از:- محمد ناظم اشرف
مفتی دار الافتاء ادارہ شباب اسلامی ، دہرہ دون ، اتراکھنڈ
علم وہ جوہرِ گراں مایہ ہے جو انسان کو حیوانیت کے درجے سے نکال کر شرافتِ انسانی کے مرتبے تک پہنچاتا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے ذریعے دلوں میں روشنی، دماغوں میں وسعت اور کردار میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ علم انسان کو اپنی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے، زندگی کے مقصد کو واضح کرتا ہے اور عمل کو درست سمت عطا کرتا ہے۔ یہی علم قوموں کے عروج کا سبب اور ان کے زوال کا علاج ہے۔ جو قومیں علم سے محروم ہو گئیں، وہ ذلت و پستی میں جا گریں، اور جنہوں نے علم کو اپنا شعار بنایا، وہ قیادت و سیادت کی بلندیوں تک جا پہنچیں۔
ہم جانتے ہیں کہ علم، اگر صحیح بنیادوں پر حاصل کیا جائے، تو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے، اسے اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور اس کے کردار کو نکھارتا ہے اور اس کو جہالت و تاریکی سے ممتاز کرتا ہے چونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
سورة الزمر ،( 9)
یعنی کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں، ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو نہیں جانتے؟
اسی علم کو اگر مقصدِ حیات سے خالی کر دیا جائے، اور اسے محض دنیاوی ترقی اور معاشی برتری کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہی روشنی اندھیرا بن جاتی ہے، یہی نعمت زہر بن جاتی ہے اور یہی علم جب قوم کی خودی کو مٹا کر اس کے ذہن کو بیگانہ افکار سے بھرتا ہے، تو قوم آزاد ہو کر بھی غلام رہتی ہے اسی کو علامہ اقبال نے اس طرح بیان کیا ہے کہ
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو،
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
یہ شعر صرف علامہ اقبال کی شاعری کا ایک ادبی استعارہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی زندگی کی ایک تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی کی زنجیروں سے زیادہ خطرناک وہ زنجیر ہے جو ذہن و فکر کو باندھ دے، اور قوم کو اس کی اپنی پہچان سے محروم کر دے۔ تلوار سے جیتی گئی جنگیں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں، مگر ذہنی غلامی کا سفر صدیوں تک قوموں کے مزاج میں سرایت کر جاتا ہے۔ اور یہی وہ کارفرما حقیقت ہے جسے اقبال نے “تعلیم کا تیزاب” کہا، ایک ایسا تیزاب جو خودی کے فولاد کو نرم کر دیتا ہے اور انسان کو اپنی ہی ہستی سے بیگانہ بنا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدارس سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ………
ہم نے اپنی تاریخ میں دیکھا کہ جب استعماری طاقتوں نے برصغیر پر قبضہ کیا تو ان کا پہلا ہدف ہماری سیاست یا زمین کو ہڑپنے کے ساتھ ہمارا نظامِ تعلیم پر بھی قبضہ کرنا تھا۔ انہوں نے ہمارے مدارس کے چراغ بجھائے، ہماری زبانوں کی عزت چھینی، اور ایک ایسا نصاب دیا جو ہمیں ہماری تاریخ، تہذیب اور ایمان سے کاٹ دے۔ وہ جانتے تھے کہ جس قوم کے دل و دماغ کو اپنے رنگ میں رنگ دیا جائے، وہ خود چل کر غلامی کی راہوں پر آ جائے گی۔ اس طرح تعلیم ایک ہتھیار بن گئی ، مگر وہ تلوار نہیں جو دشمن کے خلاف اٹھے، بلکہ وہ خنجر جو اپنی جڑوں پر چلایا گیا۔
قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ ہم ان قوموں کے راستوں پر نہ چلیں جنہوں نے ہدایت کو گمراہ کن خواہشات کے تابع کر دیا۔ فرمایا گیا:
"وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ
(سورة المائدة , 77)
یعنی ان قوموں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے ہی راہِ حق سے بھٹک چکی ہیں۔ تعلیم کا وہ نظام جو ہمارے دلوں سے قرآن کا نور، رسول ﷺ کی محبت، اور ہماری تہذیبی غیرت چھین لے، وہ دراصل اسی گمراہی کی راہ ہے۔ علم وہی نافع ہے جو ہمیں اللہ کے قریب کرے، ہمارے کردار کو مضبوط بنائے، اور ہمیں اپنے مقصدِ تخلیق کا شعور دے۔
انسان صرف مال و دولت کمانے کی مشین نہیں ہے کہ چند ٹکے حاصل کرنے کی ریس میں لگ جائے اور تعلیم و تعلم کو بھی صرف اور صرف ذریعہ معاش بنا لے خواہ اس کے کتنے ہی نقصانات ہو یا انسانیت ہی اس سے تباہ و برباد ہوتی ہے ، جب تعلیم کا رشتہ خالق و مالک سے کاٹ دیا جاتا ہے تو وہ انسانیت کو ہلاکت کے اس دہانے پر لیجاتا ہے جہاں آج انسانیت پہنچ گئی ہے جس طرح سائنس و ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا کو برباد کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہیں جس کے پاس جس قدر ٹیکنالوجی ہے وہ اسی قدر ظلم و بربریت پر تلا ہوا ہے اور کمزور و معصوم انسانوں کو اپنی ہوس کا شکار بنا رہا ہے ،
اگر اسی نظام تعلیم و تعلم کو خالق و مالک سے جوڑ دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں توازن پیدا ہوگا اور خوف خدا ظلم و بربریت کی حد پار کرنے کے لئے مانع ہوگا، ظالم ظلم سے بچے گا اور مظلوم کو انصاف ملے گا، طاقتور کمزور کا ساتھ دیگا اور کمزور کو تقویت حاصل ہوگی اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہم قرآنی و رحمانی رہنمائی میں اپنے دینی و عصری غیر منقسم تعلیمی نظام کو ہر تعلیمی درسگاہ میں قائم کریں گے ،
ورنہ ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ جدید تعلیم کے تیزاب نے ہماری خودی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو پسِ پشت ڈال کر بیگانہ لہجوں کو فخر سمجھ لیا، ہم نے اپنی تاریخ کو بھلا کر دوسروں کی داستانوں کو اپنی کامیابی کا معیار بنا لیا، اور ہم نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر دوسروں کے رنگوں میں ڈھل جانا سعادت سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی آزادی کے باوجود ہماری فکری و تہذیبی غلامی برقرار ہے۔ ہم آزاد ہیں مگر سوچ غلام ہے، ہم ترقی یافتہ ہیں مگر خودی شکستہ ہے۔
اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی وہ خودی کو بیدار کرنے کی تعلیم تھی۔ قرآن کہتا ہے:
وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي
(الحجر:29)
یعنی انسان میں اللہ نے اپنی روح پھونکی۔ یہ روحِ الٰہی انسان کو عزت، شعور اور مقصد عطا کرتی ہے۔ اور رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ
أبو داود (3641)، والترمذي (2682)،
جو شخص علم کے حصول کی راہ پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ یہ تعلیم وہ نہیں جو محض روزگار یا شہرت کے لیے ہو، بلکہ وہ علم ہے جو دل کو تقویٰ، عمل اور خشیتِ الٰہی سے لبریز کرے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تعلیم کو دوبارہ ایمان اور کردار کی بنیادوں پر استوار کریں۔ ہمیں اپنے نصاب میں قرآن، سیرتِ نبوی، اسلامی تاریخ اور اخلاقی تربیت کو مرکزی حیثیت دینی ہوگی۔ ہمیں اپنی مادری زبان کو عزت دینی ہوگی، کیوں کہ زبان شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ترقی مغرب کی تقلید میں نہیں بلکہ اپنی فطرتِ ایمانی کے احیاء میں ہے۔ ہمیں یہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ علم اگر خودی کے ساتھ ہو تو قوم کو آسمانوں تک پہنچا دیتا ہے، اور اگر خودی سے خالی ہو تو سونا بھی مٹی بن جاتا ہے۔
ہمیں اپنی درسگاہوں کو وہ چراغ بنانا ہوگا جہاں ذہن آزاد اور روحیں مضبوط ہوں۔ جہاں علم صرف معلومات نہ دے بلکہ شعور پیدا کرے، جہاں تعلیم صرف نوکری نہ دلائے بلکہ مقصدِ حیات کا احساس جگائے۔ کیونکہ جب علم عبادت بن جائے تو قومیں عروج پاتی ہیں، اور جب علم غلامی کا وسیلہ بن جائے تو تمدن زوال کا شکار ہوتا ہے۔
ہمیں اس تیزاب کو پہچاننا ہے جو ہماری خودی کو پگھلا رہا ہے، اور اس کی جگہ وہ آبِ حیات تلاش کرنا ہے جو ایمان، تقویٰ اور خودشناسی سے نکلتا ہے۔ یہی تعلیم کا اصل مقصد ہے، یہی قرآن کا پیغام ہے، اور یہی وہ اقبال کا خواب ہے جس میں امتِ مسلمہ اپنی شناخت کے ساتھ دنیا میں روشنی کا مینار بن کر ابھرے۔ جب ہم تعلیم کو دوبارہ ایمان کی بنیاد پر استوار کریں گے تو نہ صرف ہم غلامی کے اثرات سے آزاد ہوں گے بلکہ دنیا کو بھی بتا سکیں گے کہ علم جب رب کے لیے ہو تو زمین سے آسمان تک روشنی بکھیر دیتا ہے۔