از:- ظفر امام قاسمی
خونی رشتوں کے درمیان جو تقدس،خلوص اور اپنائیت ہوا کرتی ہے وہ جگ ظاہر ہے کہ جب بات خون کی آتی ہے تو انسان برسوں کی عداوت اور اور دشمنی کو پل بھر میں بھول کر یک جان دو قالب بن جایا کرتا ہے اور خون خون سے مل کر جو رنگ بکھیرتا ہے وہ لائق دید اور قابل رشک ہوتا ہے،مگر خداوند قدوس نے استاذ اور شاگرد کے درمیان الفت و محبت اور پیار و چاہ کا جو رشتہ اور ادب و احترام کا جو تعلق رکھا ہے وہ بسا اوقات خونی رشتوں کو بھی مات دے جاتا ہے،کیونکہ اس رشتے کے اندر جو مٹھاس،حلاوت،پاکیزگی اور شفافیت ہوا کرتی ہے وہ خونی رشتوں کے اندر نہیں ہوسکتی۔
5/ستمبر کو ہندوستان بھر کے اسکولوں اور تعلیم گاہوں میں ”یومِ اساتذہ“کے عنوان سے نہایت ہی دھوم دھام اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے،آج سے چار سال قبل احترامِ استاذ پر راقم الحروف نے ایک تحریر لکھی تھی، اس بار بھی اپنی بیتی کو بصد شوق لکھنے کا ارادہ کئے بیٹھا تھا کہ حرارتی بخار نے انگلیوں پر کپکپی طاری کردی تھی،اس لئے بروقت نہ لکھ سکا،اب دو ایک دن کے بعد اپنے اس دیرینہ شوق کو پورا کرنے بیٹھا ہوں۔
2005/06 کی ایک گرم دوپہر تھی،فضا مسموم ہواؤں سے لبریز تھی،بجلی کی لُکا چھپی جاری تھی،سالانہ امتحان ختم ہوچکا تھا،ہم بس سالانہ چھٹی کی گھنٹی بجنے کے انتظار میں اپنے کمرے میں بیٹھے تھے،چھٹی کی خوشیوں اور سرمستیوں نے ہمیں بےقابو کر رکھا تھا،ہم اپنے کمرے میں بیٹھ کر ہُڑمستیاں کر رہے تھے کہ ہماری ہڑمستیوں کے پردے کو چیرتی ہوئی ایک صدا میرے کانوں میں گونجی ”ظفر ہے رے“ کانوں میں اس صدا کا گونجنا تھا کہ میں بھاگتا ہوا اس کی اور چل پڑا اور سیدھا صدا لگانے والے کے رو بہ رو جا کھڑا ہوا،صدا لگانے والے اس مدرسے کے سب سے مؤقر اور محترم استاذ،صوم و صلوة کے انتہائی پابند اور عابد و زاہد میرے کرم فرما اور شفیق و مہربان حضرت قاری مبین صاحب مدظلہ العالی تھے۔
مجھے کھڑا دیکھ کر قاری صاحب نے نہایت ملائمت اور ملاطفت سے مجھے بیٹھنے کو کہا،میں انکار کی جرأت کیسے کرسکتا تھا،سو میں وہیں دو زانو بیٹھ گیا،قاری صاحب میری طرف متوجہ ہوئے، ایک شفیقانہ اور مربیانہ نگاہ میرے اوپر ڈالی، میں نے بھی آپ کے چہرے کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا،وہ چہرہ جو کبھی مجھے لوہے اور سنگ و خشت سے زیادہ سخت لگتا تھا،جس کے سایے کو دیکھ کر بھی میری روح کانپ اٹھتی تھی آج وہی چہرہ میرے سامنے سراپا پیار اور محبتوں کا استعارہ بنا ہوا تھا،یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گرمی کی اس تمازت میں بھی آپ کا چہرہ محبتوں کی شبنم میں نہایا ہوا ہے،میں ابھی کچھ سمجھنے بھی نہ پایا تھا کہ سامنے سے ایک دلگیر لہجہ نے میرے کانوں میں یہ سرگوشی کی:ظفر وا میں نے تجھے بہت مارا ہے رے،مجھے معاف کردینا“ آنسوؤں میں ڈوبی اس دل چیرتی سرگوشی نے میری آنکھوں کو بھی تر کردیا۔
اب میں بھلا کہتا تو کیا کہتا، اس وقت تو ابھی میرے شعور نے صحیح طور سے اپنے بال و پر بھی نہیں اگائے تھے،مجھے صحیح سے یاد نہیں، شاید میں نے کچھ کہنے کے بجائے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کیا تھا،بس میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے، وہیں بیٹھے بیٹھے میرے انہی دیدۂ تر میں پچھلے دو سال کا منظر میرے سامنے جھلملانے لگا،مجھے یاد آنے لگا کہ جب میں پہلی بار اس مدرسے(مدرسہ سعیدیہ روح القرآن جامع مسجد بشپنور بازار) میں اپنے والد کے ہمراہ آیا تھا اور کسی کے بتانے پر میرے والد نے قاری صاحب سے ملاقات کرکے مجھے اپنے پاس رکھنے کی سفارش کی تھی،مگر میری قسمت نے مجھے کسی اور کے پاس پہنچا دیا تھا (اس کی بھی ایک دلچسپ داستان ہے پھر کبھی) مگر میرا تو اس میں کوئی قصور نہ تھا،لیکن نہ جانے کیوں قاری صاحب کو اس دن کے بعد سے میری ہر چھوٹی بات خار بن کر چبھنے لگنے لگی جسے نکالنے کے لئے وہ میری پیٹھ پر چابک دستی سے کام لینے لگے،تھوڑی پلیٹ کی آواز آئی کہ بلا لیا گیا،لوٹا اوپر سے نیچے گرایا کہ طلب کرلیا گیا،غلطی کوئی اور کرے اور مجھے پھنسا دیا گیا اورکبھی بھی قاری صاحب نے میری پیٹھ پر اپنی قمچی کی لچک سے لال نشان چھوڑنے سے دریغ نہ کیا،مجھے اتنی تفصیل تو یاد نہیں مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ درجنوں سے زائد بار قاری صاحب نے بنا کسی قابل مؤاخذہ غلطی کے میری پیٹھ کو تختۂ مشق بنایا مگر اللہ گواہ ہے کہ سوائے ایک بار کے کبھی بھی قاری صاحب کے منہ پر جواب نہ دیا۔
وہ جاڑے کی ایک خُنک رات تھی، کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی، ہواؤں کے یخ اور سرد جھونکے جسم و جان پر لرزہ طاری کر رہے تھے، مارے سردی کے ہاتھ پاؤں ٹھٹھرے جاتے تھے،جاڑے کی اسی خنک رات میں ہم طلبہ کھانا کھاکر سونے کی تیاری میں لگے تھے،ہمارے بدن سے دن کے پہناوے اتر چکے تھے کہ اسی اثناء میں کسی بات پر میری اپنے کمرے کے ایک ساتھی سے لے دے ہوگئی،معاملہ اتنا کوئی خاص بھی نہیں تھا،بس ہلکی سی ترش کلامی ہوئی تھی اور شاید جانبین سے تھوڑی سی دھکم پیل بھی،اتفاق سے وہ طالب علم انہی قاری صاحب کے گاؤں کا تھا،وہ کھڑا ہوا اور رونی صورت بناکر قاری صاحب سے جاکر میری شکایت لگادی کہ:ظفر نے مجھے مارا“ میں تو قاری صاحب کی نظر کا خار تھا ہی،قاری صاحب اسے نکالنے سے چوکنے والے کہاں تھے،ایک دم سے تاؤ میں آگئے،اپنی وہی لچکیلی قمچی اٹھائی اور میری پیٹھ پر ضرب یضرب کی گردان کر ڈالی،سردی کے اس موسم میں جب کہ میری پیٹھ کپڑوں سے عریاں ہوچکی تھی،قمچی کی اس مار نے میری پیٹھ پر ہنٹر کا کام کیا،میں پوری طرح سے اینٹھ گیا،آنسؤوں کے فوارے میری آنکھوں کے حوض سے اچھل پڑے،میرے ضبط کے سارے دھاگے ٹوٹ گئے،میں نے آنسوؤں میں ڈوبی آواز کے ساتھ قاری صاحب سے کہہ دیا:اچھا آپ مجھے صرف اس لئے مار رہے ہیں کہ میں نے آپ کے گاؤں کے بچے سے جھگڑا کیا،مگر آپ نے یہ پوچھا کہ غلطی کس کی تھی؟“ میرے اس رد عمل سے قاری صاحب پر کیا گزرا تھا،وہ تو پتہ نہیں،تاہم اتنا ضرور یاد ہے کہ قاری صاحب وہاں اور نہیں رکے تھے،سیدھے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔
پھر وقت گزرتا گیا،میرا حفظ مکمل ہوگیا،جس استاذ کے پاس میں تھا وہ کسی وجہ سے مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے،نصیب نے پلٹا کھایا اور بالآخر مجھے قاری صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع عنایت ہوگیا،مگر میں اپنے اس نوشتۂ تقدیر کا کیا کرتا جو ازل سے ہی میرے تعاقب میں تھا،میں قاری صاحب کے پاس پڑھنے لگا،پارے بھی اچھے سے سنانے لگا،قاری صاحب بھی خوش رہنے لگے،مگر ایک برسات کی دوپہر نے میرے پُربہار باغ میں پھر سے بجلی گرادی،اس بار کی وہ بجلی اتنی تباہ کن ثابت ہوئی کہ قاری صاحب کی نظر میں میری بچی کھچی ساکھ بھی بھسم ہوکر رہ گئی۔
ہوا یوں کہ برسات کی ایک دوپہر جبکہ آسمان جی بھر کر برسنے کے بعد کھل چکا تھا،سورج کی شعاعیں زمین کو تپا رہی تھیں،ہماری اردو کی گھنٹی کے استاذ کہیں گئے ہوئے تھے،ہم درسگاہ میں بیٹھے شغل میلہ لگائے ہوئے تھے کہ اچانک قاری صاحب کا ایک فرستادہ ہمارے پاس پہنچا اور آکر کہنے لگا:قاری صاحب سب کو بلا رہے ہیں“ قاری صاحب کا فرمان سن کر میرے بدن پر ارتعاش کی لہریں دوڑ پڑیں،اس فرستادے نے ایک ایک کو جاکر کہا،مگر کسی نے اس کی بات پر دھیان نہ دیا،یہ دیکھ کر میرے سر پر خوف کے بادل چھانے لگے کہ ایسا نہ ہو کہ قاری صاحب اپنی قمچی لیکر آجائیں اور سب کی گت بنا ڈالیں،مجھے تو اپنی فکر ستانے لگی،خدا گواہ ہے میں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس فرستادے سے یہ سوچ کر کہا کہ تفتیش کے وقت جان بچ جائے:جاؤ اور کہہ دو کہ کوئی نہیں آ رہا ہے“ اس سے میرا مقصد بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ اس دھمکی سے سب قاری صاحب کے پاس چلے جائیں اور ہم مار کھانے سے بچ جائیں،مگر اس فرستادے نے (اللہ میرے اس دوست کو معاف فرمائے،مجھے اس کا نام بھی یاد ہے)میرے الفاظ کو غلط جامہ پہنایا اور قاری صاحب سے جاکر اس طرح کہہ دیا:قاری صاحب! ظفر کہہ رہا ہے جاؤ کہہ دو نہیں آؤں گا“اللہ اکبر وہ الزام جو میرے تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا،میرے سر پر تھوپ دیا گیا،قاری صاحب بھلا مجھے معاف کرنے والے کہاں تھے،مارے غصہ کے آپ کا چہرہ گلنار ہوگیا،سانسیں پھول گئیں،بس زبان سے ایک دہاڑ نکلی:بلاؤ اس خبیث اور مکار کو“ میں چل کر کچھ کہہ پاتا کہ اس سے پہلے ہی چھریری قمچی کئی بار میری پیٹھ پر برس پڑی اور اسے لالہ زار کر گئی۔
میں حسرت و ندامت کی کیفیت کے ساتھ روتے ہوئے وہاں سے آیا،جونہی کمرے میں پہنچا میری بےچارگی نے جی بھر کر میرا مذاق اڑایا جس سے میرے زخمی دل کے سارے ٹانکے کھل گئے،میں جی بھر کر رویا اور روتے روتے سوگیا،اس بیچ ظہر کا وقت ہوگیا،ظہر کی نماز کے بعد درسگاہ میں بیٹھا،جب پارہ سنانے قاری صاحب کے پاس پہنچا تو قاری صاحب نے مجھ سے اپنا چہرہ پھیر لیا،سوائے اس کے کچھ نہ کہا کہ تم میری درسگاہ سے چلے جاؤ“ میں نے آپ کو بہت منایا،منتوں کے دریا بہا دئے،معافیوں کی بوچھاڑ کردی،لجاجتیں کیں،پیروں پڑے مگر میری منتیں اور لجاجتیں کسی کام کی نہ نکلیں،میں قاری صاحب کو رام نہ کرسکا، کر بھی کیسے سکتا تھا کہ میرے الفاظ کو جو غلط جامہ پہنایا گیا تھا اس سے کسی کا بھی دل ٹوٹ سکتا تھا،شاید قاری صاحب کے شیشۂ دل پر میرے ان الفاظ نے (جنہیں غلط جامہ پہناکر پیش کیا گیا تھا) سنگ باری کا کام کیا تھا،جس سے قاری صاحب کا شیشۂ دل ٹوٹ کر کرچیوں میں بکھر چکا تھا،جسے میری معافیاں جوڑنے میں ناکام رہیں،میں سراپا غم اور پیکر درد بنا وہاں سے اٹھا اور ایک تیسرے استاذ کے پاس چلا گیا، تیسرے کے پاس جی نہ لگا،کیونکہ وہ ناظرہ میں پڑھاتے تھے اور میں تنہا حفظ کا،کیا خاک جی لگتا (چونکہ قاری صاحب نے انہی کا نام لیا تھا کہ ان کے پاس چلے جاؤ سو انہی کے پاس چلا گیا تھا) میں نے اگلی صبح انتقالِ کلاس کرلیا، اور ایک ایسے استاذ کے پاس پہنچا جن کی سخت نگاہی اور دار و گیری پورے مدرسے میں مشہور تھی،سال ختم ہونے میں دن ہی کتنے بچے تھے،جتنے دن بھی بچے تھے میں نے اتنے دن انہی کے پاس رہ کر 21 پارے کے دور نکالے تھے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد میری اندر قاری صاحب سے نگاہیں ملانے کی تاب نہ تھی،میں حتی المقدور قاری صاحب سے دور دور رہنے لگا تھا،میں سوچتا تھا کہ اگر میں قاری صاحب کے سامنے جاؤں گا تو شاید ان کا زخم پھر تازہ ہوجائےگا اور نہ جانے وہ مجھے کیا کچھ کہہ دیں،مگر ان ایام میں قاری صاحب نے مجھ سے کچھ نہ کہا،یہاں تک کہ وقت کا پہیہ گردشیں کاٹتا ہوا سالانہ تک جا پہنچا،ایسے موقع پر طلبہ کو امتحان کی ٹینشن سے زیادہ گھر جانے کی خوشی لاحق ہوتی ہے،ہم امتحان سے فارغ ہوچکے تھے،نتیجہ سے ہم کو زیادہ لینا بھی نہیں تھا،وہ دن میرا اس مدرسے میں آخری دن تھا،میرے دو یادگار سال اپنے اختتامی ہدف کو چھو رہے تھے،(میں آج بھی جب اس مدرسے میں جاتا ہوں تو ماضی کی گم گشتہ یادوں میں کھوجاتا ہوں،وہاں بتائے ایک ایک دن کسی خواب کی طرح میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتے ہیں، اور ایک عجیب سی دیوانگی کی کیفیت میرے اوپر طاری ہوجاتی ہے،پلکیں آنسوؤں سے ڈھلک اٹھتی اور زبان کے راستے ایک سرد آہ فضا میں بکھر جاتی ہے،اس کیفیت کو میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا بھی ہے جو میری کتاب فسانہ شب و روز کا بھی حصہ ہے) ہم گھر کے لئے اپنے سامان اکھٹے کرتے جاتے تھے اور اپنے دوستوں اور کمرے کے ساتھیوں کے ساتھ آخری اور یادگار ہڑمستیاں بھی کرتے جاتے تھے کہ اچانک ان ہڑمستیوں کے پردے کو چیرتی ہوئی ایک سناٹے دار آواز میرے کانوں سے ٹکراتی ہے”ظفر ہے رے“ آواز کا کانوں سے ٹکرانا تھا کہ میں دیوانہ وار اس آواز کی اور دوڑ پڑتا ہوں،دیکھتا کیا ہوں کہ سامنے وہی قاری صاحب جن کے چہرے پر میں نے اپنے لئے کبھی پیار کی لکیر بھی نہ دیکھی تھی اس وقت سراپا پیار اور مجسم محبت بنے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کو کہہ رہے ہیں،گرمی کی اس دوپہر میں قاری صاحب کا سراپا مجھے کسی آسمانی مخلوق کی طرح نظر آیا،جس کی چاروں سمت نور ہی نور کا سماں ہوتا ہے،آپ کے لبوں پر اس وقت ایک من موہک اور دلآویز مسکراہٹ مچل رہی تھی،آپ نے ملائمت سے مجھے بیٹھنے کو کہا اور بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئے:ظفر وا میں نے تجھے بہت مارا ہے رے،مجھے معاف کردینا“وہ قاری صاحب جس کی زبان سے میں نے اپنے لئے کبھی پیار کا ایک قطرہ بھی نکلتے نہ دیکھا تھا آج اسی قاری صاحب کی زبانی کرم،محبت اور پیار کی اس برکھا میں میں پوری طرح سے نہا گیا،بےاختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے،زخمی دل کے وہ سارے ٹانکے جو میں نے وقت کے مرہم سے سی دئے تھے پھر سے کھل گئے،مگر اب ان ٹانکوں میں درد، کرب،ٹیس اور کسک نہیں تھی بلکہ ان میں ان کی جگہ راحت،سکون، لطافت اور مٹھاس نے لے لی تھی،میں سرشاری کی کیفیت کے ساتھ وہاں سے اٹھا اور بہکتے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
پھر وقت گزرتا گیا،قاری صاحب کو الوداع کہے چھ سات سالوں سے زائد کا عرصہ گزر گیا،اس بیچ میرا داخلہ عربی پنجم میں دارالعلوم دیوبند میں ہوگیا،ایک دن عصر کے بعد اسی سابق مدرسے کے ہم تین ساتھی دیوبند کی ایک حاشیائی بستی قاسم پورہ کی جانب ٹہلنے نکلے،ایک جگہ بیٹھ کر ہم اپنے دورِ رفتہ کو یاد کر رہے تھے کہ ان میں سے ایک نے کہا:میرے پاس قاری صاحب کا نمبر ہے،فون ملاؤں؟“ ہم نے کہا:ضرور کیوں نہیں“ اور پھر اگلے کئی سکنڈوں میں بڑے زمانے کے بعد قاری صاحب کی آواز میری سماعت سے ٹکرا رہی تھی،آواز میں اب بھی وہی رعب اور داب جھلک رہا تھا،فون ملانے والے ساتھی نے آواز کھول رکھی تھی،علیک سلیک کے بعد قاری صاحب نے ان سے پوچھا:ابھی کہاں ہو“ ادھر سے جواب گیا”دارالعلوم دیوبند میں“ سکنڈ کی بھی دیری نہ ہوئی تھی کہ اُدھر سے آواز آئی” اور وہ ظفر وا کہاں ہے ظفروا“ واللہ قاری صاحب کی زبانی میں اپنا نام سن کر نہال ہوگیا،مجھ پر خمار کی سی کیفیت طاری ہوگئی،مجھ میں اب کچھ حد تک شعور نے اپنے بال و پر کھلادئے تھے، میں سمجھ گیا کہ قاری صاحب کی وہ سختیاں تو بس عارضی تھیں،ان سختیوں کی آڑ میں اصل قاری صاحب مجھ میں اعتماد اور عزیمت کے بیج بو رہے تھے،اصل تو ان کے اندر میری محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی جس کا سراغ مجھے اس آخری دن ملا تھا جو اب بھی جاری ہے۔
آج قاری صاحب سے جدا ہوئے تقریبا بیس سالوں کا عرصہ گزر چکا ہے،قاری صاحب اب ایک مکتب میں پڑھا رہے ہیں،گردشِ ایام نے بہت حد تک میرے اس محسن کو لاغر و نحیف کردیا ہے،ان کے اشغال و اوراد میں مزید بڑھوتری ہوگئی ہے،سالوں پہلے باضابطہ ان سے ایک دن ملاقات کی غرض سے گیا تھا،وہ مل کر کافی خوش ہوئے تھے اور بےشمار دعائیں دی تھیں، میں اپنی سہل انگاری اور تغافل شعاری کی بناء پر قاری صاحب سے زیادہ رابطہ تو نہیں کر پاتا ہوں مگر وہ اب بھی برابر مجھ ناکارہ کو فون کرتے رہتے ہیں اور جب بھی فون کرتے ہیں میری زندگی کی تاریک راہوں میں رنگا رنگ دیپ جلا جاتے ہیں،خدا انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر نصیب کرے۔
نوٹ: اس طرح کے ایک دو واقعات اپنی تعلیمی اور تدریسی زمانے کے اور بھی لکھنا چاہ رہا تھا،مگر یہی بہت لمبا ہوگیا۔ ان شاء اللہ موقع ملا تو ضرور لکھوں گا کہ یہی میری زندگی کی خوبصورت یادگاریں ہیں جن کے سایہ تلے میں اپنی زندگی کے ایام گزار پا رہا ہوں۔