از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
ــــــــــــــــــــــــــــ
پیدائشی تقدیس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں تھا؛ لیکن مبینہ اونچی ذات کے بعض علما نے اسلام کے روشن چہرے پر یہ کالک ملی اور مسئلہ کفو کو استعمال کیا، اس منکر میں بڑے نام شامل ہیں، جن کی علمی عظمت پہاڑ جیسی ہے، اگر نام لوں تو لنچنگ طے ہے، تا حیات اصلاحی کام کیے، ہندو رسوم پر چن چن کر ضرب لگائی؛ لیکن ہندؤوں کے چھوت چھات والے نظام پر مہرِ تصدیق ثبت کر گئے، میرے خاص مضامین میں ایک یہ ہے کہ بعض برائیاں طبعی افتاد کی دین ہیں، بڑے علما کی طرف سے برہمنی تفریق کی تائید کی وجہ طبعی افتاد کے سوا کچھ نہیں، اسلام کے ہر جزئیے پر چوکنا رہنے والے اسلام کے پہرے دار طبقاتی نظام پر غافل نہیں رہ سکتے تھے، سچائی یہ ہے کہ علم کے سمندر پر طبائع کے جھاگ غالب آگئے تھے، مخلص علما مزاج کی غیرت وحمیت کے دھوکے میں آئے۔
عیسائیت دنیا بھر میں ہے؛ مگر طبقاتی تفریق صرف ہندوستانی عیسائیوں تک محدود ہے، مسیحی عالم ہندوستانی مسیحیوں کے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی نظام سے لاعلم اور لا تعلق ہے، اسلام دنیا بھر میں ہے؛ مگر بڑی اور چھوٹی برادریاں صرف ہندوستانی مسلمانوں میں ہیں، عرب نہیں جانتے کہ اسلام میں او بی سی اور اشرافیہ کی تقسیم ہے، ان کو قرآن وحدیث میں طبقاتی نظام کی حامی نصوص نہیں ملیں، بے شک باقی دنیا کا سماج تفریق سے منزہ نہیں؛ مگر وہاں دولت، زمین، طاقت، مذہب اور رنگ کی تفریق تھی، پیدائش کی تفریق سے سارا جہان بے خبر ہے، مغرب میں تفریق رہی؛ مگر پیدائش والی تفریق کہیں نہیں تھی، یہ برہمنوں نے ایجاد کی اور ہمارے بعض شیخ اور سید علما نے اس پر اسلام کی مہر لگائی اور یہ ثابت کیا کہ عوام کو سماجی طور پر ہندو تہذیب سے متاثر کہنے والے خواص بھی ہندو تہذیب کے ایک مسئلے میں مداح اور دلدادہ ہیں۔
شیخ اور سید علما کی ایک جماعت گھما پھرا کر بات کہتی ہے؛ لیکن سچائی کو دھوکہ دینا خود کو دھوکہ دینے کے حکم میں ہے، وہ برہمنوں کا مدعا بعینہ رکھتے ہیں، مخالفت کے ڈر سے فتنے کو سنوارنے کی لاحاصل ٹرائی مارتے ہیں، ان کو اکیسویں صدی سے یہ امید ہے کہ وہ "پیدائشی معیوب” کے لیے قائل ہو جائے گی، مجھے اس میں ذاتی طور پر اشکال نہیں کہ کتے سے بھی گیا گذرا ہوں؛ گو کہ قومی سطح پر بے شک اشکال ہے؛ لیکن اصل قضیہ اسلام کا ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام نے ہمیں او بی سی کہا ہے، او بی سے اور اشرافیہ تقسیم کو دینی مصلحت کہتے ہیں، یہ بات برابر ان کی تحریروں میں ہے، اصل اعتراض یہ ہے کہ سماج کے سب سے قبیح منکر کو اسلام کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، اگر اس بے ظرفی کو اسلام کا جزو نہ بناتے تو یہ تحریر مجھ سے وقت کا لگان نہ لے رہی ہوتی۔
بنگلور ہجرت کی برکت سے ذاتی طور پر میں او بی سی سے نکل آیا، اولاد کی شادی کے لیے یہاں پورا مسلم معاشرہ یکساں ہے، ایسا نہیں ہے کہ سید ہو گیا ہوں، حالاں کہ چانس تھا، میری بیوی سید ہے، شریف برادری والے سید میں اصالت کا دعوی رکھتے ہیں، یعنی نجیب الطرفین لوگ شریف برادری کہلاتے ہیں، سید ہونے کی تحقیق نہیں؛ مگر چہروں کی وجاہت اور رنگت کے اجالے سے بیرونی نژاد ہونا طے ہے، یہ کرناٹک کے نہیں ہو سکتے، مقامی رنگت سخت سیاہ ہے، بنگلور میں سب سید ہیں، کالے سید یہیں ملیں گے، ابتداءً فون میں نام سیو کرتے وقت سید لکھتا تھا، ٹرو کالر سید دکھاتا ہے، پھر بے تحاشا ہو گیا تو اب سید کے بغیر لکھتا ہوں، کثرتِ کاثرہ کے پیش نظر لفظِ سید وجہِ تمیز رہا نہ سببِ شناخت اور شاید عنوانِ تعظیم بھی نہیں، یہاں جو سید نہیں بن سکے وہ شیخ ہیں، یہ شیخ ایک ذات ہیں، صدیقی، فاروقی اور عثمانی تقسیم نہیں رکھتے، میں نے بنگلور کے شیوخ میں یہ تفریع نہیں دیکھی، صرف شیخ ہیں اور خوب ہیں، شیخ بھی کاف والے ہیں، انگلش میں k لکھتے ہیں، آگے H نہیں لگاتے، باقی ماندہ خان ہیں، انصاری جیسے او بی سے بالکل نہیں، جو انصاری عرفیت رکھتے ہیں سب بنارسی ہیں، بنگلور میں بنارسیوں کی ایک آبادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فطرت اور تربیت: ایک تمثیلی مطالعہ
اس وقت یو سی جی قانون کی وجہ سے ہندؤوں میں ذات کی بحث گرم ہو گئی ہے، یہ تحریر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والی بات ہے، جس اونچ نیچ کے حق میں قرآن و حدیث سے استدلال کیے گئے وہ غیر سماجی اور غیر انسانی تصور ہے، دو ہزار چھبیس میں اس نظام کا وجود ممکن نہیں تھا؛ مگر صرف اس لیے باقی ہے کہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو ریزرویشن ملتا ہے، میرا دعوی ہے کہ ہندوستان کے پچھڑے ہندؤوں نے پسماندگی کے فلسفے کا ننگ صرف اس لیے برداشت کر رکھا ہے کہ اس گالی کے عوض ریزرویشن ملتا ہے ورنہ دو ہزار چھبیس میں ذاتی عار اور خاندانی رسوائی کا اعتراف کیسے ممکن ہے؟ بالخصوص جب کہ یہ کم ذات عددی اکثریت رکھتے ہیں، اکثریت بھی اسی فیصد والی، ہندوستان میں اسی فیصد پسماندہ ہیں اور باقی اونچی ذات بیس فیصد کو پہنچنے کے لیے مسلم اشرافیہ کو بھی ملاتی ہے۔
برادری تفریق برہمنوں کے دلوں میں "عشقِ بچھڑا” کی طرح پیوست ہے، مسلم اشرافیہ ہو بہو وارث ہوئی، اس کے بغیر ان کے یہاں سماج ممکن نہیں، یہ بات تحریرا موجود ہے، آپ پڑھ سکتے ہیں، تفریق کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اونچ نیچ کو معاشرت کی مصلحت قرار دیا ہے، گویا من جانب اللہ ہم تفریق پر مامور ہیں، معاذ اللہ! برہمن اسی صورت حال سے دوچار ہے، وہ ہندو ایکتا چاہتا ہے؛ مگر طبقاتی نظام کی قیمت پر ہرگز نہیں، اسے پیدائشی تقدیس پر اس درجہ اصرار ہے کہ ہندو اتحاد سے بھی دست بردار ہو سکتا ہے؛ جب کہ وہ اسے زندگی کے لیے خطرہ کہہ رہا تھا؛ مگر نظریے کے لیے جان کو ہلکا سمجھا، برہمن نے اقتدار کے لیے ہندو مذہب سے فراڈ کیا، جدید ہندو نے ریزرویشن لالچ میں استہزا برداشت کیا، مسلمان اشرافیہ احمقوں کی جنت میں ہے، رسی کب کی خاکستر ہوئی اور یہ اکڑ مینٹین کرنے میں لگی ہے، دین میں تحریف تک کی، ملائی پھر بھی نہیں ملتی۔
اسلام نے ہندوستان کو مساوات کے پیغام سے فتح کیا؛ لیکن معدودے چند غیر مساوی بھی مسلمان ہو گئے تھے، پھر وہ مسلم برہمن بن بیٹھے، اسلام نے اونچ نیچ مٹا کر برہمن کو توڑا تھا، آج ہم برعکس دہانے پر کھڑے ہیں، ہندوتوا آندھی کنارے پر کھڑے مسلمانوں کو اڑا کر اپنے خیمے میں پٹخنے کے لیے پرعزم ہے، غیر مساوی نظام کی وکالت آگ کو ہوا دیتی ہے، خیر سے ہندو اپنی تفریق پر قائم ہیں ورنہ ارتداد کی ایک لہر اس کی نذر ہوتی، پیدائشی کمتر قرار دیا گیا مسلمان صرف مساوات کی تلاش میں ہندو نہیں بن سکتا، یہ بپتسمہ ہندو ازم میں بدستور ہے، ہماری اشرافیہ نے اس ارتداد کے لیے سامان فراہم کر رکھا ہے؛ مگر یہ دروازہ بالغیر بند پایا گیا، اسلام نے ثابت النسب صدیقی، فاروقی اور عثمانی کو دیسی انصاری کا ہم رتبہ قرار دیا تھا؛ لیکن تماشا یہ ہے کہ محتاجِ ثبوت صدیقی، فاروقی اور عثمانی کو ہند نژاد مسلمانوں سے برابری منظور نہیں، نسلی برتری کے تمام وکلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوب صورت اعلامیۂ مساوات کے مجرم ہیں، انھوں نے آپ کی شاندار یادگاروں میں سے ایک کو داغ دار کرنے کی کوشش کی ہے۔