از:- ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
۲۹؍شعبان اور۲۹؍ رمضان کو سورج غروب ہونے سے پہلے ہی سے چاند کی رویت اور عدم رویت کے سلسلے میں بحث شروع ہو جاتی ہے ۔موجودہ دور سوشل میڈیا دور کا ہے ، سوشل میڈیا نے بہت سی خبروں کو بہت حساس بنا دیا ہے ، ان ہی میں سے چاند کی خبر بھی ہے ، البتہ چاند کا معاملہ ہر زمانے میں حساس رہا ہے ،جبکہ اس سلسلے میں غور و فکر اور شرعی اصول و ضوابط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔
عام طور پر خبر دو قسم کی ہوتی ہے ، ایک عام خبر اور دوسری خاص خبر ، عام خبر یہ ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے نشر کر دی جاتی ہے اور خاص خبر یہ ہے کہ کسی حوالے سے نشر کی جائے ، عام خبر کا کوئی اعتبار نہیں ،اس لیے کہ اس میں سچ اور جھوٹ ہونے کا پورا احتمال ہوتا ہے ، البتہ خاص خبر جو کسی ادارہ یا کسی نام کے حوالے سے نشر کی جاتی ہے ، ایسی خبر کچھ شرائط کے ساتھ قابل توجہ ہوتی ہیں ،اس سلسلے میں شرعی ضابطے کے مطابق چند معروضات پیش ہیں۔
روزہ رکھنے اور ختم کرنے کا تعلق رویت اور عدم رویت ہلال سے ہے ، حدیث شریف میں ہے :’’ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ‘‘ (صحیح بخاری ) یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ ختم کرو ۔ اسی طرح عید کا بھی تعلق رویت اور عدم رویت ہلال سے ہے ، چاند کی رویت پر روزہ رکھا جاتا ہے اور چاند کی رویت ہی پر روزہ رکھنا بند کیا جاتا ہے اور عید کا اعلان ہوتا ہے ۔
شریعت میں رویت کا مطلب یہ ہے کہ مطلع صاف ہو تو جم غفیر یعنی بڑی تعداد کا چاند دیکھنا قابل اعتبار ہے ، جن کا جھوٹ پر جمع ہونا مشکل ہو اور جب مطلع صاف نہ ہو تو رمضان کے لئے ایک عادل مرد اور ایک عورت کی گواہی کافی ہے ، البتہ عید کے لئے دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورت کی گواہی ضروری ہے ، ان ہی کی شہادت معتبر ہے ، وہ قاضی یا ذمہ دار رویت ہلال کمیٹی کے سامنے شہادت دیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے اور قاضی یا رویت ہلال کمیٹی ان کی شہادت کو قبول کر لے ، پھر دونوں صورتوں میں قاضی؍ کمیٹی کی جانب سے رویت اور عدم رویت ہلال کا اعلان کیا جائے یا اس کی بنیاد پر مرکزی ادارے کی جانب سے اعلان کیا جائے ، غرض رویت ہلال اور عدم رویت ہلال کے اعلان کے لئے شریعت میں ضابطہ موجود ہے۔
مسلم دور حکومت کے اختتام کے بعد ہندوستان میں شرعی امور کی انجام دہی کے لئے کسی ایسے ادارہ کی ضرورت محسوس کی گئی جو شرعی امور کی انجام دہی کے فرائض انجام دے سکے ۔ ملک گیر سطح پر ایسے ادارے کے قیام پر اتفاقِ نہیں ہو سکا ، مگر بہار کے علماء نے اس پر اتفاق کیا اور انہیں عوام و خواص کی تائید حاصل ہوئی ، جس کی بنیاد پر شرعی امور کی انجام دہی کے لئے امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کا قیام عمل میں آیا ، جو موجودہ وقت میں امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ، جھار کھنڈ اور مغربی بنگال کے نام سے موسوم ہے ، پھر اسی نہج پر ادارہ شرعیہ کا قیام عمل میں آیا ، یہ دونوں ادارے ایسے ہیں جن کے تحت نظام قضاء قائم ہے ، پورے بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ میں مفتی اور قاضی مقرر ہیں ، جو دینی امور کو انجام دے رہے ہیں ۔ مذکورہ صوبے میں یہ دونوں ادارے متحرک اور فعال ہیں ، جگہ جگہ ان کے دفاتر ہیں ، مفتی اور قاضی ہیں ، ان کی جانب سے ہر مہینے بالخصوص رمضان ، عید الفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر چاند کی رویت ؍ عدم رویت کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ یہ دونوں ادارے کے مفتیان کرام اور قاضی حضرات کی جانب سے شرعی اعتبار سے شہادت لے کر باضابطہ رویت یا عدم رویت ہلال کا اعلان کیا جاتا ہے اور ان کے پاس شرعی اعتبار سے مقرر کردہ وسائل دستیاب ہیں ، اس لیے مذکورہ صوبوں میں صرف ان ہی دونوں اداروں کو رویت یا عدم رویت ہلال کے اعلان کا اختیار حاصل ہے اور شرعی اعتبار سے ان ہی دونوں اداروں کے اعلان قابل قبول ہیں ، بقیہ بہار کے ادارے ان ہی دونوں کے اعلان کو اپنے عقیدت مندوں کے درمیان بھیجتے ہیں ، اس لئے یہ ضروری ہے کہ بقیہ ادارے امارت شرعیہ اور ادارہ شرعیہ کے اعلان کے بعد چاند کی رویت ؍ عدم رویت کا اعلان کریں ، چونکہ بقیہ اداروں کی حیثیت خبر پہنچانے والوں کی ہے ،مذکورہ بالا صوبوں میں یہ ادارے بحسن و خوبی کام کررہے ہیں ، اس لئے یہاں رویت ہلال کمیٹی نہیں ہے ، یہاں صرف مذکورہ دونوں ادارے کی جانب سے اعلان ہی معتبر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
خاص طور پر عید کا موقع بہت حساس ہوتا ہے ،اس کا تعلق بھی رویت اور عدم رویت سے ہے ، عید کے ساتھ بہت سے معاملات منسلک ہیں ، یہ خوشی کا موقع ہوتا ہے ، اس کے ساتھ بہت سے انتظامات بھی شامل ہو گئے ہیں ، حکومت کے لا اینڈ آرڈر کا بھی اس سے خاص تعلق ہے ، مسلمانوں کی اجتماعیت کا معاملہ بھی اس سے متعلق ہے ، اس اعتبار سے اس کی بڑی اہمیت ہے ، کیونکہ اس موقع پر تحقیق کے لئے وقت بہت کم ملتا ہے ، اس لئے عید کے چاند کا اعلان بہت حساس اور نازک مسئلہ بن جاتا ہے ، اس لئے اس کی ضرورت ہے کہ اس میں احتیاط کا پورا خیال رکھا جائے اور شرعی امور کی رعایت کی جائے تاکہ ملک و ملت میں انتشار پیدا نہ ہو ، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انتشار سے بچائے ۔ اور اتفاقِ و اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔