تحریر:۔ شیزا جلال پوری
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، سڑکیں کشادہ ہوتی جا رہی ہیں، بازار روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں، مگر دلوں کے اندر کا اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے۔ بظاہر ترقی کی رفتار تیز ہے، مگر تہذیب و تمدّن کے شجر جیسے بے آب و گیاہ کھڑے ہیں۔ شاخیں تو موجود ہیں، پتے بھی کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں، مگر ان میں وہ تازگی، وہ سرسبزی اور وہ خوشبو نہیں رہی جو کسی زندہ تہذیب کی پہچان ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنی بڑی عمارتیں کھڑی کر لیں یا کتنی تیز رفتار گاڑیاں حاصل کر لیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان رہنے کے قابل کتنا چھوڑا ہے۔
تہذیب کسی نصاب کی کتاب کا باب نہیں ہوتی کہ پڑھ کر بند کر دی جائے۔ تہذیب روزمرہ کے رویّوں میں سانس لیتی ہے۔ وہ لہجے کی نرمی میں، اختلاف کے احترام میں، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں کی شفقت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ تمدّن کا مفہوم صرف ظاہری چمک دمک نہیں بلکہ اندرونی ترتیب اور اخلاقی توازن ہے۔ جب زبان سخت ہو جائے، نظریں نیچی ہونے کے بجائے نفرت سے بھر جائیں، اور دلوں میں برداشت کی جگہ تنگ پڑ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ تہذیب کا درخت پیاسا ہے۔
آج ہمارے سماج میں گفتگو کا معیار گر چکا ہے۔ اختلاف رائے اب تہذیبی انداز میں نہیں ہوتا بلکہ چیخ و پکار میں بدل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کو آسان بنا دیا، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور کر دیا۔ لوگ یہ سوچنے سے پہلے کہہ دیتے ہیں کہ ان کی بات کسی کے دل پر کیا اثر ڈالے گی۔ الفاظ تیر بن چکے ہیں اور لہجہ زخم دینے کا ہنر سیکھ چکا ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ زبان کا کام صرف بات پہنچانا نہیں، دلوں کو جوڑنا بھی ہے۔ جب زبان زہر آلود ہو جائے تو تہذیب کی جڑیں سوکھنے لگتی ہیں۔
گھر وہ پہلی نرسری ہوتا ہے جہاں تہذیب کے پودے لگائے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج گھروں میں وقت کی کمی، توجہ کی قلت اور صبر کی کمی نے تربیت کے عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ والدین مصروف ہیں، بچے اسکرینوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ ماں باپ کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ بڑوں کے سامنے ادب سے بیٹھنے، بات سننے اور سوال پوچھنے کا سلیقہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ جب گھر میں تربیت کا چراغ مدھم پڑ جائے تو سماج میں تہذیب کی روشنی کہاں سے آئے گی؟
تعلیمی ادارے بھی صرف ڈگریاں بانٹنے کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ تعلیم اگر کردار سازی نہ کرے تو وہ صرف معلومات کا بوجھ بن جاتی ہے۔ استاد کا رشتہ شاگرد سے محض نصاب تک محدود ہو جائے تو دل سے دل تک پہنچنے والا وہ رابطہ ٹوٹ جاتا ہے جو تہذیب کو منتقل کرتا ہے۔ کلاس روم میں برداشت، مکالمہ اور شائستگی نہ سکھائی جائے تو پھر ہم معاشرے میں انہی قدروں کے فقدان پر حیران کیوں ہوں؟ تعلیم کا مقصد صرف نوکری کے قابل بنانا نہیں بلکہ بہتر انسان بنانا بھی ہے۔
ہماری اجتماعی زندگی میں بھی ایک بے چینی پھیل گئی ہے۔ جلدی میں فیصلے، غصے میں ردِعمل اور ضد میں اصرار ہماری عادت بنتا جا رہا ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے ہم اسے دشمنی بنا لیتے ہیں۔ اپنی بات منوانے کے لیے دوسرے کو نیچا دکھانا ہم نے کامیابی سمجھ لیا ہے۔ اس روش نے سماج کے اندر ایک ایسا تناؤ پیدا کر دیا ہے جس میں تہذیب کے نازک پودے پنپ نہیں سکتے۔ تہذیب سکون مانگتی ہے، مکالمہ مانگتی ہے اور دلوں میں کشادگی مانگتی ہے۔
بازاریت نے ہمارے رویّوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ہر چیز کو فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔ رشتے بھی سود و زیاں کی زبان میں بات کرنے لگے ہیں۔ خلوص کو سادگی سمجھ لیا گیا ہے اور وقار کو کمزوری۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ کچھ اقدار ایسی ہوتی ہیں جن کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ احترام، اعتماد اور وفاداری وہ سرمایہ ہیں جو اگر ختم ہو جائیں تو سماج دیوالیہ ہو جاتا ہے، چاہے معیشت کے اعداد و شمار کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں۔
مذہبی اور اخلاقی روایتیں بھی ہمیں توازن سکھاتی ہیں، مگر افسوس کہ ہم نے ان کی روح کو چھوڑ کر صرف ظاہر کو پکڑ لیا ہے۔ عبادت اگر انسان کو نرم دل نہ بنائے، اخلاق اگر رویّوں میں نظر نہ آئے، اور ایمان اگر دوسروں کے لیے آسانی نہ پیدا کرے تو وہ محض رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ تہذیب و تمدّن کی آبیاری صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل سے مثال قائم کرنے سے ہوتی ہے۔ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا وہ پہلا قطرہ ہے جو سوکھے درخت کو تازگی دے سکتا ہے۔
صحافت اور ادب کا کردار بھی یہاں اہم ہو جاتا ہے۔ قلم اگر محض سنسنی کے پیچھے بھاگے تو معاشرے میں اضطراب بڑھتا ہے۔ ذمہ دار صحافت وہ ہے جو سوال بھی اٹھائے اور زخم پر مرہم بھی رکھے۔ ادب وہ آئینہ ہے جس میں سماج اپنا چہرہ دیکھتا ہے۔ اگر اس آئینے میں نفرت کی لکیریں زیادہ نظر آئیں تو یہ محض ادب کا قصور نہیں، بلکہ سماج کی تصویر ہے۔ مگر ادب کا کمال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں چراغ جلانے کی جرأت بھی رکھتا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تہذیب و تمدّن کے شجر کو دوبارہ ہرا کرنے کے لیے فوری نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ یہ ایک طویل عمل ہے جس میں گھروں سے لے کر تعلیمی اداروں تک، بازار سے لے کر میڈیا تک سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ ہمیں اپنے لہجوں کو نرم کرنا ہوگا، اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا، اور گفتگو میں شائستگی کو واپس لانا ہوگا۔ ہمیں بچوں کو صرف مقابلہ جیتنا نہیں بلکہ ہار کو وقار سے قبول کرنا بھی سکھانا ہوگا۔
تہذیب کا درخت پانی مانگتا ہے۔یہ پانی محبت، برداشت اور ذمہ داری کے جذبے سے بنتا ہے۔ جب ہم روزمرہ کے چھوٹے معاملات میں سچائی، دیانت اور احترام کو جگہ دیتے ہیں تو گویا ہم اس درخت کو پانی دیتے ہیں۔ جب ہم غصے میں بھی زبان کو قابو میں رکھتے ہیں تو ہم اس درخت کو سایہ دیتے ہیں۔ جب ہم اختلاف کے باوجود رشتہ نہیں توڑتے تو ہم اس درخت کی جڑیں مضبوط کرتے ہیں۔
اگر آج ہم نے اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو کل ہمیں صرف شاخوں کا جنگل ملے گا جس میں سایہ نہیں ہوگا۔ تہذیب و تمدّن کے شجر کو ہرا کرنے کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ترقی کے ساتھ انسانیت، سہولت کے ساتھ شائستگی اور رفتار کے ساتھ وقار کو جوڑنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم خشک پڑے ہوئے درختوں میں دوبارہ زندگی کی رمق پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں بشرطیکہ ہم خود کو بدلنے کا حوصلہ پیدا کر لیں۔