برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل، ماں واگ دیوی یونیورسٹی رکھنے کا فیصلہ

بھوپال/سیل رواں: مدھیہ پردیش حکومت نے بھوپال کی معروف برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے "ماں واگ دیوی یونیورسٹی” رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد علمی اور سماجی حلقوں میں مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بھوپال کی تاریخی کمال مولا مسجد کو مندر میں تبدیل کیے جانے کے بعد اسے بھی ’’ماں واگ دیوی‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ اب اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

برکت اللہ یونیورسٹی کا نام برصغیر کے نامور مجاہدِ آزادی مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام پر رکھا گیا تھا، جو برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک گزارا اور ہندوستان کی آزادی کے لیے بین الاقوامی سطح پر سرگرم کردار ادا کیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق پہلی جنگِ عظیم کے دوران 1915 میں کابل میں قائم ہونے والی ہندوستان کی پہلی جلاوطن حکومت میں مولانا برکت اللہ وزیرِ اعظم تھے، جبکہ **راجہ مہندر پرتاپ سنگھ** اس حکومت کے صدر کے منصب پر فائز تھے۔

مولانا برکت اللہ 1854 میں بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں مختلف ممالک میں قیام کے دوران انہوں نے امریکہ سے ایک اردو اخبار بھی جاری کیا۔ 1927 میں سان فرانسسکو میں ان کا انتقال ہوا۔ انہیں ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے بین الاقوامی سفیر اور انقلابی رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔