مدارس اور ریاست: آئینی حدود کا تعین
(الہ آباد ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلہ کے تناظر میں)
✍: جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے، بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی اساس اور فکری آزادی کی علامت ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست نے علم کے سرچشموں پر غیر ضروری قدغن لگانے کی کوشش کی، وہاں فکری جمود، سماجی انتشار اور تہذیبی زوال نے جنم لیا۔ اسی تناظر میں الہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جو غیر منظور شدہ مدارس کی بندش کے خلاف صادر ہوا، محض ایک قانونی حکم نہیں بلکہ دستورِ ہند کی روح، جمہوری اقدار اور تعلیمی آزادی کے حق میں ایک مضبوط اعلان ہے۔ یہ فیصلہ ریاست اور شہری کے درمیان اختیارات کی اس حد کو واضح کرتا ہے جہاں سے جبر ختم اور حقِ خود مختاری شروع ہوتا ہے۔
فیصلہ کا پس منظر
اترپردیش کے ضلع شراوستی میں ایک مدرسے کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے محض اس بنیاد پر سیل کر دیا گیا تھا کہ وہ اترپردیش مدرسہ بورڈ سے منظورشدہ (Recognized) نہیں تھا۔ حالاں کہ یہ مدرسہ نہ تو سرکاری امداد کا خواہاں تھا، نہ کسی گرانٹ یا مالی سہولت کا طلب گار۔
انتظامیہ نے 2016 کے ضوابط اور بورڈ کے قواعد کا سہارا لیتے ہوئے یہ اقدام کیا، جس نے ایک بنیادی آئینی سوال کو جنم دیا کہ کیا کوئی نجی تعلیمی ادارہ، جو ریاست پر مالی بوجھ نہیں بنتا، محض غیر منظورشدہ (Non-recognition) کی بنیاد پر بند کیا جا سکتا ہے؟
اسی سوال کے جواب میں الہ آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس سبھاش ودیارتھی نے وہ فیصلہ سنایا جسے بجا طور پر مدارس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے اقلیتی اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدارس کی تقریبات اور بگڑتا ہوا دینی مزاج
ریاستی تسلیم اور وجود کا سوال
عدالت نے نہایت واضح الفاظ میں یہ اصول قائم کیا کہ ریاستی منظوری (State Recognition) کسی تعلیمی ادارے کے وجود کی شرطِ اوّل نہیں ہو سکتی۔ منظوری دراصل ایک انتظامی سہولت ہے، جو مخصوص فوائد کے حصول کے لیے لی جاتی ہے، جیسے سرکاری اسناد، امداد یا سرکاری ملازمتوں میں اہلیت؛ مگر یہ تسلیم کسی ادارے کے وجود و بقا کا فیصلہ کرنے کا ہتھیار نہیں بن سکتی۔
جسٹس ودیارتھی نے اس نکتے کو منطقی انداز میں واضح کیا کہ جس ادارے کے قیام میں ریاست کا سرمایہ، زمین یا انتظامی ڈھانچہ شامل نہیں، اس کے وجود کو ختم کرنے کا اختیار بھی ریاست کو مطلق طور پر حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ فیصلہ دراصل اس ریاستی مغالطے کی تصحیح ہے جس میں "ریگولیشن” اور "خاتمہ” کو خلط ملط کر دیا گیا تھا۔
مدد اور مداخلت کا فرق
قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو فائدہ نہیں دیتا، وہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی مدرسہ ریاست سے مالی امداد، نصابی کنٹرول یا اساتذہ کی تنخواہیں نہیں مانگ رہا، تو ریاست کس بنیاد پر اس کے دروازے بند کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے؟
عدالت نے واضح کیا کہ الحاق یا منظوری ایک رعایت ہے، جبر نہیں۔ اگر کوئی ادارہ اس رعایت سے فائدہ اٹھانا نہ چاہے تو اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ یہ منطق صرف مدارس کے لیے نہیں بلکہ ہر اُس نجی تعلیمی و ثقافتی سعی کے لیے ایک آئینی تحفظ ہے جو ریاستی سرپرستی کے بغیر اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
مدارس کی تاریخی و تہذیبی حیثیت
برصغیر میں مدارس محض مذہبی تعلیم کے مراکز نہیں رہے، بلکہ یہ وہ ادارے ہیں جنہوں نے صدیوں تک علم، اخلاق اور تہذیب کی آبیاری کی۔ ان ہی اداروں سے وہ شخصیتیں پیدا ہوئیں، جنہوں نے علم، سیاست، عدل اور سماج کے میدان میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے جدید سیاسی تعصبات نے ان مراکزِ علم کو شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا، اور تعلیمی اصلاحات کے نام پر انہیں نشانہ بنایا گیا۔
الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اسی پس منظر میں امید کی ایک کرن بن کر ابھرا ہے، جس نے یہ پیغام دیا کہ علم کی ترویج کسی سرکاری مہر کی محتاج نہیں، بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدارسِ اسلامیہ اور عصری تقاضے
آئینی بنیاد: آرٹیکل 30(1)
دستورِ ہند کا آرٹیکل 30(1) اقلیتوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کریں اور انہیں اپنے طریقے سے چلائیں۔ عدالت نے اسی آئینی روح کو زندہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں، بالخصوص کیرالہ ایجوکیشن بل اور دیگر نظائر کا حوالہ دیا۔ عدالت نے تعلیمی اداروں کو تین زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ:
- وہ ادارے جو نہ سرکاری امداد لیتے ہیں اور نہ تسلیم چاہتے ہیں، ریاستی مداخلت سے آزاد ہیں۔
- ریاست صرف اسی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب امنِ عامہ، صحت یا کسی مجرمانہ سرگرمی کا معاملہ ہو۔
- محض کاغذی منظوری کی عدم موجودگی کسی ادارے کو بند کرنے کا جواز نہیں۔
یہ فیصلہ "ریگولیشن” اور "ڈیسٹرکشن” کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔
طلبہ کے مستقبل کا بہانہ
ریاست کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ غیر منظور شدہ مدارس کے طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے؛ کیوں کہ انہیں سرکاری اسناد نہیں ملتیں۔ عدالت نے اس دلیل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبہ اور ان کے سرپرست یہ حقیقت جانتے ہوئے اس ادارے کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ ان کا نجی فیصلہ ہے، اور ریاست اس پر پہرہ نہیں بٹھا سکتی۔
تعلیم کو محض روزگار سے جوڑ دینا ایک تنگ نظر سوچ ہے۔ اگر ایسا ہی معیار ہو تو ہزاروں نجی کوچنگ سینٹرز، آرٹ، موسیقی اور ہنر سکھانے والے ادارے بھی بند کرنے پڑیں، جو سرکاری ملازمت کی ضمانت نہیں دیتے۔
دور رس اثرات اور مستقبل کی راہ
یہ فیصلہ صرف اتر پردیش تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ اس ذہنیت پر کاری ضرب ہے جو ریاست کو ہر شے کا مالک اور شہری کو محض تابع سمجھتی ہے۔ یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت میں خودمختاری کوئی خیرات نہیں بلکہ ایک آئینی حق ہے۔
یہ فیصلہ مدارس کے لیے بھی ایک پیغام رکھتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنے نظم و نسق کو شفاف بنائیں، نصاب میں عصری تقاضوں کو شامل کریں، قانونی شعور پیدا کریں۔ یہ سب کچھ ریاستی جبر کے تحت نہیں بلکہ داخلی اصلاح اور شعوری ارتقا کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ریاست کا کردار سہولت کار کا ہونا چاہیے، جلاد کا نہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ علم کی فتح، دستور کی بالادستی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کی روشن مثال ہے۔ اس نے واضح کر دیا کہ غیر تسلیم شدہ ہونا غیر قانونی ہونے کے مترادف نہیں۔ یہ فیصلہ ان تمام اداروں کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے جو اپنی خودمختاری کے ساتھ علم کی شمع روشن رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ ایک اعلان ہے کہ جب تک عدل کے ایوان بیدار ہیں، تب تک دستورِ ہند کی شمع بجھائی نہیں جا سکتی۔ اب یہ ذمہ داری مدارس اور سماج پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس آزادی کی قدر کریں، اپنی تعلیمی سطح کو بلند کریں اور ثابت کریں کہ علم، آزادی اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔