از:- سید جمشیداحمد ندوی
استاذ جامعہ امام شاہ ولی اللہ اسلامیہ،پھلت
رمضان المبارک دراصل ایک مقدس معرکہ ہے، ایک خاموش مگر ہمہ گیر جنگ،جس کامیدان انسان کا باطن ہے اورجس کا ہدف اس کی روح کی تطہیرہے۔ یہ مہینہ محض بھوک اور پیاس کانام نہیں، بلکہ یہ ارادوں کی مضبوطی،خواہشات کی شکست، اورایمان کی فتح کااعلان ہےگویااللہ تعالیٰ اپنے بندے کوپکارکرفرماتے ہیں کہ اےانسان!سال بھرتم نے دنیاکے ہنگاموں میں اپنے آپ کوکھویا،اب آؤاور اپنے نفس کے مقابل صف آرا ہوجاؤ۔ اگر تم اس جنگ کےلیے تیارہوتورمضان تمہارا ہے،اور اگرابھی بھی خواہشات کے ہجوم سے نکلنے کا حوصلہ نہیں تو پھر سمجھ لوکہ تم نے رمضان کی حقیقت کونہیں پہچانا۔
یہ مہینہ دراصل تربیت گاہ ہے، جہاں بندے کو ضبطِ نفس کا سبق دیاجاتا ہے۔عام دنوں میں انسان کوکھانے پینے کی عام اجازت ہوتی ہے،جائزخواہشات پوری کرنے کی آزادی ہوتی ہے، مگر رمضان آتے ہی اللہ تعالیٰ ان حلال چیزوں پر بھی پابندی لگادیتے ہیں۔یہ پابندی سزا نہیں،بلکہ تربیت ہے؛محرومی نہیں، بلکہ روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ صبح صادق سے غروب آفتاب تک انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ جس طرح تم نے اللہ کے حکم پر حلال چیزوں سے خود کو روک لیا، اسی طرح تم حرام سے بھی ہمیشہ کے لیے رک سکتےہو۔ روزہ دراصل انسان کے ارادے کو فولاد بناتا ہے، اس کے نفس کی سرکشی کو توڑتا ہے، اور اسکے اندر اطاعت کی ایسی کیفیت پیداکرتاہےجواسے بندگی کے حقیقی مقام تک پہنچا دیتی ہے۔
رمضان کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے نفس کو پہچانے۔شیطان کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے قیدکر دیا جاتا ہے، اس کے سرکش اثرات کو محدود کر دیا جاتاہے،مگراسکے باوجوداگرمعاشرہ میں برائیاں باقی رہیں،اگرزبان جھوٹ سے آلودہ ہو، نگاہیں بدستور بے قابو رہیں، دل حسد اور کینہ سے بھرے رہیں،تو اس کامطلب یہی ہے کہ انسان نے اپنے نفس کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان صرف راستہ دکھاتاہے، چلتا انسان خودہے۔وہ صرف وسوسہ ڈالتاہے،فیصلہ انسان خودکرتاہے۔جب سال کےگیارہ مہینےاپنی خواہشات کو کھلا چھوڑ دیتا ہے، اپنی نگاہوں کو بے لگام کر دیتا ہے، اپنے کانوں کو لغویات کا عادی بنا دیتا ہے، اور اپنے دل کو دنیا کی محبت میں ڈبودیتاہے، تو پھر رمضان میں شیطان کے قید ہو جانےکےباوجودوہ عادتیں اس کاپیچھانہیں چھوڑتیں۔
انسان کی سب سے بڑی جنگ دراصل اسکے نفس سے ہے۔ یہی نفس کبھی آرام کا طالب بنتا ہے، کبھی شہوت کا غلام، کبھی غرور کا مسکن اور کبھی غفلت کا مرکز۔ یہی وہ باطنی دشمن ہےجو انسان کو اس کے اصل مقصدِ حیات سے دور کر دیتا ہے۔ رمضان اسی دشمن کے خلاف اعلانِ جہاد ہے۔ روزہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہاری اصل طاقت تمہاری خواہشات کو پوراکرنے میں نہیں بلکہ انہیں قابو میں رکھنے میں ہے۔پیاس کی شدت جب حلق کوخشک کرتی ہےتودل نرم ہوتاہے، آنکھوں میں خشیت اترتی ہے،اورروح کوایک نئی روشنی ملتی ہے۔
یہ مہینہ انسان کو اس کے گناہوں کا آئینہ دکھاتا ہے۔ وہ لمحے یاد دلاتا ہے جب انسان نے خلوت میں اللہ کی نافرمانی کی، وہ نگاہیں یاد دلاتا ہے جو حرام پر اٹھیں، وہ زبان یاد دلاتا ہے جس نے دلوں کو زخمی کیا، وہ کمائی یاد دلاتاہے جس میں حلال و حرام کی تمیزنہ رہی۔رمضان گویا اعلان کرتاہےکہ اگرتم واقعی بدلنا چاہتے ہو تو یہ موقع تمہارے سامنے ہے۔ یہ مہینہ گزر گیا تو شاید پھر زندگی مہلت نہ دے۔
روحانیت کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنے اندر انقلاب پیدا کرے۔رمضان کامقصد صرف عبادات کی کثرت نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی ہے۔ اگر تراویح میں کھڑے ہونے کے باوجود نگاہوں میں پاکیزگی نہ آئے، اگر تلاوت کے باوجود دل نرم نہ ہو، اگر سحری وافطار کے باوجود نفس کی سرکشی باقی رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ روزہ صرف جسم نے رکھا ہے،روح نے نہیں۔ اصل روزہ تو وہ ہے جس میں زبان بھی روزہ دار ہو، نگاہ بھی روزہ دار ہو، دل بھی روزہ دار ہو اور سوچ بھی روزہ دار ہو۔
رمضان دراصل ایمان کی تجدید کا موسم ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب آسمان کےدروازےکھول دیے جاتے ہیں، رحمتیں نازل ہوتی ہیں،مغفرت کی صدائیں بلندہوتی ہیں،اوربندے کو باربارپکارا جاتاہے کہ آؤ،اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ۔مگر افسوس کہ بعض لوگ اس مہینہ کو بھی معمول کی طرح گزار دیتے ہیں۔ وقت سوشل میڈیا میں گزر جاتا ہے، راتیں فضول مشاغل میں بیت جاتی ہیں، اور دن میں غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ رمضان کے قریب تو آتے ہیں مگر رمضان ان کے قریب نہیں آتا۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان انسان کے اندر مستقل تبدیلی پیدا کرے۔ اگر اس مہینے کے بعد بھی نماز کی پابندی قائم رہے، نگاہوں میں حیاباقی رہے، زبان میں سچائی آ جائے، اور دل میں اللہ کی محبت بڑھ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ رمضان قبول ہوگیا۔لیکن اگر رمضان کےبعد انسان دوبارہ اسی غفلت میں لوٹ جائےتو یہ اسکی محرومی کی علامت ہے۔
یہ مہینہ دراصل ایک دعوت ہے، دعوتِ اصلاح، دعوتِ انقلاب، دعوتِ بندگی۔ اللہ تعالیٰ بندے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کو بدل لے، اپنے حال کو سنوار لے اور اپنے مستقبل کو روشن کرلے۔ روزہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ تم کمزور نہیں ہو،تم اپنی خواہشات کے غلام نہیں ہو،تم اللہ کے بندے ہو،اور بندہ کبھی خواہشات کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو محض ایک مہینہ نہ سمجھیں بلکہ ایک تحریک سمجھیں،ایک بیداری سمجھیں، ایک روحانی انقلاب سمجھیں۔ اپنے دلوں کو پاک کریں، اپنی نگاہوں کو محفوظ کریں، اپنی زبان کو سچ کا عادی بنائیں، اپنی کمائی کوحلال بنائیں، اور اپنے اعمال کو اخلاص سے بھر دیں۔ جب انسان اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کر لیتا ہے تو پھر رمضان صرف کیلنڈر کا ایک مہینہ نہیں رہتا بلکہ زندگی کا مستقل مزاج بن جاتا ہے۔
رمضان دراصل اعلان کرتا ہے کہ جو اپنے نفس پر غالب آ گیا وہی کامیاب ہے، اور جو خواہشات کا غلام بن گیا وہی محروم ہے۔اب فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس مقدس جنگ میں فتح چاہتا ہے یااپنی کمزوریوں کے سامنے ہتھیارڈال دینا چاہتاہے۔یہی رمضان کاپیغام ہے،یہی اسکی روح ہے،اوریہی وہ حقیقت ہے جو انسان کوزمین سے اٹھا کرآسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔