از قلم:محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
قرآن مجید آخری آسمانی اور ربانی و الہامی کتاب ہے ،جو تمام آسمانی کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ ہے اور ہر طرح کی تحریف و ترمیم سے پاک ہے ، قرآن مجید ایک ایسا زندہ جاوید اور تر و تازہ معجزہ ہے، بلکہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا معجزہ ہے ، جس پر نہ کبھی قدامت کا شبہ ہوسکتا ہے اور نہ کبھی اس کی رعنائی اور شادابی میں کمی آسکتی ہے ، یہ لافانی و لا ثانی ابدی و آفاقی معجزہ ہے ۔ترتیب و نظم اور بلاغت و فصاحت کے اعتبار سے اس جیسی کوئی کتاب دنیا میں نہیں ہے ۔
قرآنِ مجید تاریخِ انسانی کا محض ایک مذہبی متن اور شاہراہِ حیات ہی نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے عروج و زوال، اخلاقی رویّوں اور اجتماعی کردار کا ایک ہمہ گیر آئینہ بھی ہے۔ اس میں جن اقوام کا تذکرہ بار بار آیا ہے، ان میں بنی اسرائیل کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ وہ قوم ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دور میں غیر معمولی فضیلت عطا فرمائی، انبیاء کی بعثت، آسمانی کتابوں کی وراثت، علم و حکمت کی دولت اور دشمنوں پر غلبہ جیسی نعمتوں سے نوازا۔ قرآنِ مجید خود اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کو “عالمین پر فضیلت” دی گئی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ فضیلت نسلی یا دائمی نہیں، بلکہ مشروط تھی ایمان، اطاعت اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ وابستگی پر۔
قرآنِ مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی قوم میں علم کے ساتھ عمل باقی نہ رہے، شریعت روح سے خالی ہو جائے، اور دین ذاتی مفاد، تعصب اور دنیا طلبی کا ذریعہ بن جائے تو وہی علم وبالِ جان بن جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے حوالے سے قرآن نے بارہا ایسے رویّوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں انبیاء کی نافرمانی، آیاتِ الٰہی میں تحریف، عہد شکنی، اخلاقی تکبر اور اجتماعی قتل و فساد شامل ہیں۔ یہ تنقید کسی قوم کی ذات پر براہ راست نہیں بلکہ اصلا ان اعمال اور صفات پر ہے، جو اللہ کی ہدایت کے منافی ہیں، اور یہی قرآن کا اصولی اسلوب ہے۔
سورۂ فاتحہ، جو پورے قرآن کا خلاصہ اور تمہید ہے، اس میں “مغضوب علیہم” اور “ضالین” کے الفاظ کے ذریعے ان راستوں سے پناہ مانگی گئی ہے، جو اللہ کے غضب اور گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مفسرین کے ایک بڑے طبقے نے “مغضوب علیہم” کی تطبیق بنی اسرائیل کے بعض دینی اور تاریخی رویّوں پر کی ہے، یہود کو مغضوب علیھم کہا گیا ہے ،یعنی ان پر اللہ کا غضب بھڑکا اور وہ اس کے زیر عتاب آئے ۔ جبکہ نصاریٰ کو ضالین کہا گیا ہے ، حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے ان دونوں الفاظ کے متعلق فرمایا کہ قرآن مجید کے معجزہ ہونے کے لیے یہ دونوں الفاظ بطور دلیل کافی ہیں ، یہود کی پوری تاریخ اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ غضب الٰہی کے مستحق ٹھرے اسی طرح عیسائیت کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ عیسائی گمراہ ہوئے ، تاریخ مذاہبِ و ادیان ان دونوں الفاظ کی شہادت کا منھ بولتا ثبوت پیش کرتی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: شخصیت پرستی کی نفسیات اورہندوستانی مسلمانوں کا المیہ
یہ تحریر اسی قرآنی منہج کو سامنے رکھتے ہوئے اس حقیقت کا جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ایک صاحبِ کتاب قوم، علم و ہدایت کی حامل ہونے کے باوجود، جب اخلاقی ذمہ داری، عدل اور بندگی کے تقاضوں سے غافل ہو جائے تو وہ خود اپنی پستی کا سامان پیدا کر لیتی ہے۔ قرآن کا یہ بیان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ ہر دور اور ہر قوم کے لیے ایک زندہ تنبیہ اور سبق ہے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ ایشاء ،افریقہ میں بسنے والی یہود نام کی قوم دنیا کی تمام قوموں میں اس لحاظ سے ممتاز تھی کہ اس کے پاس دین کا بہت بڑا سرمایہ تھا اور اس میں دینی تعبیرات و اصطلاحات سمجھنے کی سب سے زیادہ صلاحیت تھی،لیکن یہ یہودی ،مذہب و تمدن یا سیاست میں وہ مقام نہیں رکھتے تھے ،کہ دوسروں پر اثر ڈال سکیں ،بلکہ ان کے لیے مقدر ہوچکا تھا کہ ہمیشہ ان پر دوسرے لوگ مسلط رہیں اور حکومت کریں اور ہمیشہ ظلم و استبداد سزا و جلاوطنی اور مصائب و مشقت کے ہدف بنے رہیں ،عرصئہ دراز تک غلام رہنے اور انواع و اقسام کی سختیاں اور سزائیں جھیلنے کے سبب ان کا خاص مزاج بن گیا تھا ،قومی غرور ،نسبی تکبر حرص اور مال و دولت کی حد سے بڑھی ہوئی طمع ،مسلسل سود کے لین دین سے ان میں مخصوص ذہنیت و سیرت اور قومی خصائل و عادات پیدا ہوگئے تھے، جن میں وہ ہمیشہ منفرد رہے ،کمزور یا مغلوب ہونے کے وقت ذلت و خوشامد اور غالب ہونے کی صورت میں انتہائی بے رحمی اور بدمعاملگی اور عام حالت میں دغا بازی اور نفاق ،سنگ دلی اور خود غرضی ،مفت خوری و حرام خوری ،راہ حق سے لوگوں کو روکنا ان کا قومی کردار تھا ۔
قرآن مجید نے آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس قوم کی اس فطرت کا، جو چھٹی اور ساتویں صدی میں تھی، بہت واضح اور مکمل نقشہ کھینچا ہے اور اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اخلاقی انحطاط ،انسانی پستی اور اجتماعی فساد میں وہ کس منزل میں تھے اور وہ کیا اسباب تھے، جن کی بنا پر وہ ہمیشہ کے لیے عالم کی قیادت اور اقوام کی امامت سے معزول کر دئیے گئے ۔
چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں یہودیوں اور عیسایوں کی باہم رقابت و منافرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ اس سفاکی و بربریت اور خون آشام ذہنیت کے ساتھ جس کا مظاہرہ ساتویں صدی میں ان دو عظیم ترین مذاہبِ نے کیا ،اس کی کیا توقع کی جاسکتی تھی، کہ وہ اپنے دور حکومت میں کبھی انسانیت کے محافظ اور پاسبان ثابت ہوں گے اور حق و انصاف امن و شانتی اور صلح و آشتی کا پیغام دنیا کو سنائیں گے ۔
یہودی اپنی اس فطرت اور ذہنیت پر آج بھی قائم ہیں، بلکہ پہلے سے بڑھ کر اپنی سازشی ذہن کو استعمال کر رہے ہیں، فلسطین و لبنان اور شام و ایران میں آج یہ جو کچھ کر اور کرا رہے ہیں اور خوں خرابہ کرکے انسانیت و آدمیت کی دھجی اڑا رہے ہیں اس قوم کی، اس فطرت اور ذہنیت پر شاہد عدل ہے۔ان کے عزائم و منصوبے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں ، یہودیوں نے پہلے سے طے کردہ منصوبہ کے تحت ایک سازشی تحریک کا جو نظام عمل پروٹوکول تیار کیا ہے، جو خود صیہونیوں کے دستاویزات میں بھی ملتا ہے ،اس میں صاف صاف یہ کہا گیا ہے کہ انسانی نسل کو اخلاقی و معنوی طور پر اتنا بگاڑ دینا ہے کہ نسل انسانی کی معنوی طاقت جواب دے جائے اور یہود کو اپنی برتری قائم رکھنے کا آزادنہ موقع ملے ۔ دنیا شطرنج کی ایک ایسی بساط بن جائے جہاں یہود کو ایک مہرے کو ہٹا دینے اور اپنے مفاد کے مطابق دوسرے مہرے کو بٹھا دینے کا آزادانہ موقع ملے ۔یہ بات ان کی کتابوں میں واضح طریقہ پر موجود ہے تلمود کے صحیفے اور بروتوکولات حکماء صہیون اس کے لیے دیکھے جاسکتے ہیں ۔
اس سازشی منصوبہ کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان ہیں ، قرآن مجید میں بھی اس قوم کی مسلمانوں سے سخت عداوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو حرف بحرف صادق آرہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: جارحانہ و نفرت پسند ہندتوا کی زد میں بھارت
ایک عجیب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہودی مذہب اور عیسائی مذہب دونوں ایک دوسرے سے متضاد ہیں ،عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الوہیت تک پہنچاتے ہیں اور یہودی ان کے اخلاق و کردار اور شرافت نسبی کو مجروح کرتے ہیں ،لیکن مسلم دشمنی میں دونوں مذاہبِ کے ماننے والوں کے سیاسی قائدین اس وقت متحد ہوکر ایک ہوگئے ہیں ،اس وقت یہودیوں کا شاطر دماغ اور عیسایوں کا سیاسی و عسکری تفوق، دونوں ایک ساتھ ہوکر مسلمانوں بلکہ پوری نسل انسانی کے دشمن بن گئے ہیں اور عیسائی یہودی مشترکہ سازش ہے ۔مسلمانوں کی گزشتہ تاریخ میں ایک بڑا اور عظیم فتنہ صلیبی حملوں کا تھا ،لیکن اس کے پاس کوئی انقلابی یا اعتقادی و فکری منصوبہ نہ تھا، اس کو مسلمان قائدین نے جن کے سرگروہ السلطان المظفر صلاح الدین ایوبی تھے ،شکست دی ،دوسرا جب تاتاریوں نے عالم اسلامی پر حملہ کرکے مسلم ممالک کو تاراج کر دیا تھا ،وہ بھی صرف ایک عسکری و نسلی طاقت تھی، نہ وہ کوئی بنیادی معاشرت اور تمدن و تہذیب رکھتے تھے ،نہ زندگی کا کوئی نیا نقشہ اور منصوبہ ان کے پاس تھا ،قدرت خداوندی کہ تاتاری اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور اسلام اور مسلمانوں کے پاسبان و محافظ بن گئے ،علامہ اقبال کو کہنا پڑا کہ
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
لیکن موجودہ مغربی طاقتوں نے یہ سمجھ کر کہ صرف طاقت کے بل بوتے پر اس امت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ،تو اب وہ عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ دینی ،معنوی و اخلاقی طاقت کو بھی ختم کرکے اس امت کی طاقت توڑنے کا منصوبہ بنا کر میدان میں آئے ہیں، بلکہ بہت پہلے سے اس سازش کو عملی طور پر انجام دیتے آرہے ہیں اور یہودی یہ کام امریکہ کے اثرات و موتمرات و ذرائع ابلاغ اور متحدہ اقوام کے ذریعہ سے لے رہے ہیں ۔
ضرورت ہے کہ اس قوم کے اس خطرناک اور سازشی منصوبے کو سمجھا جائے ،مسلمان حکمراں کو اس کی خطرناکی کی طرف توجہ دلائی جائے اور اس سازش کو ناکام بنانے کی تدبیریں سوچی جائیں اور ان منصوبوں اور سازشوں کو جو اخلاق و مذہب کو ختم کرنے والی ہیں اور جس کے نتیجے میں نسل انسانی کی طاقت جواب دے ،اس فتنے کو ختم کرنے کی اجتماعی کوشش کی جائے ،خدا کرے ہمارے اندر یہ شعور و آگہی بیدار ہو جائے اور ہم اپنے کو اس سازش اور فتنے کے مقابلے کے لیے تیار کرلیں ۔ (ماخوذ و مستفاد/ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر / کاروانِ زندگی جلد ششم)
تحریر کے اختتام پر ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی کے اس اشارات کو بھی ملاحظہ فرمائیں، جو انہوں نے آسان تفسیر قرآن میں سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اخیر میں تحریر کیا ہے ، جو یقینا حقیقت پر مبنی ہے۔
،، یہاں ایک بات اور واضح کرنا ضروری ہے کہ بہت سے لوگ یہود و نصاری کے سلسلے میں نرم رویہ رکھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ بقائے باہم اور روا داری کا تقاضا ہے کہ یہود و نصارٰی کے فساد و انحرافات اور ان کی گمراہیوں کا تحریر و تقریر میں تذکرہ نہ کیا جائے ۔ بار بار اس کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے کہ یہود غضب الٰہی کے مورد و مستحق ٹھرے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی، جبکہ عیسائیوں نے عیسائیت کو انحرافات کی تاریکی میں دفن کردیا اور ان کی گمراہیاں اس قدر ہوئیں کہ قرآن مجید نے ان پر ضالین کا ٹائٹل چسپاں کردیا۔ جو لوگ اس طرح کی سوچ رکھتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا ہی میں انسانوں کو اس دعا کی تلقین کی ہے کہ انسان ان چیزوں سے خدا کی پناہ مانگے جن کا ارتکاب کرکے یہود غضب الٰہی کے مستحق ٹھرے اور ان گمراہیوں سے بچے جن کے سبب عیسائی گمراہ ہوئے ۔ مسلمان یہ دعا ہر نماز فرض و نفل میں کرتا ہے اور اس کی تلاوت کرتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تحریر و تقریر میں یہود کے فساد اور عیسائیوں کی گمراہی کا ذکر نہ کیا جائے ،،۔