از:- محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
عبادات کی روح اور ان کی جان خلوص اور حسنِ نیت ہے۔ اگر نیت پاکیزہ نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن اور بے حیثیت ہو جاتا ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا سا عمل بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول و محبوب ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے ہر عبادت کی بنیاد اخلاص اور للہیت پر رکھی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ بندے کے ظاہری اعمال سے زیادہ اس کے دل کی کیفیت کو دیکھا جاتا ہے، اور احادیثِ نبویہ میں بھی نیت کو اعمال کا معیار قرار دیا گیا ہے۔
اسلام میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی اور صدقہ جیسی عظیم عبادات اسی وقت مقبول ہوتی ہیں، جب ان کا مقصد رضائے الٰہی ہو، نہ کہ دکھاوا، رسم یا معاشرتی و سماجی روایت۔ انہی عبادات میں ایک عظیم الشان اور منفرد عبادت روزہ بھی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف خاص نسبت عطا فرمائی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ…” یعنی اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے۔ یہ فرضیت محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، پرہیز گاری اور باطنی پاکیزگی کے حصول کا ذریعہ ہے۔
روزہ دراصل ظاہری ضبطِ نفس کے ساتھ باطنی اصلاح کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص سارا دن بھوکا پیاسا رہے، مگر اس کی نیت ریاکاری، شہرت یا محض عادت کی تکمیل ہو تو ایسا روزہ اپنی اصل روح سے خالی ہوگا، فرضیت تو ادا ہو جائے گی لیکن اجر و ثواب سے خالی ہوگا۔ لیکن جب بندہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو ترک کرتا ہے تو یہی عمل اس کے درجات کی بلندی اور قربِ الٰہی کا سبب بنتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں آتا ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا عطا کروں گا۔
یہ خصوصیت اس عبادت کے خلوص سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پس روزہ محض ایک معاشرتی رسم یا موسمی عبادت نہیں بلکہ ایک شعوری اور قلبی عمل ہے۔ اس کی اصل قدر و قیمت نیت کی پاکیزگی میں مضمر ہے۔ جب روزہ حسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ رکھا جائے گا، تو وہ انسان کے باطن کو نور سے بھر دیتا ہے، اس کی خواہشات کو اعتدال اور توازن بخشتا ہے اور اسے تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے۔
لہٰذا اس تحریر کا مقصود یہی ہے کہ روزہ کو اس کی حقیقی روح یعنی اخلاص و للہیت کے ساتھ سمجھا جائے—کہ یہ عبادت اسی وقت بارگاہِ ایزدی میں مقبول ہے جب وہ خالصتاً للہیت کے جذبے سے ادا کی جائے، نہ کہ عادت، روایت یا دکھاوے کے طور پر۔ کیونکہ روزہ کا اصل مقام اسی اخلاص میں پوشیدہ ہے، اور اخلاص ہی قبولیت کی اور شرط اور ضمانت ہے۔
ہمارے فاضل دوست اور ہمارے علمی کاموں میں مشیر و معاون جناب مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی صاحب نے ،، عمل میں نیت کا وزن،، کے عنوان بہت اچھا لکھا ہے ،اسے بھی ملاحظہ فرمائیں۔
"رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں جب اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہوتی ہیں تو فضا عبادت کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے، کہیں تلاوتِ قرآن کی روح پرور صدائیں ہیں، کہیں رکوع و سجود کی بہار، کہیں صدقہ و خیرات کی سخاوت جلوہ گر ہے اور کہیں آنسوؤں میں ڈوبی دعاؤں کی سرگوشیاں، بظاہر یہ سب اعمالِ صالحہ ہیں؛ مگر سوال یہ ہے کہ الٰہی میزان میں ان کا وزن کس ترازو میں تولا جاتا ہے؟وہ ترازو ہے’’نیت‘‘۔
نیت محض زبان سے ادا کیے گئے چند الفاظ کا نام نہیں، یہ دل کے اس خاموش ارادے کا عنوان ہے، جو بندہ اور رب کے درمیان ایک باطنی رشتہ استوار کرتا ہے، عمل جسم ہے تو نیت اس کی روح، روح نہ ہو تو جسم بے جان ہے اور نیت نہ ہو تو عمل محض ایک ظاہری حرکت،قرآنِ کریم اس حقیقت کو یوں واضح کرتا ہے:
لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (الحج: 37)
اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظاہری صورت و مقدار نہیں؛بل کہ دل کا اخلاص اور تقویٰ معتبر ہے، عمل کی قدر اس کے خلوص سے ہے، نہ کہ اس کی نمود سے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو افراد ایک ہی صف میں، ایک ہی امام کے پیچھے، ایک ہی انداز سے رکوع و سجود کرتے ہیں؛ مگر ان کے اجر میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، ایک کا عمل عرش تک رسائی پاتا ہے اور دوسرے کا عمل محض جسمانی مشقت بن کر رہ جاتا ہے، یہ فرق کس چیز کا ہے؟صرف اور صرف ’’نیت‘‘ کا، رسولِ اکرم ﷺ کا یہ جامع فرمان رہتی دنیا تک اس اصول کو واضح کرتا رہے گا:
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ(بخاری)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
گویا عمل کی حقیقت اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے،نیت بلند ہو تو معمولی عمل بھی بلند ہو جاتا ہے اور نیت کھوکھلی ہو تو عظیم الشان عمل بھی بے وزن، اسی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ اکسیر ہے، جو ذرّے کو پہاڑ بنا دیتی ہے، ایک مومن اگر خلوصِ دل سے ایک کھجور بھی اللہ کی راہ میں دے تو وہ اس کے ہاں اس قدر بڑھا دی جاتی ہے کہ احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو جاتی ہے؛ مگر دوسری طرف اگر عمل پہاڑ جیسا ہو اور اس میں ریا کی آمیزش شامل ہو جائے تو وہ رائی کے دانے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتا، قرآن تنبیہ کرتا ہے:
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (الکہف: 110)
پس جو اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
یہ ’’شریک نہ ٹھہرانا‘‘ صرف بت پرستی سے بچنے کا نام نہیں؛ بل کہ دل میں چھپی ہوئی ریا اور شہرت کی خواہش سے بھی اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔
رمضان دراصل نیت کی تربیت کا مہینہ ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عام عادتوں کو کس طرح عبادت میں بدلا جائے، سحری کے لیے بیدار ہونا بظاہر ایک طبعی ضرورت بھی ہو سکتی ہے؛ مگر جب دل میں یہ شعور جاگ اٹھے کہ ’’میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کر رہا ہوں‘‘ تو یہی عمل عبادت بن جاتا ہے، اسی طرح روزمرہ کے کام، جیسے:اہلِ خانہ کے لیے محبت سے دسترخوان سجانا، کسی پریشان دل کو دیکھ کر خلوص سے مسکرا کر اس کی پریشانی کو ہلکا کرنا، راستے میں کسی کی مدد کر دینا وغیرہ ، اگر ان سب کے پیچھے نیت ’’رضائے الٰہی‘‘ ہو، تو یہی معمولی اعمال بندگی کے دفتر میں عظیم اعمال بن کر درج ہو جاتے ہیں۔
رمضان ہمیں خود احتسابی کا سلیقہ سکھاتا ہے،ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ رک کر اپنے دل سے سوال کیجیے:میں یہ کس کے لیے کر رہا ہوں؟لوگوں کی تحسین کے لیے یا اپنے رب کی رضا کے لیے؟یاد رکھیے! قیامت کے دن ظاہری صورتیں نہیں، دلوں کے راز کھولے جائیں گے:
اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ. وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ. (العادیات: 9-10)
کیا وہ نہیں جانتا ،جب قبروں کی چیزیں نکال لی جائیں گی اور سینوں کی باتیں ظاہر کر دی جائیں گی؟
وہ دن نیتوں کا دن ہوگا،جس دن عمل کی نہیں، اخلاص کی قدر ہوگی”۔
بار الہا ! ہمیں تمام عبادات اور اعمال و افعال میں اخلاص و للہیت نصیب فرما ، دکھاوا ،نام و نمود، ریا سے بچا اور ہماری تمام عبادات کو قبول فرما اور خاص طور پر ماہ رمضان کے روزے، تلاوتِ، تراویح اور قیام لیل کو قبول فرما، نیز اس ماہ کی قدر دانی کی بھرپور توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین