از:- محمد ناصر ندوی پرتاپگڑھی
دبئی، متحدہ عرب امارات
رمضان المبارک کا مہینہ محض عبادات کا موسم نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک زمانہ ہے جس میں بندۂ مؤمن اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتا ہے، نفس کو قابو میں لاتا ہے اور اپنے معاملات کو بھی تقویٰ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ عبادت گاہ کی حاضری جتنی اہم ہے، بازار کی دیانت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر مسجد میں خشوع ہو اور بازار میں فریب، تو یہ تضاد ایمان کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روزے اور کاروبار کے تعلق کو صحیح زاویے سے سمجھیں اور رمضان کو اپنے تجارتی کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
اسلام میں تجارت کو معیوب نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے باعزت ذریعۂ معاش قرار دیا گیا ہے۔ خود رسول اکرم ﷺ نے تجارت فرمائی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں بڑے بڑے تاجر گزرے، لیکن ان کی تجارت دیانت، امانت اور خوفِ خدا سے مزین تھی۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے:
التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ”(ترمذی1209)
“سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا” .
یہ فضیلت اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب تجارت محض منافع حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ رضائے الٰہی کا وسیلہ بن جائے۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے کاروبار کو بھی عبادت کا درجہ دیں۔
روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ … لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” (البقرہ: 183)“اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے … تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”
جب روزے کا مقصد تقویٰ ہے تو یہ تقویٰ صرف سحری و افطاری تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ دکان، دفتر، فیکٹری اور مارکیٹ تک بھی پہنچنا چاہئے۔ اگر ایک تاجر سارا دن بھوکا پیاسا رہ کر بھی جھوٹ بولتا ہے، مال میں عیب چھپاتا ہے، ریٹ بلاوجہ بڑھا دیتا ہے یا ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو وہ روزے کی روح سے محروم رہ جاتا ہے۔
کاروباری مصروفیات اپنی جگہ ایک ضرورت ہیں۔ دکان کھولنا، حساب کتاب کرنا، گاہکوں سے معاملہ کرنا زندگی کا حصہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مصروفیات کے ساتھ روزے کی قدر کیسے کی جائے؟ سب سے پہلی بات نیت کی اصلاح ہے۔ اگر تاجر یہ نیت کرے کہ میں حلال رزق کماؤں گا، اپنے اہل و عیال کی کفالت کروں گا، کسی کو دھوکہ نہیں دوں گا اور اپنے عمل سے اسلام کی سچائی کا نمونہ پیش کروں گا تو اس کا کاروبار بھی عبادت بن جائے گا۔
رمضان میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مانگ بڑھنے کے ساتھ بعض لوگ قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ ضرورت کی چیزوں میں ناجائز اضافہ کرکے منافع سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل روزے کے مقصد کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ» (رواه مسلم، حدیث 1795)
حضرت معمر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ,, جو تاجر احتکار کرے (یعنی غلہ وغیرہ ضروریات زندگی کا ذخیرہ عوام کی ضرورت کے باوجود مہنگائی کےلئے محفوظ رکھے) وہ خطاکار گنہگار ہے,, .
ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھانا معاشرتی ظلم ہے۔ ایک سچا تاجر وہ ہے جو حالات کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے بلکہ لوگوں کی سہولت کو پیشِ نظر رکھے۔ جو تاجر ایمانداری سے ریٹ بڑھائے بغیر کاروبار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے۔ برکت کا مطلب صرف زیادہ منافع نہیں بلکہ کمائی سکون کا ذریعہ بنتی ہے، رزق میں کشادگی، اور کاروبار میں پائیداری پیدا ہوتی ہے۔
دیانت دار تاجر کے پاس گاہک بار بار آتا ہے، کیونکہ اعتماد سب سے بڑی پونجی ہے۔ آج کی دنیا میں اشتہار بازی اور چمک دمک وقتی طور پر گاہک کو متوجہ کرسکتی ہے، مگر مستقل کامیابی اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صاف تولتا ہے، اصل مال دیتا ہے، عیب واضح کر دیتا ہے، اور وعدے کا پابند رہتا ہے، اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔ یہی ساکھ دراصل کاروبار کی اصل بنیاد ہے۔
قرآن کریم میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے:
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ”( المطففین: 1-3) “خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے، جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔”
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ تجارت میں دھوکہ محض دنیاوی جرم نہیں بلکہ آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بھی ہے۔ روزہ ہمیں اسی آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ جب ایک تاجر کو یاد رہے کہ میں بھوکا پیاسا اپنے رب کی رضا کےلئے ہوں اور ایک دن اسی کے حضور حساب دینا ہے، تو وہ ہر ناجائز فائدے سے رک جائے گا۔
کاروبار اور عبادت میں توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ رمضان میں نمازوں کی پابندی، باجماعت حاضری، تلاوتِ قرآن اور ذکر و دعا بھی معمول کا حصہ بننا چاہئے۔ اگر کاروبار کی وجہ سے نمازیں قضا ہونے لگیں یا تراویح سے محرومی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ ترجیحات میں خرابی آگئی ہے۔ کامیاب تاجر وہ ہے جو وقت کو منظم کرتا ہے، دکان کے اوقات اس طرح مرتب کرتا ہے کہ عبادت میں خلل نہ آئے۔
کاروباری اخلاقیات میں ایک اہم پہلو نرم روی اور خوش اخلاقی ہے۔ روزہ صبر سکھاتا ہے۔ گاہک کبھی سخت لہجہ اختیار کرے، بے جا بحث کرے یا قیمت پر زیادہ گفت و شنید کرے تو روزہ دار کو برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سخت کلامی سے وقتی تسکین مل سکتی ہے مگر نرم روی دل جیت لیتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے:
رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى،،(صحیح البخاری2076)
“اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضہ کرتے وقت نرمی اور سہولت اختیار کرتا ہے”
رمضان میں اگر ایک تاجر اپنے رویے کو بہتر بنا لے تو یہ عادت پورے سال باقی رہ سکتی ہے۔ یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے کہ وہ انسان کی مستقل اصلاح کر دے۔
مال میں برکت کا راز تقویٰ اور صدقہ میں پوشیدہ ہے۔ جو تاجر حلال کماتا ہے اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اس کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ بظاہر صدقہ مال کو کم کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بڑھاتا ہے۔ رمضان میں زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی کاروبار کو پاکیزہ بناتی ہے اور دل کو مال کی بےجا محبت پاک کر دیتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دھوکے سے کمایا ہوا مال بظاہر زیادہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس میں سکون نہیں ہوتا۔ ایسے مال میں نہ برکت ہوتی ہے نہ پائیداری۔ کبھی بیماری کی صورت میں نکل جاتا ہے، کبھی نقصان میں ضائع ہوجاتا ہے، اور کبھی اولاد کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس حلال اور صاف مال کم بھی ہو تو کفایت اور سکون عطا کرتا ہے۔
رمضان ہمیں خود احتسابی کا موقع دیتا ہے۔ تاجر کو چاہئے کہ وہ اپنے حسابات کا جائزہ لے: کہیں کسی کا حق تو باقی نہیں ،کسی کو کم مال تو نہیں دیا، کسی کا ادھار بلا وجہ روکا تو نہیں؟ اگر کوتاہی ہوئی ہو تو فوراً اصلاح کرلے، معافی مانگ لے اور حق ادا کردے۔ یہی سچی توبہ ہے اور یہی روزے کی قدر ہے۔
آج کی معیشت میں مقابلہ سخت ہے، لیکن ایمانداری کبھی نقصان کا سبب نہیں بنتی۔ ابتدا میں ممکن ہے منافع کم نظر آئے، مگر اعتماد بڑھتا ہے، گاہک وفادار بنتے ہیں اور کاروبار مستحکم ہوتا ہے۔ جو تاجر ریٹ بڑھائے بغیر، معیار برقرار رکھ کر اور سچائی کے ساتھ تجارت کرتا ہے، اس کی شہرت خود اس کا سرمایہ بن جاتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کو تلاش کرکے آتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دھوکہ نہیں ہوگا۔
آئیے عہد کریں کہ رمضان المبارک کو اپنے کاروبار کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنائیں گے۔ اپنے ناپ تول کو درست کریں گے، وعدوں کی پابندی کریں گے، ذخیرہ اندوزی سے بچیں گے، قیمتوں میں انصاف کریں گے، ملازمین کے حقوق ادا کریں گے، اور ہر موقع پر اللہ کو حاضر و ناظر سمجھ کر معاملات کو انجام دیں گے۔ جب روزہ اور کاروبار ایک دوسرے کے معاون بن جائیں گے تو نہ صرف مال میں برکت ہوگی بلکہ دل میں سکون اور معاشرے میں اعتماد بھی پیدا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، دیانت و امانت کے ساتھ تجارت کرنے، اور رمضان المبارک کی روح کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔