عدالت عظمیٰ میں ممتا بنرجی کی دھاڑ: لمحہ فکریہ

تحریر: مسعود جاوید

آسام کے وزیر اعلیٰ نے مسلمانوں( میاؤں )کے خلاف جس طرح کی زہر افشانی کی ہے بلکہ لگاتار کرتا رہتا ہے اس کے خلاف کس مسلم تنظیم نے عدالت کا رخ کیا ؟ اگر نہیں تو کیوں؟

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ لیاقت کے اعتبار سے سند یافتہ وکیل بھی ہیں لیکن جن ریاستوں میں وہاں کے اپوزیشن لیڈروں میں عدالت عظمیٰ میں بحث کرنے کی لیاقت اور صلاحیت نہیں ہے وہ قابل و فاضل مذہب و جات بات سے اوپر اٹھ کر پیشہ ورانہ خدمات جو لوگ دیتے ہیں ان کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کام کر سکتے تھے اور کر سکتے ہیں لیکن افسوس کسی کو ووٹر لسٹ سے نام کٹنے والوں کی فکرنہیں !

ویسے مجلس کے صدر اسدالدین اویسی صاحب بھی بیرسٹر اور اچھے مقرر اور قانون دان ہیں۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے "ووٹ چور گدی چھوڑ” کی تحریک چلا کر لوگوں میں بیداری لانے کی کوشش کی تھی لیکن ۔ اپوزیشن کا مطلب کیا صرف کانگریس یا راہل گاندھی ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں ووٹروں کے نام کاٹنے کی بابت اکھلیش یادو ، مایاوتی اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان و سرگرم کارکنان اپنے صوبے کے لوگوں کے اسماء کاٹے جانے پر نظر رکھنے تحقیق کرنے اور بی ایل کو غیر جانبداری کے ساتھ کام کرنے کی بابت کیا کر رہے ہیں؟

دستور ہند اور قوانین کے ماہرین ہماری ملت میں بھی بہت سے۔ممتاز قانون دان ریٹائرڈ جسٹس اور وکلاء صاحبان ہیں وہ عدالت کا رخ کرنے کے لئے ملت کے بہترین نمائندے ہو سکتے ہیں لیکن افسوس انہوں نے ملی مسائل میں کبھی دلچسپی نہیں لی اور پھر ہمارا روشن خیال طبقہ کہتا ہے کہ علماء نے سارا کھیل
!بگاڑدیا
مسلمانوں کے تقریباً ہر طبقے کو ملی تنظیموں سے امید رہتی ہے اور یہ صحیح بھی ہے امید رکھنی بھی چاہیے لیکن امید کے ساتھ ساتھ محاسبہ ؛ باز پرس بھی ہو۔

آسام کے مسلمانوں کا معاملہ گرچہ قدیم ہے اور جمعیت علماء ہند نے ان کے لئے کافی کام بھی کیا تھا لیکن جب سے بدرالدین اجمل صاحب نے مسلم قیادت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جمعیت علماء ہند آسام کے مسلمانوں کے مسائل سے تقریباً دستبردار ہو گئی ہے۔

ویسے ایسے ملی مسائل کو حکومتی اور عدالتی پلیٹ فارمز پر اٹھانے کے لئے مسلم مجلس مشاورت کا قیام وجود میں آیا تھا جو ان دنوں علمی اور ادبی شخصیات کی غالباً سوانح عمری کی ترویج میں مصروف ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔