از: عارف حسین ندوی
صدر مدرس مدرسہ غنچہ اسلام دھرمباڑی
ــــــــــــــــــــــــــــ
کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا دکھ لفظوں میں پوری طرح سمویا نہیں جا سکتا۔ دل مان تو لیتا ہے مگر قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، اور یادیں بار بار اسی خلا کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں جہاں کبھی ایک شفیق چہرہ اور مانوس مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔ ایسے ہی کرب اور خاموش اذیت کے عالم میں یہ چند سطور قلم بند کی جا رہی ہیں، کیونکہ ماسٹر جمیل اختر مرحوم کی وفات نے دل پر ایک ایسا بوجھ رکھ دیا ہے جسے ہلکا کرنا آسان نہیں۔
مدرسہ غنچۂ اسلام، دھرمباڑی [ بلاک بیسہ، ضلع پورنیہ] سے ان کا رشتہ محض ایک ملازم کا نہیں تھا، بلکہ وابستگی، خلوص اور دیرپا تعلق کی روشن مثال تھا۔ اس ادارے کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی رہی ہیں جو محض استاد نہیں بلکہ ادارے کی روح، اس کی شناخت اور ایک پورے عہد کی علامت بن گئی ہیں۔ ماسٹر جمیل اختر مرحوم بھی انہی خاموش مگر درخشاں چراغوں میں سے تھے، جن کی رحلت نے نہ صرف مدرسہ بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
ماسٹر جمیل اختر مرحوم صرف پڑھانے والے استاد نہیں تھے بلکہ شفقت، خلوص اور بے لوث خدمت کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کی زندگی مدرسہ کی دیواروں، بچوں کی مسکراہٹوں اور شاگردوں کے مستقبل سے جڑی رہی۔ انہوں نے کبھی اپنی محنت کا اظہار نہیں کیا، مگر ان کی خاموش جدوجہد مدرسہ کی بنیادوں میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی۔
نرم گفتاری، دھیمی آواز اور خلوص بھرا رویہ ان کی پہچان تھا۔ بچوں سے گفتگو کرتے وقت ان کے لہجے میں ایسا اطمینان ہوتا کہ خوف اور جھجک خود بخود ختم ہو جاتی۔ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو بھی اسی قدر اہم سمجھتے تھے، اسی لیے شاگردوں کے دلوں میں ان کا مقام غیر معمولی رہا۔
راقم کے ساتھ مرحوم کا رشتہ محض ادارہ جاتی نہیں بلکہ خالصتاً استاد اور شاگرد کا تھا۔ دورانِ تعلیم وہ بارہا میرے علمی حالات کے بارے میں دریافت کرتے، رسمی و غیر رسمی تعلیم کی پیش رفت پوچھتے اور خلوص کے ساتھ رہنمائی فرماتے۔ فراغت کے بعد وہ مجھے وقار اور محبت کے ساتھ "مفتی صاحب” کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ 2015 میں راقم کو صدرِ مدرس کی ذمہ داری سونپی گئی تو وہی استاد، اسی شفقت کے ساتھ مگر منصب کے احترام میں مجھے "صدر صاحب” کہنے لگے۔ یہ محض خطاب کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک استاد کی جانب سے شاگرد کے نئے سفر میں اعتماد کے اعتراف کا اظہار تھا، جو میرے لیے ہمیشہ باعثِ افتخار رہے گا۔
ان کی ملازمت کی سب سے نمایاں خصوصیت مشقت، وقت کی پابندی اور خاموش قربانی تھی۔ وہ جس مقام سے مدرسہ آیا کرتے تھے، وہاں سے کم از کم پندرہ کلومیٹر کی مسافت تھی۔ آج اگرچہ راستے ہموار ہو چکے ہیں، مگر بیس بائیس برس قبل حالات بالکل مختلف تھے۔ کچی سڑکیں، بارش میں کیچڑ، سردی میں دھند اور گرمی میں دھول۔ اس دور میں موٹر سائیکل علاقے میں گنتی کے لوگوں کے پاس ہوتی تھی اور سائیکل ہی عام سواری سمجھی جاتی تھی۔ انہی دشوار گزار راستوں پر ماسٹر جمیل اخترؒ روزانہ سفر کرتے رہے۔ بغیر کسی شکایت اور بغیر کسی مطالبے کے۔ یہ محض ملازمت نہیں بلکہ احساسِ فرض کی عملی تصویر تھی۔
اکثر میں مزاحاً عرض کرتا:
"ہم قریب رہ کر بھی لیٹ ہو جاتے ہیں، آپ اتنی دور سے بالکل وقت پر پہنچ جاتے ہیں!” وہ جواب میں کچھ نہیں کہتے، بس مسکرا دیتے۔ وہ مسکراہٹ جس میں خاموش ذمہ داری، بے لوث محنت اور وقار سمٹ آتا تھا۔
ہمارے چچا حاجی قمرالزماں صاحب سے مرحوم کی رفاقت محض رسمی نہیں بلکہ گھریلو نوعیت کی تھی۔ یہ تعلق برسوں کی قربت، اعتماد اور خلوص پر قائم تھا۔ دکھ سکھ میں ساتھ، مشورہ اور دل جوئی۔ یہ سب اس رفاقت کا حصہ تھا، جو آج کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دونوں کے بچے اسی پیار لگاؤ کی وجہ سے ایک دوسرے کو ” دوست ابا ” کہا کرتے تھے۔
زندگی کے آخری برسوں میں بیماریوں نے جسم کو کمزور کر دیا۔ شوگر، لرزتے قدم اور کمزور نظر کے باوجود ان کا حوصلہ متزلزل نہ ہوا۔ ایک موقع پر آرام کا مشورہ دیا گیا تو ان کا مختصر مگر معنی خیز جواب تھا: "جب تک صحت ساتھ دے گی، آتا رہوں گا”۔
یہ جملہ ان کی پوری زندگی کا نچوڑ بن گیا۔
بیٹی کی شادی کے موقع پر ان کے چہرے پر شکر اور اطمینان کی کیفیت نمایاں تھی۔ وہ اس مرحلے کو اللہ کی طرف سے ایک بڑی ذمہ داری کی تکمیل قرار دیتے تھے۔
آج ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ صرف ایک استاد کا نہیں بلکہ ایک عہدکا خلا ہے۔ ایک مخلص استاذ، پھر ساتھی، ایک ذمہ دار خادم اور ایک باوقار انسان کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ماسٹر جمیل اختر کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔ پسماندگان، شاگردوں اور تمام وابستگانِ مدرسہ کو صبرِ جمیل عطا ہو۔
آمین یا رب العالمین