از:- محمد ناصر ندوی پرتاپگڑھی
دبئی متحدہ عرب امارات
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ مہینہ نفس کی تربیت، اخلاق کی اصلاح، روح کی پاکیزگی اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ روزہ انسان کے اندر چھپی ہوئی کمزوریوں کو سامنے لاتا ہے اور پھر انہیں قابو میں کرنے کی عملی مشق بھی کراتا ہے۔ انہی کمزوریوں میں سے ایک بڑی کمزوری "غصہ” ہے۔ غصہ اگر بے قابو ہوجائے تو عبادت کا نور کمزور کر دیتا ہے، رشتے توڑ دیتا ہے اور انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ رمضان اسی غصے کو قابو میں کرنے کی تربیت گاہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ:183)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ ،، ۔
تقویٰ کا مفہوم صرف ظاہری عبادت نہیں بلکہ دل کا پاک ہونا، زبان کا محفوظ ہونا، اور نفس کا قابو میں ہونا ہے۔ اگر انسان روزہ رکھ کر بھی غصے کو قابو نہ کرسکے تو وہ تقویٰ کے مقصد کو مکمل حاصل نہیں کر پاتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الصيام جُنَّة” (بخاری، مسلم)ترجمہ: ،،روزہ ڈھال ہے،،
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"فإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب، فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني صائم” (بخاری، مسلم)
ترجمہ: ،،جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو نہ فحش کلامی کرے اور نہ شور و شغب، اور اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی کرے تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں،، ۔
اسلام نے غصے کو فطری جذبہ تسلیم کیا ہے، مگر اسے بے قابو چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب”(بخاری، مسلم)
ترجمہ: ,,طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو ہرا دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے ،، ۔
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ "(آل عمران:134)
ترجمہ: ,,جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے,, ۔
غصہ پی جانا ایک عظیم عمل ہے۔ ایک حدیث میں آیاہے:”جو شخص غصے کو قابو میں رکھے حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے اختیار کرنے کا حق دے گا,, ۔
بعض لوگ روزے کے دوران چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مزاج میں تنکی آجاتی ہے۔ گھر والوں پر ناراضگی، ملازمین پر سختی، بچوں پر ڈانٹ ڈپٹ، دکان یا دفتر میں خریداروں سے الجھنا اور معاملات میں سخت گیری روزے کی روح کے منافی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا أسوہ دیکھئے۔ آپ پر طائف میں پتھر برسائے گئے، چہرہ لہولہان ہوا، مگر آپ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔ مکہ کے فتح کے دن آپ کے سامنے وہ لوگ کھڑے تھے جنہوں نے ظلم کیا تھا، مگر آپ نے فرمایا:
"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔” یہ حلم اور ضبطِ نفس کی اعلیٰ مثال ہے۔
غصے کو قابو کرنے کے چند طریقے:
جب کسی کو غصہ آئے تو اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔
وضو کرلے، کیونکہ پانی آگ کو بجھاتا ہے۔
خاموشی اختیار کرے۔ اکثر جھگڑے زبان کی تیزی سے بڑھتے ہیں۔
یاد رکھیں، غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ روزہ دار جھگڑے میں پڑجائے تاکہ اس کا اجر کم ہوجائے۔ اگر ہم نے غصہ پی لیا تو ہم نے شیطان کو شکست دے دی۔
غصہ اکثر تکبر سے پیدا ہوتا ہے، رمضان عاجزی سکھاتا ہے۔ جب بندہ اللہ کے سامنے جھکتا ہے، سجدہ کرتا ہے، تو اس کا تکبر ٹوٹتا ہے اور غصہ کا زور کم ہوتا ہے۔
غصے کو قابو کرنے کا ثواب مستقل اور عظیم ہے۔ قیامت کے دن وہ لوگ کامیاب ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اپنے نفس کو قابو کیا۔ روزہ اسی کامیابی کی تیاری ہے۔ اگر ہم نے رمضان میں اپنے غصے پر قابو پا لیا تو پورا سال ہمارا مزاج بہتر رہے گا۔
ہم سب کو چاہئے کہ رمضان میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی گھر، بچوں اور معاشرت میں تحمل اور نرم دلی اختیار کریں۔ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو غصے پر قابو پانے، صبر اور حلم اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہی دینِ اسلام کی حقیقی تعلیم ہے۔
آئیے ہم اپنے آپ سے چند سوال کریں:
کیا رمضان شروع ہونے کے بعد ہمارا لہجہ نرم ہوا، کسی کو معاف کیا،کسی سے معافی مانگی ،اور کیا ہم نے جھگڑا چھوڑا،کبھی ہم نے غصے کے وقت "میں روزے سے ہوں” کہہ کر اپنے نفس کو روکا؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمارا رمضان کامیاب ہے۔
ہم عہد کریں کہ اس رمضان ہم صرف پیٹ کا نہیں بلکہ زبان اور دل کا بھی روزہ رکھیں گے۔ ہم غصے کو قابو میں رکھیں گے، لوگوں کو معاف کریں گے، صبر اور حلم کو اپنائیں گے۔ کیونکہ جو شخص اپنے نفس پر قابو پالیتا ہے وہی اصل کامیاب ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا روزہ نصیب فرمائے، غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں حلم، بردباری اور حسنِ اخلاق سے آراستہ فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے۔