قرآن پاک کا تاریخی اعجاز

از:- علامہ سید سلیمان ندوی رح

ترتیب و پیشکش: محمد قمر الزماں ندوی

قرآنِ مجید کا تاریخی اعجاز اس کی حقانیت کا ایک درخشاں پہلو ہے، جو نزولِ وحی سے لے کر آج تک مسلسل نمایاں ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اپنے محفوظ و مستند متن کی صورت میں تاریخِ انسانی میں یکتا ہے، بلکہ اس کے بیان کردہ، حقائق ،احکام واقعات، پیشین گوئیاں اور تاریخی اشارات وقت کے گزرنے کے ساتھ صحیح ثابت ہوتے چلے گئے ہیں۔ قرآن نے جن اقوام، شخصیات اور تمدنی حقائق کا ذکر کیا، جدید تحقیق نے ان کی تصدیق کی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن محض مذہبی کتاب ہی نہیں، بلکہ ایک زندہ تاریخی دستاویز بھی ہے۔ اس کا تاریخی اعجاز ہر دور کے اہلِ علم کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس کے الہامی ہونے پر مضبوط دلیل فراہم کرتا ہے۔
یہ کتاب وہ شاہراہِ ہدایت ہے، جس پر چل کر ہی انسان سعادت و کامرانی،عزت و سربلندی سے ہم کنار ہوسکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرسکتا ہے ۔
اقبال مرحوم نے فرمایا تھا کہ

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

ذیل میں ،،قرآن مجید کا تاریخی اعجاز،، پر سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی رح کی ایک قیمتی اور بیش بہا تحریر ہم قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ، جو فروری 1939ء میں ماہنامہ معارف میں شائع ہوا تھا ۔
مضمون انتہائی قیمتی ہے ، ہم سب کو ضرور اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

دنیا کے ہر پیغمبر نے اپنی امت کے سامنے حیرت انگیز معجزے پیش کیے ہیں۔ حضرت نوحؑ کی دعا نے عالم کو غرقاب کر دیا؛ حضرت شعیبؑ اور حضرت لوطؑ کی دعاؤں نے آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں سے آگ برسائی؛ حضرت موسیٰؑ کے معجزے نے فرعون کو بحرِ احمر کا طعمہ بنا دیا؛ عصائے موسیٰؑ کی کارفرمائی نے چٹانوں کی چھاتی سے پانی کا دودھ بہایا اور بحرِ احمر کے دو ٹکڑے کر دیے؛ دمِ عیسیٰؑ نے جنم کے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو چنگا کیا، اور فرشِ موت کے سونے والوں کو جگایا، اور قبروں کے مردوں کو باذنِ اللہ کہہ کر جلایا۔ یہ سب واقعات دنیا میں پیش آئے اور ختم ہو گئے۔ برق کا شرارہ تھا، دم میں چمکا اور بجھ گیا۔

لیکن ایک پیغمبر ایسا بھی آیا جس کے حیرت انگیز معجزے نے قوموں کو ہلاک کرنے کے بجائے انہیں حیاتِ تازہ بخشی؛ پتھر دلوں کو موم کیا؛ عقل کے اندھوں کو بینا کیا؛ اور بنی آدم کی جمعیت کو غفلت و بے ہوشی کی نیند سے جگا کر ہوشیار، کفر و شرک کی ہلاکت سے بچا کر زندہ کیا۔ یہ حیرت انگیز واقعہ بجلی کی چمک کی طرح دفعۃً ظاہر ہو کر غائب نہیں ہو گیا؛ یہ یدِ بیضا، عصائے موسیٰؑ اور دمِ عیسیٰؑ کی طرح اپنے امکان اور وقوع میں فلسفیانہ موشگافیوں اور عقلی نکتہ سنجیوں کا محتاج نہیں؛ یہ روزِ روشن کی طرح واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوا، اور ہزار سال تک ممتد و متواتر واقعیت بن کر دنیا اور اہلِ دنیا کے سامنے جلوہ گر رہا۔

محمد رسول اللہ ﷺ آخری دین اور آخری صحیفہ لے کر، اور نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نیا دین آنے والا تھا، نہ کوئی نئی کتاب اترنے والی، اور نہ کوئی نئی نبوت مبعوث ہونے والی تھی۔ اس لیے ضرورت تھی کہ دوسرے انبیا علیہم السلام کی طرح آپؐ کا خاص معجزہ وقتی اور عارضی نہ ہو، بلکہ جب تک اس دنیا میں آپؐ کی نبوت کا نور چمکتا رہے، اس کی روشنی بھی قائم رہے۔ چنانچہ وقتی اور عارضی معجزوں کے علاوہ آپؐ کو ایک خاص معجزہ بخشا گیا جو قیامِ قیامت تک قائم اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن نے تحدی کی کہ میں اپنے رسول و پیغمبر کی صداقت کی گواہی ہوں؛ جن و انس مل کر بھی چاہیں تو مجھ جیسی کتاب، بلکہ مجھ جیسی کتاب کی ایک سورہ، بلکہ ایک آیت بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔

اس اعلان پر پوری چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، مگر اب تک فضاے بسیط کے ہر گوشے میں اس کے جواب میں خاموشی چھائی ہے۔ یہاں بھی عقل و فلسفہ کی منطقیانہ نکتہ آرائیوں سے بچ کر تاریخ کے آئینے میں واقعیت کا چہرہ دیکھیں۔ قرآنِ پاک دنیا کی سب سے تاریک سرزمین میں، سب سے جاہل قوم پر اترا، جو علم و تمدن سے عاری، دولت و ثروت سے خالی، سامان و اسلحہ سے محروم، اور ہر قسم کی دنیاوی اور مادی طاقت سے تہی مایہ تھی۔ قرآن نے تیرہ برس تک کبھی پہاڑوں کے غاروں سے اور کبھی پہاڑوں کی چٹانوں سے انسانیت کو آوازیں دیں۔ اس طویل مدت میں اس کی پکار کے جواب میں سبّ و شتم، سنگریزے اور پتھر، تیر و تبر اور تیغ و خنجر کی بارش ہوتی رہی، لیکن جونہی چودہویں برس کا چاند طلوع ہوا، اس کی روشنی ماہِ شبِ چہاردہم بن کر نمودار ہوئی، اور چند سال کے عرصے میں دیکھا تو عرب کا گوشہ گوشہ بقعۂ نور بن گیا۔

قرآن کا سب سے بڑا تاریخی معجزہ یہ ہے کہ تئیس برس کی تعلیم میں ایک اَن پڑھ اور جاہل قوم کو دنیا کی عالم ترین اور متمدن ترین قوم بنا دیا، جس کی عظمت نے دنیاے قدیم کے دونوں بازو، قیصر و کسریٰ، کو توڑ دیا۔ چالیس برس کی مدت میں، جب خلافتِ راشدہ کا دور ختم ہوا، قرآن کے ماننے والے بحرِ ہند کے دہانے سے لے کر بحرِ اطلانتک کے ساحل تک پھیل چکے تھے؛ دنیا کی کایا پلٹ دی۔ تاریکی کی جگہ نور، جہالت کے بدلے علم، شرک و کفر کے بجائے خدا پرستی آئی۔ دنیا کی سب سے غریب و مفلس قوم سب سے بڑی دولت مند، سب سے نادان و جاہل و وحشی قوم سب سے بڑی عالم، علم پرور اور متمدن ہو گئی۔ دنیا کی سب سے ضعیف و کمزور قوم سب سے قوی اور سب پر غالب ہو گئی۔ وہ قوم جسے دنیا میں کبھی سیاسی عزت و جاہ و جلال نصیب نہیں ہوا تھا، اس نے دنیا کی شہنشاہی کا تاج اپنے سر پر رکھا۔

عرب و عجم، ترک و دیلم، حبش و زنگ، ہند و سندھ – جس نے بھی قرآن کو اپنے سینے سے لگایا، اس نے فتح و ظفر کا پرچم ہاتھ میں لیا، تختِ شاہی اپنے دونوں پاؤں کے نیچے بچھایا، اور حکومت کا تاج اپنے فرقِ شاہی پر رکھا۔ عربوں کی کیا بساط تھی؟ دیلم کو کون جانتا تھا؟ سلجوق سے کون واقف تھا؟ غور و خلج و تغلق کس شمار میں تھے؟ کرد کس گنتی میں تھے؟ خوارزم شاہی، اتابکی اور مصر کے بحری ممالیک، اور ہندوستان کے ترکی غلاموں کی حیثیت کیا تھی؟ اور مٹھی بھر آوارہ گرد ترک قبیلے کا سردار عثمان خاں – جس کی اولاد نے یورپ، ایشیا اور افریقہ، دنیا کے تین براعظموں پر چھ سو برس تک حکومت کی – اسلام سے پہلے کیا تھا؟ مگر جب انہوں نے اپنی عقیدت کا سر قرآن کے آگے جھکایا تو دنیا کی شہنشاہیوں نے ان کے آگے اپنی گردنیں جھکا دیں۔

عربوں کا تمدن کیا تھا؟ افریقہ کے وحشیوں کا رتبہ کیا تھا؟ بربر کی بربریت کی داستانوں سے کون آگاہ نہ تھا؟ ترک و تاتار کی درندگی کے واقعات سے کس کے کان آشنا نہ تھے؟ مگر دیکھو کہ جب قرآن نے ان کے سر پر سایہ ڈالا تو انہی کے ہاتھوں سے عظیم الشان سلطنتوں کی بنیادیں پڑیں، بڑے بڑے متمدن شہر آباد ہوئے، علوم و فنون کی درسگاہیں کھلیں، اور تمدن و تہذیب کے نقش و نگار اور آثار نمودار ہونے لگے۔ فلسفہ و عقل کی جلوہ آرائی ہوئی، علم و فن نے ترقی کی، بیسیوں نئے علوم اختراع ہوئے، پچھلے علوم نے رونقِ تازہ پائی، اور ان کی برّی اور بحری تجارتوں نے دنیا کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا۔

ان سب سے ماورا، اور مادہ و مادیات سے ہٹ کر، انسانی اخلاق و آداب نے اسی قرآن کی تعلیم و ہدایت سے تکمیل کا درجہ پایا۔ عدل و انصاف اور اخوت کے سبق ازبر ہوئے، اور اہلِ جہاں کی آنکھوں کو وہ منظر دکھا دیا گیا جسے آغازِ آفرینش سے آج تک انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مغرب کی قوموں کو مشرق سے اور مشرق کی بستیوں کو مغرب سے ملا دیا، اور حسب و نسب، قومیت و وطن، پستی و بلندی، اور شاہی و گدائی کے ہر قسم کے نشیب و فراز کو مٹا کر قرآن والوں کو ایک برادری اور واحد قومیت بنا دیا، جس کا وطن دنیا کا ہر ملک اور جس کا مسکن دنیا کا ہر گوشہ تھا۔

باطل پرستی کے ہر طلسم کو توڑ دیا، بتوں کے ہیکل مسمار کر دیے، ستارہ پرستی کا چراغ گل کر دیا، انسانی جانوں کی قربانی موقوف کر دی، دختر کشی کی رسم کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا، عورتوں کو عزت، غلاموں کو آزادی اور غریبوں کو بشارت دی، اور سب کے لیے صرف ایک ایمان اور عملِ صالح کو ہر قسم کی ترقیوں اور سعادتوں کا زینہ بنایا۔ اور بتایا کہ انسانی سعادت کی شاہراہ غاروں، خلوتوں اور پہاڑوں سے ہو کر نہیں گزری ہے، بلکہ شہروں، بازاروں، مجمعوں اور انسانی بھیڑ بھاڑ کے اندر سے گزری ہے۔ حق کی نصرت، انسانوں کی بھلائی، یتیموں کی سرپرستی، غریبوں کی امداد، گرتوں کی دست گیری، مظلوموں کی فریاد رسی اور غلاموں کی آزادی ہی نیکیوں کی جڑیں ہیں، اور اس راہ میں ہر قسم کی جدوجہد، زحمت کشی و محنت اور ایثار و قربانی اصل نفس کشی اور ریاضت ہے۔

اور سب سے آخر میں، اور سب سے بڑھ کر، اس نے مسلمانوں کو اللہ کے ایک آستانۂ قدس کے سوا دنیاوی قوت کے ہر آستانے سے بے نیاز کر دیا۔ خداے قادر کی قدرت کے سوا ہر قدرت سے وہ بے نیاز، اور ہر قوت سے وہ بے پروا ہو گئے۔ انہوں نے فرعونوں کو دریا میں ڈھکیل دیا، نمرودوں کے تخت الٹ دیے، ہامانیوں کی سلطنتیں چھین لیں، اور شدادیوں کی بہشت پر قبضہ کر لیا۔ اور یہ سب کچھ اس لیے وہ کر سکے کہ انہوں نے ان سب جھمیلوں کے ساتھ ہر رشتۂ محبت کو توڑ کر صرف خدا سے اپنا رشتہ جوڑا تھا۔ ان کے ہر عمل کی غایت اللہ کی خوشنودی اور رضامندی تھی، تو اللہ بھی ان سے خوش ہوا، اور اپنی خوشنودی کا ہر خزانہ ان کے لیے کھول دیا۔

قرآن نے اللہ والوں کی جماعت پیدا کی، جو اللہ ہی کے لیے کرتی اور چھوڑتی تھی، اللہ ہی کے لیے دیتی اور لیتی تھی، اور اسی کے لیے جیتی اور مرتی تھی۔

مسلمانو! ربانی قوت کا یہ سرمایہ اب بھی تمہارے پاس ہے، اور اللہ کے اس خزانۂ رحمت کی کنجی اب بھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ہمت کرو، اور ادب سے اس کے اوراق کھولو، اس کے معنوں کو سمجھو، اس کی باتوں پر یقین کرو، اور اس کے حکموں کو مانو اور ان پر عمل کرو؛ پھر دیکھو کہ تم کہاں سے کہاں پہنچتے ہو۔

والسلام على من اتبع الهدى
(معارف، فروری ۱۹۳۹ء)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔