از:- ڈاکٹر عمیر انس
ایک طویل علالت کے بعد آج ڈاکٹر منظور عالم صاحب انتقال فرما گئے، کچھ ایک سال پہلے جب انکی صحت قدرے بہتر تھی پروفیسر محسن عثمانی صاحب کی معیت میں انکے دہلی آفس پر حاضری کا موقع ملا تھا، میں اس بات پر شرمندہ تھا کہ اس کمزوری اور علالت کے باوجود وہ ہمارے لیے یہاں بیٹھے ہیں لیکن سچ یہ تھا کہ وہ اس حالت میں بھی وہ سب کرنے کا حوصلا اٹھائے تھے جو کسی جوان جسم کو کرنا چاہیے تھا، انکے اس حوصلے کے سامنے میں اپنے آپ کو میں کمزور محسوس کر رہا تھا، طالب علمی کے زمانے میں بھی ڈاکٹر صاحب سے کئی بار ملاقات کا موقع ملا۔
حقیقت یہ ہےکہ کسی بھی قوم میں بہت ہی کم افراد ایسے ہوتے ہیں جو اس قدر imaginative ہوتے ہیں، ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پر ایرانی انقلاب سے متاثر مسلم نوجوانوں کی نسل میں سے تھے، اور وہ اس بات کو اسی وقت بھانپ چکے تھے کہ ایرانی انقلاب کو رول ماڈل مان کر ہندوستان میں فکر اسلامی کے لیے کام کرنے والوں کے ایک بڑا چیلنج ہے، انہوں نے پوری دیانتداری اور شفافیت سے مسلم نوجوانوں کو رد عمل کی فکر سے دور رکھنے کی کوشش کی اور ان علمی موضوعات پر متوجہ کرایا جو اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں، انکے اگلے چالیس سال ہندوستان میں علوم اسلامیہ کی خدمت میں اس طرح سے گزرے کہ شاید کوئی شعبہ چھوٹا ہو، اسلامی معیشت، اسلامائزشن آف نالج، مدارس اسلامیہ، سیاست اور تاریخ سمیت سبھی موضوعات پر ملک کے نامور محققین کو جمع کرنا اور انکی خدمات لینا انکا بہت بڑا کارنامہ ہے، ذاتی زندگی میں بہت اچھا کرنے والے ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں لیکن ایک ادارے کو بنا کر اور تنظیمی سطح پر کام کرنا سب کے بس کا کام نہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے جس طرح سے ملت کے تمام مکاتب فکر کو متحد اور منظم کیا اسکی مثال عالم اسلام کے دیگر مّمالک میں نہیں پائی جاتی، یہ انکی شخصیت کا ایسا کارنامہ ہے جو شاید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فکر کو عملی جامہ دے رہے تھے،
اللہ سے دعا ہے کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا علمی اور فکری ورثہ ملت اسلامیہ کے لیے آنے والے زمانوں میں روشنی کا ذریعہ ثابت ہو اور انکی لیے قبر میں نور اور جنت میں اعلیٰ مقام کا وسیلہ ثابت ہو،