فاروق ارگلی: قلم کے مزدور

از:- معصوم مرادآبادی

میرے ایک کرم فرما نے فاروق ارگلی کا خاکہ لکھنے کا حکم دیا ہے ،مگر پریشانی یہ ہے کہ میں ان کے بارے میں کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں۔ کسی ایسے شخص پر جو متضاد شخصیت کا حامل ہو، کچھ لکھنا تلوار کی دھارپر چلنے کے برابر ہے۔میں فاروق ارگلی کو کم وبیش چالیس سال سے جانتا ہوں اور یہی میری صحافتی زندگی کا دورانیہ بھی ہے۔ مجھے ان کے ساتھ کبھی کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر میں نے انھیں ہمیشہ قلم بردوش دیکھا ہے، جہاں کہیں اردو کا کام نکلتا ہے، وہاں فاروق ارگلی اپنے قلم کے ساتھ پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ کام کی نوعیت اور اس کا معیار ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ بھی شرط نہیں کہ کام کرانے والا ان کے معیار کا ہی ہو۔ وہ ہرکس وناکس کو بڑا بنانے کی تگ ودو میں مصروف نظر آتے ہیں، لیکن وہ خود کو’بڑا‘کیوں نہیں بناسکے، یہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آسکا۔ حالانکہ انھوں نے مالی اعتبار سے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ کام کیا اور ان کی مشکلیں آسان کیں، لیکن وہ خود آج بھی وہیں ہیں جہاں میں نے انھیں اب سے چالیس برس پہلے دیکھا تھا۔وہ خود کو ”فقیراردو“ ضرور کہتے ہیں، لیکن چالیں ہمیشہ امیروں جیسی چلتے ہیں۔وہ بنیادی طورپرقلم کے مزدور ہیں اور ہرقسم کی اچھی بری تحریر لکھنے پر قادر ہیں۔ انھوں نے تن تنہا اتنا لکھا ہے جو کئی لوگ مل کر بھی نہیں لکھ سکتے۔المیہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے خود اپنے نام سے اتنی تحریریں نہیں لکھیں جتنی دوسروں کو نامور بنانے کے لیے ان کے ناموں سے لکھی ہیں۔لکھنا ان کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔وہ لکھتے ہیں تو لکھتے ہی چلے جاتے ہیں اور گردن اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ موضوع کی بھی کوئی شرط نہیں۔ وہ ہر موضوع پر لکھ سکتے ہیں اور قارئین کی داد وتحسین وصول کرسکتے ہیں۔انھوں نے دہلی میں اپنا کیرئیر پرچون کی دکان سے شروع کیا تھا جہاں ہرقسم کی چھوٹی بڑی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں، ان کی تحریروں پر بھی اس کا اثر ہے جو ہرقسم کے موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔ انھوں نے جہاں وہی وہانوی کے فرضی نام سے عریاں ناول لکھے ہیں تو وہیں مذہبی موضوعات پر باوضو ہوکر لکھا ہے۔ میرے نزدیک وہ مجموعہ اضداد کی حیثیت رکھتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ حلال روزی کو اہمیت دی اور اسے کمانے کے لیے کبھی چور راستوں کا انتخاب نہیں کیا۔شاید یہی وجہ ہے ان کی اولاد ان کے برعکس بڑی نیک اور صالح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر منظور عالم صاحب کی وفات

فاروق ارگلی کی عمر اس وقت 85 برس ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان آرام کرتا ہے، لیکن آرام شاید ان کے مقدر میں نہیں لکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب قلم کے ساتھ ساتھ کیمرے کی آنکھ سے لکھ رہے ہیں۔ وہ ان دنوں دستاویزی فلمیں بنانے میں مشغول ہیں۔ کبھی بھوپال، کبھی لکھنؤ اور کبھی حیدرآباد میں نظر آتے ہیں اور کہیں بھی اپنا پاندان لے جانا نہیں بھولتے۔ ان کے ذہن میں ہروقت ایک خیال ہوتا ہے اور منہ میں ہر وقت ایک پان۔ انھیں اپنے رزق کی کبھی پروا نہیں ہوتی کہ ان کا سب سے زیادہ یقین خدا کے رازق ہونے پر ہے۔ بڑے بڑے منصوبے بنانا ان کا شوق ہے، چاہے جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہ ہو۔ ایک بار وہ ایسا ہی ایک منصوبہ لے کرمرحوم جاوید حبیب کے پاس پہنچے۔ منصوبہ ایسا تھا کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خطیر رقم درکارتھی۔ جاوید حبیب نے بڑے اطمینان سے انھیں سنا اور کہا کہ” منصوبہ تو بہت اچھا ہے مگر پیسے کہاں ہیں؟“یہ سن کر فاروق ارگلی آبدید ہ ہوکر کرسی سے کھڑے ہوگئے اور کہا ”جاوید بھائی، میں ہی تو غریب ہوں، میرا خدا تو غریب نہیں ہے۔“ یہ واقعہ مجھے خود مرحوم جاوید حبیب نے سنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: الحاد کی بڑھتی ہوئی رفتار ایک واہمہ

جاوید حبیب سے ان کا تعلق آنجہانی جگ جیون رام کے ہاں ہوا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب فاروق ارگلی نے جگ جیون رام کے بیٹے سریش رام کی مدد سے ”تیزگام“ کے نام سے اردو میں ایک میگزین نکالا تھا۔ یہ بڑا کامیاب پرچہ تھا، لیکن فاروق ارگلی کے نکالے ہوئے دوسرے پرچوں کی طرح چل نہیں سکا۔ فاروق ارگلی نے ایسے کئی تجربے کئے مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے، مگر مجھے خوشی ہے کہ خود فاروق صاحب ابھی تک چل رہے ہیں اور تھکنے کا نام نہیں لیتے۔دہلی کا کوئی ایسا اشاعتی ادارہ نہیں ہے جہاں فاروق ارگلی نے کام نہ کیا ہو۔ کام ان کا، نام دوسروں کا۔ یعنی وہ پلے بیک سنگنگ پر عبور رکھتے ہیں۔ کسی معمولی اور غیر معروف اخبار کے لیے بھی آپ ان سے مضمون لکھوا سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ملنی چاہئے۔استاد گرامی پروانہ ردولوی نے ان کے ایک خاکہ میں ان شخصیت کی بڑی دلچسپ منظرکشی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”مجھے فاروق ارگلی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے، جب وہ بھوکے پیاسے کان پر قلم رکھ کر گھر سے نکلتے تھے، کسی اخبار یارسالہ میں طب جدید پر کوئی م ضمون لکھ کر آٹے کے پیسے لے لیتے تھے اور کسی پبلشر کی دوکان پر ”عمل تسخیر قلب“ تحریر فرماکر دال کے دام وصول کرتے تھے۔ کسی کے لیے صرف چائے کی ایک پیالی کے عوض دھرمیندر اور ہیما مالنی کے عشق کی داستان قلم بند کرتے تھے اور کسی پستک بھنڈار یا پبلشنگ ہاؤس کے لیے جاسوسی، جنسی یارومانی ناول تحریر کرکے عید کی سویّوں یا شب برات کے حلوے کا انتظام کرتے تھے۔ ہر شخص ان کو ایکسپلا ئٹ کرتا تھا۔ وہ لکھتے لکھتے تھک جاتے تھے اور پھر دوسرے دن یہی عمل شروع کردیتے تھے۔ لیکن اُ س دور میں بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی۔ وہی مسکراہٹ پھیل کر اب ہنسی بن گئی ہے۔خدا اس ہنسی کو سلامت رکھے۔“

یہ بھی پڑھیں: اسلامی احیاء: فکری و عملی اقدامات

فاروق ارگلی نے دہلی کی صحافتی زندگی کے جو نشیب وفراز دیکھے ہیں وہ کم ہی لوگوں نے دیکھے ہوں گے۔ ان کا سب سے سنہری دور وہ تھا جب وہ 90/کی دہائی میں علی صدیقی کی عالمی اردو کانفرنس سے بطور سیکریٹری وابستہ ہوئے۔ یہ دہلی میں اردو کے پانچ ستارہ کلچر کا سب سے زریں دور تھا۔ علی صدیقی کا تعلق حیدرآباد سے تھا اور وہ اردو کے نام پر بڑے بڑے شو برپا کرنے کے شوقین تھے۔ نرسمہاراؤ کی سرکار تھی جو حیدرآباد کے رشتے سے علی صدیقی پر مہربان تھی۔ راؤز ایونیو کی دوبڑی کوٹھیوں میں عالمی اردو کانفرنس کا بڑا عالیشان دفتر تھا۔مشاعروں کی ایسی بہار کبھی نہیں دیکھی گئی۔ پیسے کا بندوبست علی صدیقی کرتے تھے اور مشاعروں کی منصوبہ بندی فاروق ارگلی کے ہاتھوں میں ہوتی تھی۔ اسی دور میں انھوں نے ایک رنگین ہفتہ وار ”اردو مورچہ“ بھی نکالا تھا۔ پرگتی میدان میں عالمی اردو کانفرنس کے مشاعروں میں ہندوپاک کے ہر بڑے شاعر نے شرکت کی۔ صدارت بھی دلیپ کمار اورموسیقار اعظم نوشاد جیسے لوگ کرتے تھے۔ کس کس کا نام گنواؤں۔ اردو کے کیسے کیسے نامی گرامی لوگ علی صدیقی اور فاروق ارگلی کے پیچھے گھومتے تھے۔ نرسمہاراؤ کی سرکار کے خاتمہ کے ساتھ سب کچھ ختم ہوگیا۔ اسی دوران ایک روز فاروق ارگلی صاحب کا فون آیا۔ انھوں نے فرمایا کہ علی صدیقی مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا نہ میں شاعر ہوں نہ کوئی سرمایہ دار۔ بہرحال فاروق صاحب کے اصرار پر میں راؤز ایونیو میں ان کے دفتر پہنچا۔علی صدیقی ایک اونچی کرسی پر براجمان تھے۔ مجھے فاروق صاحب نے ان کے سامنے والی کرسی پر بٹھایا اور خود فرش پر بیٹھ گئے۔ مجھے ان کی یہ ادا اچھی نہیں لگی۔دراصل علی صدیقی کو ایک صوبائی وزیراعلیٰ سے ملنا تھا جن سے میرے اچھے مراسم تھے۔ مگرمیں نے کبھی اس قسم کی کوئی لائزننگ نہیں کی اس لیے معذرت کرکے چلا آیا اور دیر تک فاروق صاحب کے طرزعمل پر اظہارافسوس کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: بابری بنگال اور بی جے پی

فاروق ارگلی کے نام میں ”ارگلی“ کے بارے میں بھی کچھ لوگ سوال کرتے ہیں۔ کئی برس پرانی بات ہے کہ وہ ایک مشاعرہ پڑھنے کراچی گئے۔ وہاں جب ان کا نام پکارا گیا تو کسی دل جلے نے بلند آواز میں سوال کیا ”یہ فاروق تو سمجھ میں آتا ہے مگر ’ارگلی‘ کیا بلا ہے؟“ انھوں نے ایک خاص انداز میں جواب دیا ”یہ بھی ٹنڈو آدم خاں جیسی ایک چیز ہے۔“ (واضح رہے کہ’ٹنڈو آدم خاں‘کراچی کے قریب واقع ایک شہر کانام ہے)اس بے ساختہ جواب پر سامعین ہنس پڑے اور فاروق ارگلی نے مشاعرہ لوٹ لیا۔’ارگل‘ دراصل اترپردیش کے فتح پور شہر میں اس گاؤں کا نام ہے جہاں 3/جنوری 1940کو فاروق ارگلی پیدا ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اپنی تاریخ کو بچائیے

فاروق ارگلی کو جہاں ہرقسم کی نثر لکھنے پر عبور حاصل ہے، وہیں شاعری بھی کمال کی کرتے ہیں۔وہ فی البدیہہ شعر کہتے ہیں اور بہت خوب کہتے ہیں۔ انھوں نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کا ایک طنزیہ قصیدہ لکھا تھا۔ عنوا ن تھا ’قصیدہ درمدح خود‘۔ فاروق صاحب اگر اپنی شاعری کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرتے تو بڑے شاعروں میں شمار ہوتے۔ کہتے ہیں انسان کا سب سے بڑا اثاثہ نیک اور صالح اولاد ہوتی ہے۔ ان کی اولاد واقعی اس کسوٹی پر کھری اترتی ہے اور وہی ان کی مغفرت کا وسیلہ بھی ہوگی۔یہ میرا قطعی ذاتی خیال ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔