از:- محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات میں سے ہمارے لئے ایک انعام رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہے، جس میں ایک نیکی کا ستر سے سات سو گنا تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔
اس ماہ مقدس میں تقویٰ پرہیز گاری اور نیکی و بھلائی کا ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ بندہ کے قلب کا رجحان و میلان برائی کی طرف کم سے کم ہو جاتا ہے اور خیر کی طرف کشش اور زور زیادہ ہو جاتا ہے۔ اسی متبرک اور بابرکت مہینہ میں روزہ جیسے اہم ترین رکن اور عبادت کو فرض کیا کہ اس مہینہ کا دن روزہ کی حالت میں گزارا جائے۔ اس میں روزہ رکھنے کا بدلہ اپنے لیے خاص کیا ہے، ارشاد ہے ،،روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کا بدلہ میں دوں گا،، ۔ بعض روایت میں ہے کہ روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔
رمضان المبارک کا یہ مہینہ نیکیوں اور رحمتوں کا موسم بہار ہے، یہ مہینہ خدا کی طرف سے ایمان والوں کے لئے ایک انعام اور تحفہ ہے ۔ رمضان المبارک میں روزے کی فرضیت کا ثبوت براہ راست قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے ۔
علامہ سید سلیمان ندوی رح روزہ کی حقیقت اور اہمیت پر لکھتے ہیں :
،،روزہ اسلام کی عبادت کا تیسرا رکن ہے ،عربی میں اس کو صوم کہتے ہیں ،جس کے لفظی معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں، بعض مفسرین کی تفسیروں کے مطابق قرآن پاک میں کہیں کہیں صبر بھی کہا گیا ہے ،جس کے معنی ،،ضبط نفس،، ثابت قدمی اور استقلال کے ہیں،ان معنوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی زبان میں روزہ کا کیا مفہوم ہے؟ وہ درحقیقت نفسانی ہوا و ہوس اور بہیمی خواہشات سے اپنے کو روکنے اور حرص و ہوا کے ڈگمگا دینے والے موقعوں میں اپنے آپ کو ضابط اور ثابت قدم رکھنے کا نام ہے ،روزانہ استعمال میں عام طور پر نفسانی خواہشوں اور انسانی حرص و ہوا کا مظہر تین چیزیں ہیں ،یعنی کھانا،پینا اور عورت و مرد کے جنسی تعلقات ،انہیں تینوں سے ایک مدت تک رکے رہنے کا نام شرعاً روزہ ہے، لیکن دراصل ان ظاہری خواہشوں کے ساتھ باطنی خواہشوں اور برائیوں سے دل و زبان کا محفوظ رکھنا بھی خواص کے نزدیک روزہ کی حقیقت میں داخل ہے ۔قران مجید نے ان تمام حقائق و رموز کو صرف ایک لفظ ،،تقویٰ،، سے بے نقاب کردیا ہے ،اور چونکہ روزہ کی حقیقت تمام مذاہبِ میں مشترک تھی ،اس بناء پر قرآن مجید نے دیگر مذاھب کو بھی اشارتاً اس حقیقت میں شریک کرلیا ہے ۔ یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ،، اے مسلمانو! تم پر روزہ لکھا گیا جس طرح تم سے پہلے امتوں پر لکھا گیا تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو ۔ روزہ کی غرض و غایت ،، تقویٰ ،، ہے یعنی اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا ،اور جذبات کے تلاطم سے اپنے کو بچا لینا ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ روزہ ہمارے لئے ایک قسم کے روحانی علاج کے طور پر فرض ہوا ،لیکن آگے چل کر قرآن پاک اسلامی روزہ کی دو اور مخصوص حقیقتوں کو بھی واضح کرتا ہے ۔ ،،و لتکبروا اللہ علی ما ھداکم و لعلکم تشکرون،، تاکہ خدا نے جو تم کو راہ راست درست کر دکھائی اس پر تم بڑائی کرو اور شکر ادا کرو ،،(سیرت النبی ج، 5٫ صفحہ 210)
لفظ رمضان، رمض سے مشتق ہے، جس کے معنی گرم ہونا اور چلچلاتی اور تیز دھوپ سے پاؤں کا جلنا ہے ۔ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ روزے دار کے سابقہ تمام گناہوں کو جلا اور مٹا دیتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ *رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے فرمایا :
اس ماہ مبارک کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ وہ گناہوں کو رمض کر دیتا ہے یعنی جلا اور مٹا دیتا ہے ۔
یہ بھی اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے، اور آپ کے صحابہ (رضی اللہ عنھم ) نے مدینہ منورہ میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک رمضان کے سارے روزے سخت گرمی کے زمانے میں رکھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ روزے میں شمسی سال کا اعتبار نہیں کیا گیا ،کیونکہ اس کی وجہ سے روزہ کا زمانہ اور موسم متعین ہو جاتا، جو کسی حال میں بدل نہیں سکتا ،اس طرح جن ملکوں اور قوموں میں روزے کا زمانہ گرمی میں پڑتا ان کے لئے یہ تکلیف دہ صورت ہمیشہ رہتی ،اسلام نے اس غیر معتدل صورت کا خاتمہ اس طرح کیا کہ روزے کے معاملے میں شمسی کے بجائے قمری تاریخوں کا لحاظ کیا ہے ۔
رمضان المبارک کے روزے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک کے کسی ایک روزے کو بغیر شرعی عذر کے چھوڑ دے، تو اس کے بعد ساری عمر اس کی قضا کرتا پھرے، وہ اس کے لئے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیں ہو سکتا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
،،من افطر یوما من رمضان من غیر رخصة ولا مرض لم یقض عنہ صوم الدھر کله و ان صامه،، (الترمذی کتاب الصوم)
جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کر دے ،جب کہ اس کے لئے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو ،تو اس کے بعد ساری عمر روزے رکھے ،وہ اس کے لئے رمضان المبارک میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیں ہو سکتا ۔
رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ کی کتنی تاکید ہے، اس حدیث سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا رمضان المبارک کے کسی روزے کو قصدا چھوڑنا اور ترک کرنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت خطرناک اور سنگین جرم ہے ۔ اس کے بعد آدمی اگر ساری عمر بھی روزہ رکھے تو وہ اس فیصلہ کے تحت ہوگا نہ کہ براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل میں ۔ اور بلا شبہ کوئی بھی دوسرا عمل خدا کے حکم کی قصدا خلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا ۔
پس جو لوگ بے پروائی اور لا پروائی میں رمضان کے روزے چھوڑتے ہیں، وہ سوچیں کہ اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک روزے کی قانونی قضا ایک ہی دن کا روزہ ہے،لیکن اس سے وہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جو روزہ چھوڑنے سے کھو گیا ۔ جو لوگ جان بوجھ کر روزہ چھوڑتے ہیں وہ سوچیں کہ اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک روزے کی قانونی قضا ایک ہی دن کا روزہ ہے ،لیکن اس سے وہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جو روزہ چھوڑنے سے کھو گیا۔