مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ: چار ٹیک کمپنیوں کی سرمایہ کاری بھارت کے سالانہ بجٹ کے برابر
نئی دہلی، 8 فروری:
مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسی غیر معمولی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہیں جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گوگل، ایمیزون، میٹا اور مائیکروسافٹ رواں سال AI اور اس سے متعلق انفراسٹرکچر پر مجموعی طور پر تقریباً 650 ارب امریکی ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ یہ رقم تقریباً بھارت کے سالانہ مرکزی بجٹ کے برابر بتائی جا رہی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں AI کو کس قدر اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انفرادی طور پر ایمیزون سب سے زیادہ، یعنی تقریباً 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ گوگل قریب 185 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح میٹا تقریباً 135 ارب ڈالر اور مائیکروسافٹ لگ بھگ 120 ارب ڈالر AI منصوبوں پر صرف کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری صرف سافٹ ویئر یا چیٹ بوٹس تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ڈیٹا سینٹرز، ہائی پرفارمنس سرورز، جدید چپس، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور AI بیسڈ مصنوعات کی تیاری پر بھی بڑے پیمانے پر خرچ کی جائے گی۔ گوگل کے ’’جیمِنائی‘‘، مائیکروسافٹ کے ’’کو پائلٹ‘‘، ایمیزون کی AI سروسز اور میٹا کے اسمارٹ پلیٹ فارمز اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق AI پر اس قدر بھاری سرمایہ کاری آنے والے برسوں میں روزگار، تعلیم، صحت، کاروبار اور سرکاری خدمات سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرے گی۔ یہ رجحان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی معیشت میں برتری انہی کمپنیوں کو حاصل ہوگی جو مصنوعی ذہانت میں سبقت لے جائیں گی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی چند نجی کمپنیاں اب ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنا سرمایہ لگا رہی ہیں جو کئی ممالک کے قومی بجٹ کے برابر ہے، اور یہی حقیقت آنے والے دور کی ڈیجیٹل طاقت کا تعین کرے گی۔