از:- مسعودجاوید
میں نے شارجہ کی مسجدوں میں صفائی کرمچاری جو اورینج کلر کے مخصوص یونیفارم جس پر بلدیہ شارجہ Sharjah Municipality موٹے حروف میں لکھا ہوتا ہے ، پہنے ہوئے کو وہاں کے رئیس ترین شیوخ جن کے برف جیسے سفید لباس دشداشہ قیمتی عطر اور بخور سے فضا کو معطر کر رہے تھے، کے بغل میں پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے بارہا دیکھا ہے۔
میں نے اپنے آبائی شہر میں ڈی سی / ڈی ایم کو اگلی صف میں جگہ بنانے والوں اور ہٹو بچو کہنے والوں کو ڈانٹے دیکھا ہے۔
لیکن بعض پسماندہ طبقات کے نام نہاد قائدین اپنی پوسٹ سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ :
- ١- مساجد میں اشرافیہ طبقہ کے لیے پہلی صف میں جگہیں مخصوص ہوتی ہیں۔
- ٢- امامت اور مدرسی میں اشرافیہ معلمین کو ترجیح دی جاتی ہے !
یہ لوگ اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے ایسا بھرم پھیلاتے ہیں۔ مساجد و مدارس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ملازمت اور مناصب میں اقرباء پروری کا تعلق ذاتیات سے ہے نا کہ اشراف ارذال اور اجلاف سے۔ یہ درجہ بندی الحمدللہ مسلمانوں میں بالخصوص آج کے دور میں نہیں ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: مدارس سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
پسماندہ کے نام پر حکومت سے مراعات لینا اس لئے ناگزیر ہے کہ مذہب کی بنیاد پر حکومت بھید بھاؤ امتیازی سلوک اور خصوصی مراعات دستور کی رو سے نہیں دے سکتی ہے تو جات برادری کے نام پر لیں جس طرح غیر مسلم لیتے ہیں ۔ لیکن مسلم معاشرے کو جات برادری میں تقسیم کر کے منافرت کا سبب نہ بنیں۔ یہ نام نہاد پسماندہ لیڈر اپنی قوم کو ورغلاتے ہیں کہ ہر دور میں مسلم اشرافیہ نے ہمارا استحصال کیا ہے اور حکومت اور اقتدار کی راہداریوں میں خود سرخ رو ہوتے رہے اور مراعات حاصل کرتے رہے ہیں ۔ حکومت سے قریب ، اقتدار کی راہداریوں میں اور دیگر سیاسی اور سماجی پلیٹ فارم پر نمایاں ہونے کا سبب ان کا سماج میں مقام اور تعلیم ہے۔ آپ اپنے آپ کو اہل بنائیں اور جگہ پائیں۔ محض جات برادری کے نام پر مراعات اور مقام حاصل کر کے تعلیم اور سیاست میں ظاہر ہے کمپیٹیشن سے محروم رہ جائیں گے۔ دستور ہند مساوات کا حق کا ہر ایک کے لئے گارنٹی دیتا ہے۔
مسلم ملت تمام جات برادری کے اسماء کے باوجود ایک قوم ہے۔ اسے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں مسلمانوں کی جاگیردارانہ نظام ، مزاج اور رویوں کا مقارنہ آج کے سیکولر دور سے نہ کریں ۔