تجارتی معاہدے پر یوٹرن؟ وائٹ ہاؤس نے بھارت سے متعلق وعدوں کی زبان بدلی، زرعی نکات حذف

واشنگٹن/نئی دہلی:

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے سے متعلق جاری کردہ وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ میں خاموشی سے کئی اہم ترامیم کردی گئی ہیں، جن کے بعد معاہدے کی نوعیت اور وعدوں کی شدت پہلے کے مقابلے میں نرم دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے ابتدائی دستاویز میں زرعی مصنوعات کی فہرست میں شامل ’’مخصوص دالوں‘‘ (Pulses) کا ذکر مکمل طور پر ہٹا دیا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ بھارت دالوں کا بڑا پیدا کنندہ اور صارف ملک ہے اور اس شعبے میں درآمدات سے مقامی کسانوں پر اثر پڑ سکتا تھا۔

اسی طرح فیکٹ شیٹ میں ایک اور نمایاں تبدیلی 500 ارب ڈالر کی تجارت سے متعلق کی گئی ہے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ بھارت امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے ’’کمٹمنٹ‘‘ دے گا، تاہم اب اس لفظ کو بدل کر ’’ارادہ رکھتا ہے‘‘ (intends) کردیا گیا ہے، جس سے یہ ہدف قانونی یا سخت وعدے کے بجائے ایک عمومی خواہش یا منصوبہ بن کر رہ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض دیگر نکات، خصوصاً زرعی تجارت اور ڈیجیٹل خدمات سے متعلق زبان بھی نرم کی گئی ہے اور انہیں حتمی فیصلے کے بجائے باہمی مشاورت سے مشروط کردیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک ابھی کئی معاملات پر حتمی اتفاق تک نہیں پہنچ سکے۔ اسی لیے ابتدائی طور پر شامل کیے گئے سخت یا واضح بیانات کو تبدیل کرکے زیادہ محتاط الفاظ اختیار کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کی کوشش ہے، تاہم فیکٹ شیٹ میں کی گئی تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ زرعی شعبے اور بڑے مالی اہداف کے حوالے سے دونوں حکومتیں فی الحال محتاط حکمتِ عملی اپنا رہی ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔