✍🏻 محمد عادل ارریاوی
___________________
محترم قارئین! ہر دور میں اقوام کی پہچان ان کے عقائد اقدار اور تہذیبی روایات سے ہوتی ہے جب کوئی قوم فکری غلامی کا شکار ہو جائے تو وہ دوسروں کے رسم و رواج کو بلا تحقیق اپنانا شروع کر دیتی ہے چاہے وہ اس کے دینی اخلاقی اور معاشرتی تشخص سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں موجودہ دور میں مسلمانوں کے سامنے ایک بڑا فکری چیلنج یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے نام پر پیش کی جانے والی بہت سی رسومات و خرافات کو ترقی محبت اور آزادی کا لبادہ اوڑھا کر معاشرے میں عام کیا جا رہا ہے انہی رسومات میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے جسے محبت کے نام پر بے حیائی فحاشی اور اخلاقی زوال کے فروغ کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
بدقسمتی سے آج کا مسلمان نوجوان اس تہوار کی اصل حقیقت اس کے تاریخی پس منظر اور اس کے دینی و معاشرتی نقصانات سے ناواقف ہے یہی وجہ ہے کہ ایک غیر اسلامی اور غیر فطری رسم کو فخر اور جوش کے ساتھ منایا جا رہا ہے حالانکہ اسلام حیاء پاکیزگی اور باوقار محبت کا دین ہے۔
ویلن ٹائن ڈے کے بارے میں کئی داستان ہیں ان میں سے ایک مشہور داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلن ٹائن نامی ایک عیسائی پادری تھے جو ایک راہبہ سے عشق کر بیٹھا چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کیلئے نکاح ممنوع تھا اس لیے ایک دن ویلن ٹائن نے اپنی راہبہ سے کہا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری ایک مبارک دن ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب اور راہبہ جنسی و صنفی ملاپ بھی کرلیں تب بھی اسے گناہ نہیں سمجھا جاۓگا راہبہ نے اس خواب کی تعبیر کو پورا کرنے میں راہب کا مکمل ساتھ دیا اور یوں وہ سب کچھ کر گزرے جس سے انھیں عیسائیت روکتی تھی چنانچہ ان کا بھی حشر ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا اس کے بعد لوگوں نے ویلن ٹائن کو شہید محبت قرار دیا اور اس کی یاد میں 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھیں:
گزشتہ ادوار میں ہر سال 14 فروری کو جنسیت زدہ غیر مسلم اقوام ناجائز خواہشات کی تسکین و تکمیل کیلئے اسے منانے کا اہتمام کرتے تھے قطع نظر اس سے کہ ان داستانوں میں کہاں تک واقعیت کو دخل ہے ہم اس غیر ضروری بحث میں الجھے بغیر اس کے چند معاشرتی و شرعی مفاسد پر نگاہ ڈالتے ہیں سب سے پہلے ضروری ہے کہ حیا سے متعلق اسلامی نقطہ نظر کوواضح کیاجاۓ-
بخاری شریف کی حدیث جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ساٹھ سے زائد شعبے ہیں اور حیا ایمان کا عظیم شعبہ ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث ۹)
ویلنٹائن ڈے ایک فحش تہوار ہے جس میں عریانیت اور مغربی ثقافت کا بول بالا ہوا کرتا ہے بے شرمی اور ننگا پن کا کھلم کھلا کھیل ہوتا ہے جب کہ بےحیائی پھیلانے والوں کی قرآن و سنت میں بہت سخت مزمت بیان کی گئی ہے چنانچہ سورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یقیناً جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں فحاشی و بےحیائی پھیل جاۓ ان کے لۓ دنیا و آخرت میں انتہائی درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔
ویلنٹائن ڈے غیر اسلامی تہوار ہے جس پر عمل باعث گناہ اور جرم عظیم ہیں سننِ ابی داؤد کی حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے (سنن ابی داؤد رقم الحدیث ۴۰۳۳)
اس ویلنٹائن ڈے سے دل میں عشق مجازی اور دیوانگی جنم لیتی ہے بے راہ روی کو فروغ ملتا ہے جس کا نتیجہ زنا کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یہ ایک غیر اسلامی غیر شرعی غیر فطری اور غیر اخلاقی محبت کا اظہار ہے جسے ویلنٹائن ڈے کے منحوس نام سے جانا جاتا ہے بے ہودگی کی انتہا تک پہنچ کر ہی اسے منایا جاتا ہے اس غیر معاشرتی ویلنٹائن ڈے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے یہ بلکل حیوانوں والا کلچر ہے جو سراسر حرام ہے ناجائز ہے خدارا اس سے خود بھی بچیں اور اپنی بہن بیٹیوں کو بھی بچائیں۔
اللہ ربّ العزت! ہم سب کو ہماری بہن بیٹیوں کی اس منحوس رسم سے مکمل حفاظت فرماۓ مزید ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔