ایپسٹن فائل اور” ابراہیمی منصوبۂ امن "کے تناظر میں
✍️ڈاکٹر محمد طارق ایوبی
مغربی تہذیب "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ” کا مصداق رہی ہے، اس کا چہرہ روشن لیکن اندرون تاریک تر رہا ہے، جبر و استبداد، استعماری سوچ اور ظلم و جور میں اس کا موازنہ چنگیزیت سے بھی نہیں کیا جاسکتا، چنگیزی مظالم اس کے سامنے پھیکے نظر آتے ہیں، اس تہذیب کی سب سے عمدہ تعبیر "شجرۂ خبیثہ”ہے، اس تہذیب میں روحانیت، خداترسی بلکہ خدا کا تصور ہی نہیں، اور جب کوئی تہذیب خدا کے تصور اور خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس سے خالی ہو، خدا کے سامنے محاسبہ کا تصور ہی نہ ہو ،تو پھر اس کے علمبردار آدم خور، بھیڑیے، حیا باختہ اور دیوث بن جاتے ہیں، اسکی معاشرت گھناؤنی ہو جاتی ہے، اس کے یہاں لذت کوشی اور لذت اندوزی ہی سب کچھ بن جاتی ہے، سوروں اور کتوں کی بے حیائی، لومڑی کی عیاری، گدھ کی چھین جھپٹ، بھیڑیوں کی چیر پھاڑ اس تہذیب کے علمبرداروں کی فطرت بن جاتی ہے، جی ہاں! دنیا عرصہ سے مغربی تہذیب کی عسکری کارروائیوں کا مشاہدہ کر رہی ہے، اس تہذیب کے پرستاروں نے جس طرح فریب دے کر اور جھوٹ بول کر انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے، وہ مغرب کی خونیں تاریخ کا حصہ ہے، اسکی عسکری کارروائیوں کی انتہا غزہ کی حالیہ جنگ ہے، جہاں سارے آسمانی ، انسانی اور عالمی قوانین دفن کر دیے گئے، انسانیت کے پرخچے اڑا دیے گئے، معصوم بچوں کو بے دریغ قتل کیاگیا، بھوک اور پیاس کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیاگیا،ظلم کا ننگا ناچ، بربریت کی انتہا، حیوانیت کی ساری حدیں پار کر دی گئیں، اور یہ سب کچھ ان لوگوں نے کیا جو تہذیب حاضر کے علمبردار ہی نہیں، بلکہ معلم ا خلاق و انسانیت ہونے کا دعوی کرتےو ہیں،حقوق انسانی، آزادی،حقوق اطفال، حقوق نسواں، مساوات اور مکالمے کی مہم چلاتے ہیں، سچی بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوہرا چہرہ رکھتے ہیں، دوغلے معیار رکھتے ہیں، یہ انسانیت کے داعی نہیں، انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، انسانیت کو سب سے بڑا مذہب بتانے والے دن رات انسانیت کا خون کرتے اور انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں۔
مغربی تہذیب ہمیشہ سے پر فریب اور مکر و نفاق کی علمبردار رہی ہے، ہم اس موقع پر سلام پیش کرتے ہیں ان مفکرین اور علمائے اسلام کو، جنھوں نے بہت پہلے اس کے فریب کو بھانپ لیا اور اپنے قلم سے اس کے نقائص و معائب، قساوت، شقاوت اور ہوسناکی کو آشکار کیا، عالم عربی کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ برصغیر میں علامہ اقبال، مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہم اللہ کی تربت پر خدا رحمتوں کی بارش کرے کہ انھوں نے اس ” شجرۂ خبیثہ” اور اسکی شاخوں کے تعارف میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، خطرہ کو قبل از وقت بھانپ لیا، اور آگاہ کیا، اس تہذیب نے روز اول سے مکر و فریب، دوغلے پن یعنی خوبصورت ظاہر اور پُرفریب و تاریک تر باطن اور ظلم و استحصال پر اپنی عمارت تعمیر کی، اس نے بیک وقت طاقت کے تمام وسائل کو استعمال کیا، سختی و نرمی کو ایک ساتھ برتا، سرد و گرم جنگ کے ہر دومحاذ پر سرگرم عمل رہی، ایک طرف جنگیں مسلط کیں تو دوسری طرف انسانی حقوق کی دہائی دی، اگر غزہ مغربی تہذیب کی شقاوت و سختی اور عسکری و استعماری سوچ کا منظر پیش کرتاہے تو "ابراہیمی منصوبہ” اسکی نرم پالیسی اور عیارانہ فکر کے ذریعہ فکری یلغار اور تہذیبی تسلط کا شاہکار ہے، اس عیارانہ سوچ اور نرم پالیسی کے سبب اس تہذیب میں کچھ ظاہری اخلاق و فضائل بھی پیدا ہوگئے، جنھوں نے ہمارے یہاں کے دیسی لبرل کو جنوں کی حد تک اس کی پرستاری میں مبتلا کر دیا، عملا یہ تہذیب اس وقت میکاؤلی Machivelli کی اس نصیحت پر کاربند ہے !”کہ انسان دوسرے انسان کے لیے ایک بھیڑیے کے سوا کچھ نہیں، اس لیے اگر تم بھیڑیا نہیں بنوگے تو سارے بھیڑیے تمہیں کھا جائیں گے،” مغربی تہذیب کے پرستار معلوم نہیں اس کے تضادات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، وہاں عالمی امن کے لیے منصوبے بتائے جاتے ہیں، کانفرنسیں کی جاتی ہیں، پروگرام چلائے جاتے ہیں، لیکن کیا انسانی تاریخ میں امن عالم کو مغرب سے زیادہ کسی اور نے تار تار کیا ہے؟ حقوق نسواں کے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب عورت کی عصمت کی حفاظت میں ناکام رہی ہے، اس نے عورت کے حقوق اور اسکی آزادی کا نعرہ تو لگایا لیکن اسکی نسوانیت سر بازار نوچا، نوچ نوچ کر کھایا، بازارِ ہوس کا سامان تسکین بنا کر رکھ دیا، اس تہذیب کے دیوالیہ پن کی انتہا ہے کہ بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی کثرت کو اس تہذیب کی علامت بلکہ اس کا ایڈوانس کلچر اور مہذب ہونے کی دلیل سمجھا گیا، مغربی تہذیب میں انسانی حقوق کی بات تو کی جاتی ہے،لیکن حقیقت میں مغرب خاندانی نظام اور پر امن معاشرہ کے قیام و تشکیل میں پوری طرح ناکام ہواہے، جی ہاں! یہ وہی مغرب ہے جس کے مہذب معاشرہ میں جیفری ایپسٹن جیساورندہ، دیوث اور شیطان پلتا رہا، اس کا دوسرا قریبی دوست اور دیوث اعظم ٹرمپ ان فائلوں میں جلی نام ہونےکے باوجود دندناتا پھر رہا ہے، بلکہ اپنے جرائم سے قطع نظر پوری ڈھٹائی کے ساتھ سرعام یہ دعوی بھی کر رہا ہے، کہ” اس نے خیر کے اتنے کام کر لیے ہیں کہ جنت ملنا یقینی ہے”، اس سے قبل وہ دنیاوی اعزاز نوبل امن پرائز کے لیے بھی بہت کوشاں تھا۔
ہم یہاں اس بحث میں نہیں جاناچاہتے کہ ایپسٹن فائل Epstin files کو کیوں منظر عام پر لایا گیا، اس کے پیچھے عالمی سیاست کا کون سا داؤ ہو سکتا ہے اور آئندہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اس کے ذریعہ استحصال یعنی بلیک میلنگ کی سیاست کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے مغربی تہذیب کا دوغلا پن، مکروہ اور قابل نفرت چہرہ ضرور سامنے آگیا، ہمیں کہنے دیجئے کہ اگر غزہ مغرب کے عسکری جنون کی انتہا تھا، اگر "منصوبۂ ابراہیمی” مغرب کی نرم اور عیارانہ پالیسی کا نقطہ عروج تھا تو ایپسٹن فائل کی داستان مغرب کے گھناونے پن، دوغلے پن، دیوالیہ پن، دیوثیت، شیطنت، بربریت، ہوس پرستی، عیاشی، حیا سوزی اور ڈھٹائی کی انتہا اور اسکے زوال کا نقطہ آغاز نہیں بلکہ نقطہ عروج ہے، ۳۵ لاکھ صفحات پر پھیلی کالے کرتوتوں کی داستان، چار لاکھ سے زیادہ تصویریں تہذیب حاضر کی حیوانیت کی دلیل بن گئیں، جیفری ایپسٹن صرف ایک دیوث، آدم خور شیطان ہی نہ تھا،بلکہ وہ موساد کا دلال بھی تھا، جو سیاہ کرتوتوں کی ڈاکیومنٹری تیار کرتا تھا اور پھر موساد اور امریکہ میں موجود صہیونی لوبی سربراہان ملک و عالم کو بلیک میل کرتی تھی اور انھیں صہیونیت کے حق میں استعمال کرتی تھی، اس تہذیب کے علمبرداروں کے جو جرائم سامنے آئے ہیں، اس کے بعد بھی اگر کسی کو اس تہذیب میں نجات، امن، سلامتی، انسانیت، عدل اور ہمدردی نظر آئے تو اسکی عقل پر سو بار تف!
یہ بھی پڑھیں:
اس کے بعد بھی اگر کسی کو اس تہذیب سے محبت ہو تو وہ بھی قابل مذمت، جو تصویریں ہماری نظروں نے دیکھیں ہیں ان سے جسم کا رواں رواں کانپ اٹھا، آنکھوں سے نیند رخصت ہوگئی، مظالم کی ساری داستانیں ہیچ نظر آنے لگیں، ایک لاکھ سے زائد بچیاں ظالموں کی ہوس کا شکار بنیں، دو دو سال کی بچیاں اغوا کی جاتی تھیں، پانچ سالہ بچیوں کا ریپ کیا جاتا تھا، پیٹ پھاڑ کر ان کے اعضا نکالے جاتے اور پکا کر کھائے جانے،ان درندوں کی ہائی پروفائل پارٹیوں میں بچیوں کے گوشت سے ضیافت کی جاتی، کانپتے ہونٹ، مسکراتے چہرے، کھیلنے کودنے کی عمر، ماں کی آغوش میں ماں کا پیار پانے کی عمر،مگرانسانیت پر لکچر دینے والے "مذہب دنیا کے مہذب سور اور کتوں” نے نہ صرف سور اور کتوں کو شرمسار کیا بلکہ زمانہ جاہلیت کے مظالم کو بھی ہیچ کر دیا، ان "مہذب کتوں” نے پھر یہ ثابت کیا کہ دنیا کو اس جدید جاہلیت، چنگیزیت اور اخلاقی دیوالیہ پن سے اگر کوئی نجات دلا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے، جس نے عورت کو جاہلی درندگی سے نجات دلایا تھا، ہوس کے پنجوں سے آزاد کیا تھا، جھوٹی غیرت و حمیت کو حقیقی غیرت میں تبدیل کیا تھااور بچیوں کو زندہ قتل ہونےسے بچایاتھا، تہذیب حاضر کے یہ اوباش و عیاش نمائندے اسلام سے اسی لیے خائف ہیں، انھوں نے اسلام کے خلاف اور بالخصوص اسلام کے ان متوالوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے، جو اسلام کو نظریہ و دستور حیات سمجھتے ہیں، جو اسلام کے غلبہ و استحکام میں ہی دنیا کی نجات اور امن عالم کا قیام دیکھتے ہیں، اس کا واضح ثبوت خود ہی یہی فائل ہیں، انھیں پڑھ کے دیکھ لینا چاہیے کہ یہ فائلیں کس کے سیاہ کارنامے بیان کرتی ہیں، کس کی تعریف کرتی ہیں اور کس کو اپنی عیاشی، بے حیائی، حیا سوزی اور حیوانی تہذیب کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں، کس کا انھوں نے تختہ الٹا اور کس کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنا ان کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے۔
یہ جنگ انھوں نے ہر سطح پر چھیڑ رکھی ہے،عسکری کارروائی سب کو نظر آتی ہے، اس پر ہم روتے بھی ہیں اور ماتم بھی کرتے ہیں، لیکن فکری حملہ، تہذیبی جنگ اور عقیدہ پر یلغار کسی کو نظر نہیں آتی، یاخال خال لوگوں کو نظر آتی ہے، "ابراہیمی منصوبۂ” کو بظاہر امن عالم کے لیے ایک پر کشش پالیسی کے طور پر پیش نہیں کیاگیا، ابراہیمی نسبت کا سہارا لیا گیا، اور یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کے تین بڑے مذاہب کو متحد کرکے، ایک چھتری کے نیچے لاکر دنیا بھر میں امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اس لیے "انسانی اخوت” کا نعرہ لگایا گیا، انسانی برادری، انسانی اخوت، مشترک اقدار کے پر کشش و پر فریب نعرے لگائے گئے، مشترک دعائیہ مجالس اور، امن کانفرنسوں کا انعقاد ہونے لگا، امن کے منصوبے بنائے گئے، اور ایسی ایک ٹیم تیار کر دی گئی جو عقیدہ کے امتیازات و تشخصات اور حق و باطل کے فرق کو چھوڑ کر بس انسانیت اور امن کی بات کرے، یہ منصوبہ دراصل ایک سیاسی، تہذیبی اور اقتصادی منصوبہ تھا، جس کے ذریعہ امت مسلمہ کو اسکی اصل فکر و شعور سے عاری کرنا، اعتقادی اختلافات کو سیاسی اختلافات باور کرانا، اصل مقصود تھا، اس کا مقصد تھا کہ قرآنی و اسلامی اصطلاحات کے خلاف جنگ چھیڑ دی جائے، کافر، جہاد، ولاء و براء جیسی خالص منصوص اصطلاحات کی جگہ ایک ایسی سفارتی اور متبادل زبان استعمال کی جائے جو عالمی امن کے اس پر فریب اور سازشی تصور کے عین مطابق ہو، اس کا مقصد تھا کہ امت کو عقیدہ سے کاٹ کر محض اسلام سے نسبت کو کافی سمجھنے کے لیے تیار کیا جائے، جب بھی بات کی جائے تو مشترک دینی اقدار اور مذہبی علامتوں کی ہی کی جائے، فرق واختلاف اور بنیادی اساسی اختلافات کو مٹا دیا جائے، ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی سوچ کو ختم کر دیا جائے، مزاحمت، اور مزاحمتی تحریکات کو گالی اور دہشت گردی کا مترادف بنا دیا جائے، مزاحمتی فکر کو ختم کر دیا جائے، اس تناظر میں اس عالمی سازش سے واقف ہوتے ہوئے بھی جن لوگوں نے مزاحمت کی تعریف و تائید کی، اخلاقی طور پر سپورٹ کیا، کھل کر بیانات دیے، وہ نہ صرف ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں بلکہ ہم ان کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے وہ مغرب کو اپنا دشمن بنا رہے تھے، بحرین، امارات و مصر اور پس پردہ سعودیہ کو اپنا دشمن بنا رہے تھے، اول الذکر تینوں ممالک نے سب سے پہلے اس پر فریب منصوبہ کو قبول کیا تھا، امارات کی دیوثیت تو آشکار ہے، اس نے تو اس دیوث امریکی صدر کے لیے اپنی کمسن بچیاں پیش کر دیں، جس کا یہ بیان میڈیا کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ "جیفری ایپسٹن سے ہمارے قریبی تعلقات ہیں، وہ ہماری طرح عورتوں کا رسیا ہے، بس فرق یہ ہے کہ میرے مقابلہ میں وہ کمسن لڑکیوں کو پسند کرتا ہے” ، مغرب اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنا کر قضیۂ فلسطین کو ختم کرنا چاہتا ہے، غاصب ریاست کو قانونی جواز فراہم کرنا چاہتا تھا، اخوت اسلامی اور "امت پنے” کے حقیقی تصور کو ختم کر کے انسانی اخوت اور علاقائی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا تھا، اگرچہ حکومتیں اس منصوبہ کا حصہ بن رہی تھیں مگر امریکی و برطانوی اداروں کی سروے رپورٹ بتاتی ہیں کہ عام طور پر خلیجی عوام اس منصوبہ بلکہ غاصب ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کرنے (نارملائزیشن) کے ہی مخالف تھے اور ہیں، لیکن مغرب اس منصوبہ کو زمین پر اتارنے کے لیے اس اصول پر کاربند ہے کہ حصول مقاصد کے لیے ہر ممکن وسیلہ اختیار کرنا چاہیے، ہمارا ملک بھی اس منصوبے کا سیاسی طور پر حصہ ہے، آر ایس ایس کی مکالماتی مہم بھی اسی فکر کی آئینہ دار ہے، امارات کا مندر بھی اسی کی علامت ہے، پوپ فرانسس اور شیخ الازہر کو بھی علامتی طور پر استعمال کرتے ہوئے اخوت انسانی کی دستاویز پر دستخط کرائے گئے، اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ہی امارات میں مرکز ابراہیمی قائم کیا گیا، اسی کے لیے بہت سی صوفی کانفرنسیں کی گئیں، روحانیت کو مزاحمت پر فیصلہ کن وار کے لیے ایک خاص رنگ دے کر پیش کیا گیا اور استعمال کیا گیا، مذہبی شخصیات، مذہبی علامتوں، مذہبی اداروں کو استعمال کرنے کی یہ چند مثالیں ہیں، سیاسی، ادارتی، ثقافتی، تعلیمی اور میڈیائی سطح پر کسی بھی ایسے طریقے کو نظر انداز نہیں کیا گیا جو عقیدے کی تاثیر کو ختم کرنے اور پُر فریب رواداری اور اخوت انسانی کو فروغ دینے کا کام انجام دے سکتاہو، مسلم ممالک کے نصاب تعلیم ،جہاد اور ولاء وبرا ء سے متعلق دروس کو حذف کرنے یا ان کی ایسی تعبیر کرنے کی سفارشات کی گئیں جو اس منصوبے کی تکمیل کا حصہ بن سکیں، اس کے لیے پروپیگنڈے کیے گئے اور دباؤ بنایا گیا ،اس منصوبے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑا روڑا فلسطینی تحریک مزاحمت بن کر کھڑی ہوئی جبکہ عملاً عالم اسلام میں اس کا نمونہ امارات نے پیش کیا،فکری دلالی سعودی نواز تنظیم رابطہ عالم اسلامی نے کی، منصوبہ ابراہیمی کے بیانیے کے فروغ میں یہ رابطہ وہی کردار ادا کر رہا ہے جو آر ایس ایس کے بیانیے کی تشکیل و تقویت کے لیے سرکاری مسلمان، صوفی کانفرنسیں اور پسماندہ علماء ادا کر رہے ہیں، ہم نے 7/ اکتوبر کے واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ طوفان اقصی نےصدی ڈیل جو ابراہیمی منصوبے سے پوری طرح مربوط ہے، اس پر پانی پھیر دیا اور اس کے نفاذ کو سالوں کے لیے مؤخر کر دیا ، لیکن لوگ یہ بات نہیں سمجھ رہے تھے اب جب ہمارے علم میں نئی تفصیلات آئیں، ہم نے مختلف ریسرچ اور تجزیاتی رپورٹ پڑھیں تو حیران رہ گئے، جو بات ہم نے اپنی تجزیاتی صلاحیت کی بنا پر لکھی تھی وہ کتنی محقق و مدلل تھی بلکہ حالیہ نئی معلومات کی بنا پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ غزہ کی تعمیر کا جو پلان رکھتا ہے وہ اسی نظریہ کا عکاس ہے کہ ابراہیمی منصوبہ امن کے مطابق ہی آبادیوں کا ڈھانچہ بنایا جائے اور ساخت طے کی جائے ،اس لیے کہ ابراہیمی منصوبے کے توسط سے یہ جنگ اب صرف اسلامی شناخت تک محدود نہیں، صرف میڈیا اور ثقافتی بیانیہ تک اس کے حملے محدود نہیں، بلکہ تعلیم و تربیت اور آبادیاتی ساخت کے ذریعے بھی یہ فکری یلغار جاری ہے، یہی نہیں بلکہ صہیونیوں کی افرادی قوت کی برتری کو بھی اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھا، اس لیے "ماں کی کوکھ” کو انھوں نے آبادیاتی جنگ کا حصہ بنایا۔ دنیا حیران تھی کہ صہیونی غزہ میں شیر خوار بچوں اور عورتوں کو اتنی بڑی تعداد میں کیوں قتل کر رہے ہیں، دراصل یہ آبادیاتی جنگ Demographic War کا حصہ تھا۔ افرادی تفوق کے لیے انھوں نے بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنایا۔ہزارہ سوم کے آغاز سے یہ نظریہ دو محاذوں پر جدوجہد کر رہا ہے ایک تو یہ کہ تعلیمی نظام و نصاب کو مزاحمتی فکر سے یکسر پاک کر دیا جائے اور دوسرے یہ کہ آبادی کے مسئلے کو بقا کی کشمکش کے طور پر ذہنوں پر مسلط کر دیا جائے، اس کے لیے انتہا پسندی کا مقابلہ اور رواداری کے اقدار کے فروغ جیسے پُرفریب نعرے لگائے گئے، نہ صرف یہ کہ ایک ایسے بیانیے کو تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جو اعتقادی امتیازات، دینی وابستگی، مزاحمتی سوچ اور امت کے تصور سے پاک ہو، بلکہ آئندہ نسل کی فکر و شعور کو یکثر بدل دینے کے لیے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے مسلم ممالک کے نصاب تعلیم کی تبدیلی پر خاص توجہ دی گئی۔مسلم ممالک کے نصابِ تعلیم میں قرآنی و اسلامی اصطلاحات کو حذف کیا جانے لگا، یا ان کی دلالت تبدیل کی گئی اور انھیں حقیقی مفہوم اور اعتقادی تصور سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے برخلاف صہیونی ریاست کے نصاب میں ابتدائی درجات سے ہی فلسطینیوں کے وجود کو خطرہ بتا کر جنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ریاست کے قیام کو وعدۂ الٰہی کی تکمیل بتایا جاتا ہے، اور فوج میں لازمی بھرتی کا جواز پیدا کرنے کے لیے ثانویہ کے مرحلے میں ہی ہتھیار وغیرہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ لوگ الفاظ و اصطلاحات کی اہمیت بھول گئے۔ ابن قیم کا کہنا ہے کہ قوموں کی گمراہی کا آغاز مبہم الفاظ کے استعمال اور مشتبہ معانی سے ہوتا ہے۔ ابن تیمیہ قرآنی الفاظ و اصطلاحات کے التزام و وابستگی کی سخت تاکید فرماتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید اصطلاحات دراصل باطل تاویلات اور انحرافات کا دروازہ کھولتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہم کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جن الفاظ کا استعمال کل تک مسلمان کے لیے باعثِ افتخار تھا، آج انہی کا استعمال باعثِ عار اور شدت پسندی کی علامت بن گیا ہے۔
اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ استعماری قوتیں اس وقت میدانی جنگ سے زیادہ دنیا پر فکری جنگ مسلط کیے ہوئے ہیں، اس وقت خاص طور پر اصطلاحات کی جنگ جاری ہے اور یہ جنگ فکر وشعور کی تبدیلی اور ایک ایسے بیانیہ کی تشکیل کے لیے ہے جو عالمی طاقتوں کی خواہش و سیاست کے مطابق اور ان کے ہاتھوں کا کھلونا ہو، اصطلاحات کی اس جنگ میں بہت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، اس وقت ایسے علماء کی ضرورت ہے جو روایتی مباحث سے بالا ہو کر مغربی اصطلاحات اور عام اصطلاحات کے پس پردہ مغرب کے مقاصد کو واشگاف کریں، مغرب نے امن کے نمائندے تیار کر لیے ہیں، ان کے پاس ایسے ہرکارے موجود ہیں اور ایسے ادارے ہیں جو مشترک دینی اقدار کو فروغ دینے کی دعوت دیتے ہیں جو عقیدے سے اور عقیدے کے امتیازات سے جان چھڑانے کا مطالبہ کرتے ہیں ،جو رواداری کا مطلب عقیدہ سے دستبرداری اور اس کے مطالبات کو پس پشت ڈالنا بتاتے ہیں، جو بقائے باہم کا مطلب صرف دوسروں کو قبول کرنا اور برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ عقیدے کے امتیازات کو مٹا کر عالمی برادری میں ضم ہونا بتاتے ہیں ،جو اسلامی اخوت اور عالمی امت کے تصور پر انسانی اخوت کے ذریعے وار کرتے ہیں، جنہوں نے "کافر” کی منصوص اصطلاح کے مقابلے غیر مسلم یا دیگر الفاظ کو فروغ دیا ہے، جہاد کو سماج کی "رضا کارانہ خدمت” سے تعبیر کیا ہے ،اللہ سے وفاداری یعنی ولا ءکو "انسانیت کی خدمت” کے معنی پہنا دیے ہیں، اسلامی بیداری کو قدامت پسندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، ظلم کے خلاف مزاحمت کو دہشت گردی اور جہاد کہا جا رہاہے، لیکن ہمارے پاس ایسے علماء بہت کم ہیں جو بین السطور پڑھ سکیں، پس منظر سے واقف ہو سکیں، پیش منظر کو پڑھ سکیں اور خطرات سے آگاہ کر سکیں خوش کن عنوانات،پُرفریب نعروں،آنکھوں کو خیر کرنے والے جلسوں اور کانفرنسوں کے پیچھے بھاگنے اور ظلم و جبر کے ماحول میں اپنے گوشہ عافیت میں مست رہنے کی ذہنیت دراصل اسی عالمی بیانیے کا حصہ ہے جس کو عالمی سیاست کے بازیگر فروغ دینا چاہتے ہیں،جنہوں نے اپنے منصوبے، پالیسیوں اور نعروں پر نقد و اعتراض کو بھی تعصب اور فرقہ وارانہ سوچ میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ضرورت ہے کہ ان کے دوغلے پن کو آشکار کیا جائے، پسِ پردہ مقاصد اور بین السطور معانی کو جرات سے پیش کیا جائے، قرآنی اصطلاحات کو اصرار کے ساتھ بولا جائے، عقیدہ اور اس سے مربوط اقدار کو پوری طاقت سے پیش کیا جائے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اکثریت ناواقف ہے یا شعوری و غیر شعوری طور پرابراہیمی منصوبہ امن کا حصہ بن چکی ہے، ورنہ اس وقت ایپسٹن فائل کو لے کر ایسے اقدامات کرنے کا موقع تھا کہ مغربی تہذیب کے علمبردار اور انسانیت کے مکار دعوے دار منہ چھپانے کی جگہ نہ پاتے۔ سچی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے مغربی تہذیب کے ناقدین کو پڑھ رکھا تھا بالخصوص میرے نزدیک مغرب کی تنقید پر شیخ سفر الحوالی کی سب سے زیادہ تجزیاتی و دستاویزی کتاب پڑھ رکھا تھا اس کے لیے ان فائلوں کے انکشاف میں کچھ نیا نہیں، یہ وہی تہذیب ہے جس کی علمبردار فرانس کی ایک خاتون وزیر نے اسلام اور اسلام کے نظام پردہ کے خلاف پُر شور ہرزہ سرائی کی، لیکن جب وہ حاملہ ہوئی تو سات مردوں نے جنین کا باپ ہونے کا دعوی عدالت میں پیش کیا۔ ابھی آج ہی خبر پڑھی کہ ایک 19 سالہ لڑکی نے جڑواں بچوں کو جنم دیا اور جانچ سے پتہ چلا کہ دونوں بچوں کے باپ الگ الگ ہیں، ایسی تہذیب میں اس سے بھی زیادہ بھیانک اسکینڈل انجام پائیں تو کیسا تعجب۔ اخلاق کی بالادستی، قانون کی پابندی اور انسانیت نوازی کے لیے اسلامی تہذیب کی بالادستی واحد حل ہے جس کا دنیا مشاہدہ کر چکی ہے، تصور آخرت اور خوفِ احتساب اس تہذیب کی زینت ہے، علمبرداروں کو ظلم کے خلاف کھڑا کرتی ہے اور قیام عدل کے لیے مجبور کرتی ہے، پورے اعتماد کے ساتھ اس تہذیب کو قولا و عملا پیش کرنے کی ضرورت ہے ، اس کے معتدل افکار،عادلانہ اقدار اور اوصاف و محاسن شمار کرانے کی ضرورت ہے، یہ کام اسی اعتماد کے ساتھ کرنے کی ضرورت جو اعتماد جو قرآن مجید فراہم کرتا ہے کہ رواداری، بقائے باہم، اخوت، مساوات یہ سب کچھ ہوگا مگر ہدایت ربانی کی روشنی میں ہوگا ، اس کے آگے کسی نظریہ، کسی تعبیر اور کسی نئی تعریف و تشکیل جدید کے کوئی معنی نہیں!
وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْؕ-قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ(البقرة :120)
"یہود و نصاری آپﷺ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گےجب تک آپ ﷺ اپنا دین چھوڑ کر ان کا دین نہ اختیار کریں۔وہ دراصل اپنے باطل اور تحریف شدہ دین کے داعی ہیں۔آپ ﷺ انہیں بتادیجئے کہ آپ کے پاس ہدایت ہے جبکہ ان کے پاس حرص وھوی ہے، آپ کو اللہ نے جو ہدایت دے کر بھیجا ہے وہی دراصل ہدایت اور دینِ برحق ہے کوئی دوسرا دین اس کے جیسا ہو ہی نہیں سکتا ، آپ کو خدا کی طرف سے علم قطعی اور علم نافع عطا کر دیا گیا۔ آپ ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے بچیں، آپ حق پر ہیں اور وہ باطل پر، اگر آپ نے ان کے دین کا اتباع کیا اور اپنادین اپنا دین چھوڑا تو پھر آپ کو کوئی کارساز نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ ہی اللہ کے علاوہ آپ کا کوئی مددگارہوگا جو آپ کی پریشانی و تکلیف کو دور کرے۔ اس لیے کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ سوچئے کہ جب رسول کو یہ تنبیہ کی جارہی ہے تو رسول کے متبعین و پیروکاروں کو کس قدر اس سے بچنا چاہیے۔ اس آیت میں یہود و نصاریٰ سے دوستی و تعاون، ان سے محبت ، ان کی مشابہت اختیار کرنے یا ان کے دین کا اتباع کرنے کی حرمت آئی ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی اس وقت تک باقی رہے گی جب تک مسلمان اپنا دین چھوڑ کر ان کا دین نہ اختیار کر لیں”۔
آیت میں یہ بات کس قدر کھول کر بیان کی گئی ہے کہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اس وقت تک مسلمانوں سے راضی نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اسلام کو ترک کر کے ان کا دین اختیار نہ کر لیں اور ان کی جماعت میں نہ داخل ہو جائیں، اس کے باوجود افسوس یہ ہے کہ لوگ رواداری کی باتیں کرتے کرتے حدود شریعت سے تجاوز کر جاتے ہیں۔اور اصطلاحات کے مسخ شدہ مفہوم کو چبا چبا کر دہراتے نہیں تھکتے، حالانکہ یہ صرا اصطلاحات کی جنگ نہیں بلکہ اسلام کو نمائشی اسلام بنانے اور امت کو اصل فکر و شعور سے عاری کرنے کی جنگ ہے۔
مسلمانوں کو پوری قوت سے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ صبغۃ اللہ سے بہتر کسی تہذیب و تمدن کا کوئی رنگ ہو سکتا ہے نہ کسی رنگ کو قبول کرنے کی ضرورت!
صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً-وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ ( البقرة:138)
"یہ ہے اللہ کا دین اور اس کا راستہ ! اِس کو اس طرح لازم پکڑو کہ یہ تمہاری لازمی و دائمی صفت بن جائے ۔ یہ دین تمہارے رگ وریشے میں اس طرح پیوست ہو جائے جیسے کپڑے میں رنگ جذب ہو جاتا ہے۔ کیا اللہ کی ہدایت سے بہتر کوئی شے ہوسکتی ہے؟ کیا اس کے دین سے زیادہ صحیح محکم کوئی راستہ ہو سکتا ہے؟ جو اللہ کے دین کو اختیار کرے گا اور اس کے رنگ میں رنگ جائے گا تو وہ سچا بھی ہوگا ، نیک بھی ہوگا اور و صیح راستہ پر ہوگا ، اس نے معرفت حاصل کر لی ہو گی وہ پھر دوسروں کو تعلیم دے گا۔ اللہ کی راہ میں کوششیں کرے گا ، حق پر