از:- عبدالغفار صدیقی
اللہ کا احسان عظیم ہے کہ رمضان کریم کی آمد آمد ہے۔رمضان کے آنے پر مسلم محلوں اور مسلم آبادیوں کی چہل پہل میں اضافہ ہوجاتا ہے۔بعض مقامات پرمساجد کی تزئین کاری بھی کی جاتی ہے۔حفاظ قرآن سننے اور سنانے کی تیاری کرتے ہیں،اہل مدارس حصول تعاون کے لیے سفر پر نکل جاتے ہیں،خواتین مصالحہ جات کوٹ چھان کر رکھ لیتی ہیں۔یوٹیوب پر نئی نئی ڈشیز کی ویڈیو گردش کرنے لگتی ہیں۔بچے روزے رکھنے کا عزم کرتے ہیں،قرآن پاک کی دھول ڈسٹ بھی صاف کرلی جاتی ہے،حسب ضرورت ان پر نئے جزدان چڑھائے جاتے ہیں۔ماہ مبارک کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنا،مسکرا کر اس کا استقبال کرنا اور رمضان کا چاند دیکھ کر مبارکبادیوں کے پیغامات دینے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن کچھ ایسے سوال ہیں جن پر ہمیں غور کرنا چاہئے تاکہ رمضان سے پوری طرح مستفید ہوا جاسکے۔
احادیث کی کتابوں میں ماہ رمضان کے تعلق سے بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں جن میں اس کی عظمت و رفعت کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پراس کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا عشرہ ہے،اس میں فرائض کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور نفل کا اجر مثل فرض کے ملتا ہے،ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے والوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں،قرآن کی رو سے ماہ رمضان کی ایک رات کو ہزار مہینوں پر برتری حاصل ہے وغیرہ۔سارے دن مہینے اللہ ہی بنائے ہیں۔اسلام میں کوئی گھڑی منحوس نہیں ہے۔ اس کے باوجود ماہ رمضان کو اللہ اپنا مہینہ کیوں کہہ رہا ہے؟سوال یہ ہے کہ رمضان کو یہ عظمت و فضیلت کیوں حاصل ہوئی؟جب کہ یہ مہینہ اشہر حرم میں بھی داخل نہیں ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔میں نے جب اس سوال پر غور کیا اور قرآن میں اس کا جواب تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اس مہینہ کو یہ فضیلت نزول قرآن کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
آپ غور کریں کہ قرآن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کو عظمت عطافرمائی۔رمضان کی ساعتوں کو خیر و برکت والا بنایا۔دن کو روزوں کے لیے اور رات کو قیام کے لیے مخصوص کیا۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ، مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (بخاری،مسلم)”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“جس فرشتے کے ذریعہ قرآن بھیجا گیا اس کو روح القدس اور امین کے خطاب سے نوازا گیا۔قُلْ نَزَّلَہُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ (النحل:102) ”کہہ دو کہ اسے روح القدس نے تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے۔“نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِینُ (الشعراء:193)”اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے۔“جس پیغمبر پر قرآن نازل ہوا وہ رحمۃ اللعٰلمین اور خاتم النبئین قرار پائے۔وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ (الأنبیاء:107)”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔“مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ (الأحزاب:40)”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“جس رات کو قرآن نازل ہوا وہ ”قدروالی رات“ بن گئی۔اس رات کی فضیلت کا یہ حال ہے کہ وہ ایک رات ہزار مہینوں سے بھی بہترقرار پائی۔ اس رات کو حضرت جبریل امین اور فرشتے اللہ کے احکامات لے کر نازل ہوتے ہیں۔”ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں،وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک(القدر)“
یعنی قرآن مجید سے جس نے بھی رشتہ جوڑا،اس کو عظمت و سربلندی حاصل ہوگئی۔جب تک مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھتے رہے اور اس پر عمل کرتے رہے۔وہ دنیا کے امام بنے رہے۔انھیں سربلندی حاصل رہی۔ان کو کوئی خسارہ نہیں ہوا۔إِنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً یَرْجُونَ تِجَارَۃً لَّن تَبُورَ (فاطر:29)”جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خفیہ و علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں جائے گی۔“
اب سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ مس خام کو کندن بنادیتی ہے؟اس کے جواب یہی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے یعنی وہ الفاظ جو خود خالق کائنات نے ارشاد فرمائے ہیں۔یہ وہ کلام ہے جو لوح محفوظ میں موجود ہے جس کو صرف فرشتے چھوتے ہیں (لَا یَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُونَ ”اسے نہیں چھوتے مگر وہی جو پاک کیے گئے ہیں۔“(الواقعۃ: 79)یہ وہ پاکیزہ کلمات ہیں جن کو جبریل امین نے سیدنا و نبینا حضرت محمد ﷺ تک پہنچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ(الحجر: 9)”بیشک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔“یہ کتاب ہدی للناس ہے۔نہ صرف ہدایت نامہ ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جو سیدھا راستا دکھاتی ہے۔اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ(اسراء:۹)”بیشک یہ قرآن و راہِ راست دکھاتاہے جو بالکل سیدھی ہے۔“اس کی تعلیمات خیر خواہی پر مبنی ہیں،اس میں دلوں کے لیے شفا ہے،ہدایت کے ساتھ وہ ایمان لانے والوں کے لیے مکمل رحمت ہے:یٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُوْمِنِیْنَ ”اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔“ (یونس:75) یہ وہ کتاب ہے جو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے:۔الَرکِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ”الَریہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں۔“(ابراہیم۔1)۔
اب ایک سوال یہ ہے کہ روزوں کے لیے رمضان کو ہی کیوں مقرر کیا گیا؟ہم پڑھ چکے ہیں کہ روزے اس لیے رکھوائے گئے کہ ہمارے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوجائے،اور تقویٰ کی صفت اس لیے پیدا کرائی گئی کہ ہم قرآن سے فائدہ اٹھاسکیں۔اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب کے آغاز میں ہی ارشاد فرمادیا گیا:۔”الف لام میم،یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں،اس سے متقی لوگ ہدایت پاتے ہیں“۔چونکہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا اس لیے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مخصوص کردیا گیا۔شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَیٰ وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرۃ: 185)”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلیں رکھتا ہے، اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔“
اب آخری سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے ہوتے ہوئے یہ امت ذلیل و رسوا کیوں ہے؟یہ محکوم کیوں ہے؟اس کا جواب اس کے سوا کیا ہے کہ عظمت و سربلندی،یا خلافت ارضی،قرآن مجید کو صرف دیکھنے،یا حریرو ریشم کے جزدان میں لپیٹ کررکھنے،یا صرف تلاوت و قرآن خوانی سے تو حاصل نہیں ہوسکتی،کسی بھی کتاب کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب آپ اس کو سمجھتے ہیں،اس پر غور کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالتے ہیں۔جن کا قرآن سے یہ رشتہ تھا وہ سربلند ہوئے جنھوں نے قرآن مجید چھوڑ کر قصے کہانیوں کو پڑھنا شروع کردیا تو وہ بھی قصہ کہانی بنادیے گئے۔آج ہماری رسوائی اور ذلت کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا چھوڑ دیا۔جب سمجھتے نہیں تو عمل کیسے ہوگا،جب عمل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں عزت و سرفرازی اور آخرت میں نجات و کامیابی کیوں کرعطافرمائے گا۔اس مفہوم کوزبان رسالت نے اس طرح فرمایا:
اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ (مختصراً دارمی:ص: 244)
”اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کر نے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا“اوراس حدیث کا مفہوم علامہ اقبالؒ اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
میرے عزیزو! اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا مبارک مہینہ ایک بار پھر آپ پر سایہ فگن ہے۔ نہ معلوم آئندہ یہ مبارک ساعتیں میسر آئیں نہ آئیں۔ابھی توبہ کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ہماری خیر خواہی اسی میں ہے کہ ہم اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں۔اس سے اپنی غلطیوں اور گناہوں کی معافی مانگ لیں۔قرآن مجید کے ساتھ آج تک جو غیر ذمہ دارانہ رویہ ہم اپناتے رہے ہیں،اسے ترک کردیں،اس کو خود سمجھیں،دوسروں کو سمجھائیں،اس کے احکامات کو جانیں،اس پر عمل کریں،اگر اس بار کے رمضان میں ہم نے قرآن سے اپنے تعلق کو مضبوط کرلیاتو ہم بہت جلد ذلت و رسوائی کے عذاب سے نکل جائیں گے۔ان شاء اللہ