متین امروہوی: غالب کی کچی قبر کے مجاور

از:- معصوم مرادآبادی

کل یعنی27 دسمبر کو ممتازشاعر متین امروہوی کا جنم دن تھا، اتفاق سے غالب بھی 27 دسمبر ہی کو پیداہوئے تھے۔ مجھے امید تھی کہ اس روز غالب کے جنم دن کی مناسبت سے ان کی شاعرانہ عظمت پر اخبار میں کوئی مضمون شائع ہوگا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ میں نے اخبار اٹھاکر دیکھا تو اس میں متین امروہوی پر ایک مضمون تھا اور وہ بھی ان کی شخصیت اور شاعری پر۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ متین امروہوی کتنے اہم شاعر ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ وہ غالب کی کچی قبر کے مجاور جو ٹھہرے۔ چونکئے نہیں یہ بات متین امروہوی نے مجھے ایک روزخودبتائی تھی کہ وہ حضرت نظام الدین کی بستی میں اس وقت سے مقیم ہیں جب غالب کی قبر کچی تھی اور ان کی شاعری پکی۔دراصل متین امروہوی نئی دہلی کے اسی حضرت نظام الدین علاقہ میں مقیم ہیں، جہاں مرزا غالب بعدازمرگ مقیم ہوئے تھے۔ وہ پیدا تو آگرہ میں ہوئے تھے، لیکن زندگی دہلی میں گزاری اور وہ بھی گلی قاسم جان میں جہاں ان کی حویلی کو قومی یادگار میں بدل دیا گیا ہے۔ متین امروہوی کا معاملہ بھی یہی ہے کہ وہ پیدا تو امروہہ میں ہوئے، لیکن زندگی دہلی میں گزاری۔ غالب سے انھیں جو انسیت اور لگاؤ ہے اس کے سبب ان کی رہائش گاہ کو بھی یادگار میں بدلا جاسکتا ہے۔

غالب اور متین امروہوی میں جو مماثلت ہے اسے لفظوں میں بیا ن نہیں کیا جاسکتا۔ وہ غالب سے کس حد تک متاثر ہیں، اس کا اندازہ آپ یوں لگاسکتے ہیں کہ انھوں نے غالب کی ہرزمین میں غزل کہی ہے۔ حالانکہ غالب کی کہیں کوئی زمین ہی نہیں تھی، وہ گلی قاسم جان میں کرائے کی حویلی میں رہا کرتے تھے اور کرایہ بھی وقت پر نہیں دیتے تھے۔ سب کچھ ناؤنوش میں گنوادیا کرتے تھے۔جب حویلی کا مالک تقاضا کرتا تو اپنی پنشن بڑھوانے کے لیے انگریز بہادر کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے۔یہ حقیقت ہے کہ متین امروہوی کو غالب سے والہانہ لگاؤ اور عقیدت ہے۔ انھیں غالب اس درجہ پسند ہیں کہ انھوں نے غالب کی تمام زمینوں میں اشعار کہے ہیں اور ایک دونہیں بلکہ پورے دیوان غالب کی ہرغزل کی زمین کو تختہ مشق بنایا ہے، یہاں تک کہ ”گلہائے سخن برزمین غالب“ کے عنوان سے ایک پورا دیوان شائع ہوگیا ہے۔وہ تو کہئے غالب کا اردو دیوان مختصر ہے، اگر مفصل ہوتا تو وہ بھی متین صاحب کی دسترس سے باہر نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ جتنے بڑے زود گو ہیں اتنے تو غالب بھی نہیں تھے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ تقریباً نصف صدی تک لال قلعہ کا مشاعرہ متین امروہوی کے کلام سے شروع ہوا۔ اب یہ مشاعرہ جہاں ہم نے اپنے لڑکپن میں اپنے عہد کے بہترین شاعروں کوسنا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

متین امروہوی کا کہنا ہے کہ جب وہ امروہہ سے بستی حضرت نظام الدین میں آکر آباد ہوئے تھے تو غالب کچی قبر میں مقیم تھے۔ایک روز وہ غالب کی اس کچی قبر پر حاضر ہوئے تو اندر سے آواز آئی کہ میری قبر پر سنگ مرمر کا مزار کیوں نہیں بنوادیتے۔ متین صاحب نے یہ آواز سن لی اور وہ اسی دھن میں لگ گئے۔ یہاں تک کہ سہراب مودی نے جب اپنی فلم ”مرزا غالب“ بنائی تو متین امروہوی کی یہ آرزو یوں پوری ہوئی کہ انھوں نے اس کچی قبر کو پکے مزار میں بدل دیا۔ متین صاحب کو امیدتھی کہ یہاں بھی ایسا عرس ہوا کرے گا جیسا کچھ دور کے فاصلے پر حضرت امیرخسرو اور محبو ب الٰہی کا ہوا کرتا ہے اور جو چڑھاوے چڑھیں گے، اس سے وہ دیوان غالب کا مصور ایڈیشن چھپواکر مفت تقسیم کریں گے مگردرگاہ حضرت نظام الدین کے دوراندیش مجاوروں نے انھیں تاڑ کیا اور ان کی خواہش پوری نہیں ہونے دی۔غالب کے مزار کو ایک باونڈری میں بندکرکے وہاں تالا ڈال دیا گیا اور چادرپوشی اور پھول چڑھانے کی ممانعت کردی گئی۔ اب یہ مزار27 دسمبر کو غالب کے یوم پیدائش پر ہی کھلتا ہے اور کچھ لوگ پھولوں کی چادر چڑھاتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ متین امروہوی کا مشغلہ کیا ہے اور وہ کہاں رہتے ہیں۔ ان کا اصل مشغلہ تو شاعری ہے جس میں وہ پوری طرح رچ بس گئے ہیں۔ ٹھکانہ ان کا غالب اکیڈمی ہے۔دہلی کی کوئی بھی محفل ہووہاں متین امروہوی اپنے کلام سے زیادہ تکیہ کلام ’عرض کیا ہے‘ کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور غالب اکیڈمی کا تو معاملہ یہ ہے کہ یہاں ہر محفل متین امروہوی کے کلام سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوتی ہے۔ سنا ہے کہ جب کوئی غالب اکیڈمی کا آڈیٹوریم اپنے کسی پروگرام کے لیے بک کرانے آتا ہے تو غالب اکیڈمی کے سیکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد یہ شرط لگادیتے ہیں کہ پروگرام کچھ بھی ہو شروع متین امروہوی کے کلام سے ہی ہوگا۔ وہ آڈیٹوریم کے چارجز کے ساتھ ساتھ متین صاحب کا معاوضہ بھی وصول کرلیتے ہیں، جو اکثر پیشگی داد کی صورت میں ہوتا ہے۔ ابھی پروگرام کا آغاز بھی نہیں ہوتا کہ متین امروہوی اپنی کالی شیروانی اور ٹوپی کے ساتھ آڈیٹوریم میں آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ متین صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ فی البدیہہ شعر کہتے ہیں اور ہر موقع ومحل کی مناسبت سے کہہ ڈالتے ہیں۔ میں کوئی نصف صدی سے کچھ کم عرصے سے متین امروہوی کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ آج بھی بالکل ویسے ہی ہیں جیسے پچاس برس پہلے تھے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ فریج کے اوپری حصے میں جسے غالباً فریزر کہتے ہیں اور جہاں کوئی چیز کبھی خراب نہیں ہوتی، قیام کرتے ہیں۔ متین امروہوی کو شاعری پربلا کی قدرت حاصل ہے۔ وہ حالات حاضرہ پر بہترین قطعات کہتے ہیں اور روزنامہ ’انقلاب‘ کی لگام جب سے برادرم ودود ساجد نے سنھالی ہے، ان کا یومیہ قطعہ ادارتی صفحہ پر بڑے اہتمام سے شائع ہوتا ہے۔ یہ یومیہ قطعات یوں تو مختلف موضوعات پر ہوتے ہیں لیکن اتوار کے روز جب ایڈیٹر کا مضمون شائع ہوتا ہے تو یہ قطعہ بالکل اس مضمون کے مطابق ہوتا ہے گویا وہ نجومی بھی ہیں اور پہلے ہی پتہ لگالیتے ہیں کہ ودودساجد آج کس موضوع پر لکھنے والے ہیں۔ یہ علم نجوم سے ان کے گہرے شغف کا نتیجہ ہے۔

یادش بخیر!اس خاکسار نے متین امروہوی کو سب سے پہلے غالب اکیڈمی میں اس وقت دریافت کیا تھا، جب وہ یہاں 1978 میں اردو خوشنویسی کلاس کا طالب علم ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب غالب اکیڈمی اردو محفلوں کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتی تھی۔ آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔ خاکسار کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس نے یہاں کے ادبی پروگراموں میں اپنے عہد کے تمام بڑے شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کو دیکھا اور سنا۔ غالب اکیڈمی کیا تھی علم وادب کا ایک گہوارہ تھی۔ اس کے سیکریٹری مرحوم ذہین نقوی تھے جن کا وطنی تعلق بھی متین امروہوی کی طرح امروہہ سے تھا۔بڑے بزلہ سنج اور محفل نواز انسان تھے۔ غالب اکیڈمی میں شاعروں کا ایک مثلث تھا جو ہرروزشام کو ذہین نقوی کے دفتر میں محفل جماتا تھا۔ یہ تھے ابرار کرتپوری، واجد سحری اور متین امروہوی۔ابرار کرتپوری دیال سنگھ کالج کی لائبریری میں اپنا کام نپٹاکر یہاں آجاتے تھے۔ جبکہ واجد سحری قرول باغ میں واقع طبیہ کالج کی ڈیوٹی ختم کر کے روزانہ غالب اکیڈمی کا رخ کرتے تھے۔ متین امروہوی یہاں آج کی طرح پہلے سے موجود ہوتے تھے۔ خوب محفل جمتی تھی۔پھر رات گئے جب واجد سحری آخری بس سے قرول باغ روانہ ہوتے تھے تو یہ تینوں انھیں ڈی ٹی سی کی بس میں بٹھانے نظام الدین کے بس اسٹینڈ جایا کرتے تھے۔ متین امروہوی، ابرار کرتپوری اور ذہین نقوی تینوں کا قیام نظام الدین ہی میں تھا۔ متین امروہوی کے علاوہ یہ سب لوگ اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، البتہ متین امروہوی آج بھی جوان ہیں اور شاعری کے رنگ بکھیررہے ہیں۔ خداانھیں تادیر سلامت رکھے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔