نواں بجٹ پیش کرنے کو تیار نرملا سیتا رمن، بجٹ 2026 کی ٹیم منظرِ عام پر
نئی دہلی:
ـــــــــــــــــــــ
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری 2026 کو لوک سبھا میں مرکزی بجٹ 2026-27 پیش کریں گی۔ یہ ان کا مسلسل نواں بجٹ ہوگا، جبکہ یہ مودی حکومت (این ڈی اے 3.0) کا تیسرا مکمل بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ سے قبل وزارتِ خزانہ نے اس اعلیٰ سطحی ٹیم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جو بجٹ کی تیاری، مسودہ سازی اور اقتصادی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
بجٹ کی تیاری میں وزیرِ خزانہ کی قیادت میں تجربہ کار بیوروکریٹس اور ماہرینِ معیشت شامل ہیں، جن میں مختلف محکموں کے سکریٹریز اور چیف اکنامک ایڈوائزر قابلِ ذکر ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری بجٹ سے متعلق پارلیمانی اور انتظامی امور میں وزیرِ خزانہ کی معاونت کر رہے ہیں، جبکہ چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھ ناگیشورَن اقتصادی جائزے، ترقی کی شرح کے تخمینے اور عالمی و ملکی معاشی حالات کے تناظر میں بجٹ کو سمت فراہم کر رہے ہیں۔
محکمۂ اقتصادی امور کی سکریٹری انورادھا ٹھاکر اس بجٹ کے لیے اہم ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ یہ ان کا بطور سکریٹری پہلا بجٹ ہے اور وہ بجٹ دستاویزات کی تیاری اور مجموعی مالیاتی حکمتِ عملی کی نگرانی کر رہی ہیں۔
ریونیو سکریٹری اروِند شریواستو براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، جن میں انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور کسٹمز شامل ہیں، سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جبکہ اخراجات کے سکریٹری وی ووئلنم سرکاری اخراجات، مالیاتی نظم و ضبط اور فلاحی اسکیموں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسی طرح فنانشل سروسز کے سکریٹری ایم ناگاراجو بینکاری، انشورنس اور پنشن شعبے سے متعلق امور دیکھ رہے ہیں۔ سرمایہ کاری اور سرکاری اثاثوں کے انتظام کے محکمے (ڈی آئی پی اے ایم) کے سکریٹری اروُنِش چاولہ نجکاری اور سرکاری سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ محکمۂ پبلک انٹرپرائزز کے سکریٹری کے موسس چالئی سرکاری اداروں کی مالی کارکردگی اور کیپٹل اخراجات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ 2026 میں معاشی ترقی کو رفتار دینے، مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سماجی و اقتصادی توازن کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیم کی ساخت اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل مدتی ترقی کی حکمتِ عملی کو بھی مرکزی حیثیت دینا چاہتی ہے۔