ہوائیں کھائیں،کبھی مالٹا تو کبھی کالا پانی کے زندانوں میں اپنا شب و روز گزارا، غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کی بھی لن ترانیاں سنیں،قسم قسم کے شدائد و نکبات کا سامنا کیا، جلا وطنی کی زندگیاں گزاریں،خوشی خوشی سے پھانسی کے پھندوں کو چوما اور خون جگر سے فدائے وطن کی عبارتیں لکھیں ـ

میرا یہ عزیز وطن ماہ رواں کی چھبیس تاریخ کو بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ اپنا ستہترواں جشن یوم جمہوریہ منانے جا رہا ہے، اس مختصر سی مدت میں اس نے دنیا کے تمام شعبہائے حیات میں حیرت انگیز ترقی حاصل کی ہے اور کمالٍ فخر یہ ہے کہ یہ ہنوز ترقی کی راہ پر گامزن ہے، میرا یہ عزیز وطن ہر روز ایک نئے میدان میں ایک نیا روشن باب لکھ رہا ہےـ

آج میرے عزیز وطن کی فوجی طاقت محض قوتِ بازو کا نام نھیں ہے، بلکہ یہ وقار، حکمت اور ناقابلِ تسخیر عزم کی ایسی داستان ہے جو دنیا بھر میں احترام سے سنی جاتی ہے،یہ وہ شان ہے جس کے سامنے غرور آمیز نگاہیں بھی ٹھہر جاتی ہیں، اور جس کے باعث کوئی بھی طاقتور سے طاقتور ملک بھی میرے اس عزیز وطن کی طرف میلی آنکھ اٹھانے کی جرأت نھیں کرتا،کیوں کہ وہ یہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ فوج جدید ترین اسلحے سے آراستہ، اعلیٰ تربیت سے مزین اور فولادی نظم و ضبط کی آئینہ دار ہے، ایسی قوت جو لمحوں میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملا سکتی ہےـ

میرا عزیز وطن ہندوستان زمانہ قدیم سے ہی ایک زرعی ملک رہا ہے اور آزادیٍ وطن کے بعد اس کے زرعی شعبے میں حیرت انگیز تبدیلی آچکی ہے،زراعت میں نئی ٹیکنا لوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر فصلیں اگانے کے نئے طریقوں کا استعمال ہو رہا ہے، جس سے میرا یہ عزیز وطن غذائی اجناس برآمد کرنے میں پیش پیش ہےـ

آج ہم نے سائنس کے میدان میں بھی بہت ترقی حاصل کر لی ہے، اس سائنسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے آج میرا عزیز وطن چاند اور مریخ تک کا سفر کر چکا ہے، ہر روز نئی سائنسی ٹیکنالوجی ایجاد کر کے ہم ملک کو ایک نئی ترقی کی طرف لےجا رہے ہیں،ہم ہر شعبے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنے لیے اپنا رہے ہیں، فوج، زراعت، تعلیم کے میدان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنا کر ہم خود کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر کھڑا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، الغرض یہ کہ آزادی کے بعد ہم نے ہر میدان میں ترقی کی ہے اور بہت ساری جہتیں لکھی ہیں۔

میرے اس عزیز وطن کی گود بہت وسیع اور انتہائی فراخ ہے، اس میں کسان بھی پلتے ہیں اور مزدور بھی، مسلم بھی پلتے ہیں اور غیر مسلم بھی، ایک ہی گود میں مختلف مذاہب کے پیروکاران ہونے کی وجہ سے ہمارے درمیان کچھ مذہبی تنازعات اور نظریاتی اختلافات بھی ضرور پائے جاتے ہیں، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نھیں کہ ہم سب اپنے اس عزیز وطن کے دشمن ہیں، بالکل نھیں ، ہرگز نھیں۔

مختصر یہ کہ ہندوستان صرف میرا مولد ومسکن ہی نھیں ہے بلکہ یہ میرا وطن بھی ہے، یہ میری آن بھی ہے، یہ میری شان بھی ہے، یہ میری جان بھی ہے، یہ میری زیست کا ارمان بھی ہے اور میرے وجود کی پہچان بھی ہےـ

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔