تجدُّد کا تہہ در تہہ شَر اور ہمارا تردّد

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی

جب ہم کہتے ہیں اسلام عقل کے مطابق ہے تو لوگ سمجھتے ہیں ریشنل ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام ایک فطری دین ہے تو لوگ سمجھتے ہیں نیچرل ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام میں کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے تو لوگ سمجھتے ہیں اسلام مساوات کی بات کرتا ہے، جب ہم کہتے ہیں دین میں کوئی جبر نہیں تو لوگ لبرل ازم کا تصور اٹھا لیتے ہیں، جب ہم کہتے ہیں اسلام ساری دنیا کےلئے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام گلوبلائزیشن کی دعوت دیتا ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام انسانیت کی فلاح کےلئے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ہیومن ازم کو سپورٹ کرتا ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام عورت کے رشتوں پر مبنی حقوق کو بیان کرتا ہے تو یوں گمان کیا جاتا ہے کہ اسلام فیمن ازم کے ساتھ کھڑا ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام غریبوں مزدوروں کا حامی ہے تو لوگ اسے اشتراکیت کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں، جب ہم کہتے ہیں اسلام … تو لوگ سمجھتے ہیں … ھکذا _

درج بالا جملے ایک مرتبہ پڑھ چکے، دو بارہ پڑھیے بلکہ بار بار کئی بار پڑھیے! یہ صرف جلمے نہیں ہیں، یہ لمبی مطالعاتی جدو جہد اور گہرائی کی متقاضی تحقیق کا آغاز چاہتے ہیں، یہ بتلاتے ہیں کہ کیسے داخلی طور پر مغرب کے ”تصورِ خیر“ اور اس سے پیدا ہونے والے نظریات کو اسلامی تعلیمات سے مؤید کرنے کی ناقص کوشش بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے، مغربی نظریات کے پیچھے کار فرما نہایت پیچیدہ اور ضرر رساں محرکات کو نظر انداز کر کے؛ مغربی فکر کے اسلامی جواز تراشنے کا یہ کام؛ تجدد پسندوں کی جانب سے جان بوجھ کر تحسینی انداز میں ہوتا ہے جبکہ روایتی لوگ انجانے میں نادانی کے ساتھ اس طرح کی کوششوں کا حصہ بن جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنی اِس نادانی کو فخریہ انداز میں دینی کارنامہ بھی گردانتے ہیں _

سادہ الفاظ میں یوں سمجھیے کہ مغرب جن امور کو اچھا کہہ رہا ہے ان تمام یا اکثر امور کو اسلام کی روشنی میں اچھا دکھانے کی ایک ہوڑ لگی ہے بعض ایسے لوگوں کے درمیان جو خود کو دین کا نمائندہ سمجھتے ہیں یا عام لوگ ان کے بارے میں ایسا خیال رکھتے ہیں، یہ اصل میں دو گروہ ہیں _

▪️ایک سادہ لوح فقیہِ حرم کا
▪️دوسرا جدّت پسند حیلہ گر کا

پہلا خیر کا طالب مگر شر کی عیاریوں سے ناواقف اور دوسرا شر کا داعی بلکہ واضع مگر خیر کی طلب کا ڈھونگ رچانے والا، سچ یہ بھی ہے کہ متجدد؛ اسلام کی سر بلندی نہیں چاہتا، وہ تو بس اتنا اسلام چاہتا ہے جس سے وہ مسلمان کہلاتے ہوئے تمام مغربی رویوں کی پیروی کر سکے، اس کے بر عکس روایتی عالم کہلانے والا شخص چاہتا تو حمایتِ دین ہے مگر اپنی کم علمی کے باعث خود اسلامی روایت ہی کو مسخ کر بیٹھتا ہے _

ذیل میں ہم اِس پورے پیچیدہ عمل کو ایک دو واضح مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مثال کے طور پر اگر ریشنالٹی کا مطلب ہر طرح کی آسمانی ہدایت وحی الہام وغیرہ کا انکار کرنا اور محض انسانی عقل کے سہارے دنیا و مافیہا کی توجیہ اور انسانی زندگی کے حقائق و مقاصد کا تعین کرنا ہے تو ایک ایسا نظریہ قرآن کی دعوتِ تدبّر و تفکر کا مترادف یا متبادل کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا کسی روایتی عالم کی طرف سے بار بار آیات تدبّر پڑھ کر یہ دعوت دینا کہ قرآن بھی سوچ سمجھ کر قبول کرنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے، در حقیقت عقل کے دم پر وحی کے انکار والے مغربی نظریہ کو اسلامی لیبل لگانے کی کوشش کرنا ہے، یہی کام بہت شعور کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ متجدد انجام دیتا ہے اور یہ یقین کرتا ہے کہ اسلام کو مغرب کے مطابق بنانا ہی اصل خدمتِ دین ہے، وہ تدبّر کی ایسی تمام آیات کو صرف اتنا ثابت کرنے کےلئے استعمال کرتے ہیں کہ مغرب کی محض عقل کے ذریعے حقائق کو جانچنے کی کوشش کوئی قبیح نہیں ہے بلکہ خود ایک قرآنی حکم پر عمل ہے، گویا ہمیں مغرب کو عقلیتِ محض پر ٹوکنے کی بجائے ان سے کچھ سیکھنا چاہیے، اِس بے ہنگم استدلال کو ایک متجدد قرآن کا پیغام کہہ کر عام مسلمانوں کے سامنے پیش کرتا ہے، کیا بدیہی مقدمات کے بعد عقل کو وحی کے ”تابع“ کرنا اور عقل کو محض ”آزادانہ“ استعمال میں لانا، ان دونوں رویوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے؟ بالکل ہے، بہت زیادہ ہے اور اسی فرق کی لکیر کو خوب نمایاں کر کے دکھانا زمانے کی ضرورت ہے یا کم از کم مسلم معاشرے کی ضرورت ہے _

اسی طرح کی ایک اور مثال دیکھئے، جب کہا جائے کہ اسلام فطری دین ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انسانی فطرت کی اعتقادی و عملی ضرورتیں جن عقائد و احکام سے تسکین پا سکتی تھیں؛ اسلام نے عین اسی کی طرف بلایا ہے، یہی واضح مراد ہے اسلام کے دین فطرت ہونے کی مگر آیاتِ فطرت سنا سنا کر اگر کوئی روایتی عالم اُس فطرت کے تسخیری عمل کو ثابت کرے جس کو سائنس اپنے نظریات کےلئے بنیاد بناتی ہے اور جو بے جان مشینی انقلاب کی روح ہے تو سوال یہ آتا ہے کہ کیا فطرت کی ایسی ظالمانہ سفّاک تسخیر کا اسلام کے تصورِ کائنات میں کوئی جواز مل سکتا ہے؟ بلکہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہوگا کہ فطرت کی پابند کائنات میں خدا کا کیا کام ہے؟ یا یہ سوال کہ فطرت کی پابند کائنات میں معجزہ کیسے ممکن ہے؟ اگر اسلام کے دینِ فطرت ہونے کی ایسی توجیہ کی جائے گی جو مغرب کے نظریہ تسخیر سے میل کھاتی ہو اور کائنات میں سفاکانہ تصرف کو خیر بتلاتی ہو تو ایسے تمام سوالات کسی روایتی شخص کو لاجواب کر دیں گے اور نتیجے میں خود مسلمان کے لیے اسلام اپنے بنیادی عقائد میں مشکوک ہو کر رہ جائے گا، روایتی شخص کا یہ عمل انجانے میں ہوگا مگر متجدد اسی عمل کو دانستہ طور پر عملِ خیر ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، وہ اسلام کے دین فطرت ہونے کا عین وہی مطلب بتائے گا جو مغرب کی ترقی، ٹیکنالوجی اور نیچرل سائنس کا ہوتا ہے، اگر چہ اپنا مطلب بتاتے ہوئے اُسے اسلام کی ساکھ داؤ پر لگا دینی پڑے، کتنا فرق ہے مغرب کے نیچرل ازم اور اسلام کے دین فطرت ہونے میں؟ مگر اِس حقیقت کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے آج کے مسلمان کے لیے دونوں کے درمیان کی حدِ فاصل بہت دھندلا کر رہ جاتی ہے _

ایک مختصر تحریر میں دو مثالیں کافی ہیں تجدّد کے خلط اور اس کے پوشیدہ تباہ کن شر کی تفہیم کےلئے اسی تہہ در تہہ خلطِ نظریات کو بہت صفائی کے ساتھ کھولنا اور دونوں قریب قریب نظر آنے والے عناوین کے درمیان موجود؛ بُعد المشرقین کو واضح کرنا، یہی آج کا کام ہے جسے ہم عمومی الفاظ میں ”جدیدیت کا تعاقب“ یا خصوصی وضاحت کے ساتھ ”مذہبی جدیدیت کا انکشاف اور اس کا تعاقب“ کے عنوان سے معنون کر سکتے ہیں، یہ کام نہایت ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مشکل بھی ہے، اس فیلڈ میں جو خاص دقت پیش آتی ہے وہ یہ کہ ہر چار سطر جاننے والا اور آٹھ کتابیں پڑھنے والا جھٹ سے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے ”ہم اس کام کےلئے پرفیکٹ آدمی ہیں، آج عزم کیا ہے، کل سے شروع“ مگر زمینی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ایسے کام کےلئے جو اہلیت درکار ہوتی ہے اس کا عشر عشیر بھی ان میں نہیں پایا جاتا، اِس کام کےلئے آج ہی روایت کے حامی علماء کو آگے آنا ہوگا، اگر دانا ہیں تو قدم بڑھانا ہوگا، ورنہ اپنے اندر وہ خاص دانائی پیدا کرنی ہوگی جو سونے کو پیتل سے ممتاز کرنے کی نظر عطا کر دے، پھر صاحب نظر اور دانا حضرات جو اِس مشکل مگر اہم راہ میں آتے ہیں ان کو بھی، قدم رکھنے سے لے کر قدم جمنے تک کے دوران، ایک خاص قسم کا تردّد گھیرتا ہے، پہلے تو وہ عامی کی طرح مغربی نظریات سے اسلامی فکر کی ظاہری ہم آہنگی دیکھ کر مارے فرحت کے خوب تطبیقی نکات تراشتا ہے مگر جب دھیرے دھیرے اُس پر مغربی نظریات کا شر کھلنے لگتا ہے اور اسلام کے روایتی فکری دھارے کی معقولیت شفاف شکل میں آشکار ہوتی ہے تو وہ حیرت میں گھِر جاتا ہے _

اگر وہ روایتی اسلامی رویوں کو حتمی جان کر مغرب کے جدید نظریات کا انکار کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے تو ڈر محسوس کرتا ہے کہ کہیں وہ اہل اسلام کو پیچھے ڈھکیل کر مزید زوال کی طرف تو نہیں ڈال دے گا؟ اُسے لگتا ہے وہ تمام ٹیکنالوجی سے عاری بیل گدھے والی دنیا میں مسلمانوں کو لوٹانے کا کام کر رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ اُسے یہ خوف بھی رہتا ہے کہ اگر تطبیقی انداز کو نہ چھوڑا اور صاف طور پر مغربی نظریات کا انکار نہ کیا تو مسلمان ممکن ہے جدید سہولیات تو خوب بسا لے مگر دین کے حقیقی دھارے سے کٹ جائے گا اور اسلامی رسوم کے نام پر محض کسی مغربی نظریہ کی پیروی میں مست رہے گا، انکار و اثبات کی اسی کشمکش کے دوران پھر سے ذہن کے کسی گوشے میں ایک ڈر سا ابھرتا ہے. کیا ہم پوری ترقی یافتہ دنیا کے خلاف جا کر اہل اسلام کا نقصان نہیں کر رہے؟ کیا ہم تمام سائنسی ایجادات کے ترک کو لازم قرار دیں گے؟ کیا ہم اسلام کو ٹھیٹھ روایتی بتلا کر خود اسلام و اہل اسلام کی تضحیک کا سامان نہیں کریں گے؟ وغیرہ وغیرہ _

یہی وہ تردد ہے جو ایک روایتی عالم کےلئے پورے لگاؤ کے ساتھ ”مغربیت“ کی تردید کے معاملے میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے، شکوک و شبہات کے بادل دل میں روایتی مناہج کا اثر جمنے نہیں دیتے اور ایسے میں بہت سمجھدار حضرات ایسے نظریات کا سہارا لیتے ہیں جو سمجھ سے باہر ہوتے ہیں، چند سالوں کے تردد کے بعد تردید کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اور خود تجدّد کا مخالف شخص فکری طور پر بچے رہنے کے باوجود عملی دنیا کے تجدد کا حصہ بن جاتا ہے، یوں روایت کی ایک مضبوط آواز صفحہ ہستی سے غائب ہو جاتی ہے اور میدان پھر سے خالی، تردد کے سبب پیدا ہونے والے ایسے ڈر کا مقابلہ صرف یقینِ کامل سے کیا جا سکتا ہے، ایسا یقین کامل جو اپنے اندر اعتدال کا وسط لئے ہوئے ہو، ایسا یقین جو اسلام اور مغرب کے شدید نامناسب مجمع البحرین کے درمیان نہایت مناسب آڑ کا کام کرے، اسلام کے کسی خیر کو مغرب کی طرف منتقل ہونے سے نہ روکے اور مغرب کے شر کو کسی بھی شکل میں اسلامی فکر یا معاشرت میں در آنے سے روکے. یہ تردد بہت سہولت سے دور ہو جاتا ہے جب نجاتِ اخروی پر نظر جم جاتی ہے اور دنیاوی ترقی کا کم تر خواب اسلام کی جھولی میں ڈالنے کا لایعنی بوجھ سر سے اتار دیا جاتا ہے _

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔