✍🏻 از محمد عادل ارریاوی
_____________________
محترم قارئین! آئے دن اس قسم کی خبریں روزانہ گردش میں رہتی ہیں کہ کہیں زمین کے معمولی تنازع پر ایک انسان کی جان لے لی گئی اور کہیں کسی شخص کو غنڈوں نے گھیر کر بے رحمی سے مار دیا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا اس طرح کی خبریں اس قدر کثرت سے سننے کو ملتی ہیں کہ گویا یہ ایک معمولی سی بات بن چکی ہے حالانکہ کسی انسان کی جان چلے جانا نہایت دردناک اور تکلیف دہ امر ہے اور جب بھی اس نوعیت کی خبریں سننے میں آتی ہیں تو دل شدید رنج اور کرب محسوس کرتا ہے اللہ ربّ العزت نے انسان کو عقل و شعور عطا کر کے اشرف المخلوقات بنایا مگر افسوس کہ آج یہی انسان اپنی ہی جان کا دشمن بن چکا ہے قتل و خونریزی معمول بن گئی ہے اور انسانی جان کی حرمت مٹتی جا رہی ہے یہ روز مرہ کی حقیقت ہے کہ آئے دن ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سننے میں آتے ہیں جن میں انسان انسان ہی کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے آج قتلِ انسان گویا ایک معمولی کھیل بن چکا ہے اور انسانی جان کی حرمت انسان ہی کی نگاہ میں بے وقعت ہو گئی ہے معمولی باتوں غصے لالچ اور چند ٹکوں کی خاطر کسی کی جان لے لینا بچوں کو یتیم عورت کو بیوہ والدین کو بے سہارا اور پورے خاندان کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دینا عام ہو گیا ہے وہ ہتھیار جو دراصل درندوں سے بچاؤ یا شکار کے لیے بنائے گئے تھے آج بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ ان حالات میں جنگلی جانور بھی انسان پر طنز کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم درندے ہو کر بھی اپنی ہی نسل کو اس بے رحمی سے نہیں مارتے جبکہ عقل و شعور رکھنے والا انسان اپنی ہی قوم اور جنس کو بے دریغ قتل کر رہا ہے انسان پانی کے بجائے انسانیت کا خون اپنی پیاس بجھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دی للن ٹاپ، سوروبھ دیویدی، اور ایک بنیادی سوال
یہ ظالم لوگ اپنی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے مگر دوسروں کے دلوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتے ہیں اپنی زندگی اپنی اولاد اپنی بیوی اور اپنے والدین سے محبت کرتے ہیں لیکن دوسروں کی زندگی ان کے بچوں کی معصومیت بیوی کی سہاگ اور والدین کا سہارا چھیننے میں ذرا نہیں ہچکچاتے اپنے کاروبار اور مفادات کو بچانا چاہتے ہیں مگر دوسروں کی پوری دنیا اجاڑ دینا انہیں معمولی بات لگتی ہے۔ وہ خود کو زندگی اور دنیا کی نعمتوں کا زیادہ حق دار سمجھتے ہیں اور اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے چند وقتی فائدوں کے لیے وہ انسان کو تڑپتا ہوا موت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ قدرت کی گرفت خاموش مگر نہایت سخت ہوتی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی مظلوم کی فریاد نہ سنے تو اللہ ضرور سنتا ہے یتیم بچوں کی آہیں بوڑھے والدین کی سسکیاں اور بیوہ کی تنہائی بھری راتیں اللہ کے حضور پہنچتی ہیں اور مظلوم کی بددعا اکثر بلا روک ٹوک قبول ہو جاتی ہے اللہ کے ہاں ناانصافی نہیں ہوسکتی انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے
قاتل کو ایک دن اللہ کی عدالت میں کھڑا ہو کر اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا آج جو دوسروں کے گھر اجاڑ رہا ہے کل اس کا اپنا گھر بھی اجڑ سکتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ خون بہانے والوں کا انجام عبرتناک ہوا ہے قرآن مجید میں جان بوجھ کر ایک مؤمن کے قتل کی سزا جہنم اللہ کا غضب اور لعنت بیان کی گئی ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن کی جان کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے حتیٰ کہ اگر کسی کو اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کو قتل کرنے پر مجبور کیا جائے تب بھی شریعت میں بے گناہ کا قتل جائز نہیں لہٰذا جو لوگ غصے لالچ اقتدار یا دنیاوی فائدے کے لیے قتل کا ارتکاب کرتے ہیں وہ سوچ لیں کہ دنیا کا عارضی نفع آخرت کے دائمی خسارے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں دوسرے کو جو تکلیف دی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ سخت عذاب کا سامنا خود کرنا پڑے گا اور تب یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ چند دن کا فائدہ دراصل ہمیشہ کا نقصان ہوتا ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں اور ہمارے معاشرے کو ظالموں اور قاتلوں کے شر سے محفوظ رکھ مظلوم کی مدد فرما اور ظالموں پر اپنی قدرت سے انصاف کر آمین یارب العالمین ۔