✍🏻 محمد عادل ارریاوی
__________________
محترم قارئین! اسلامی شریعت میں مالی عبادات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ عبادات نہ صرف بندے کے اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں باہمی ہمدردی تعاون اور عدل و توازن کو بھی فروغ دیتی ہیں انہی مالی عبادات میں ایک عظیم عبادت زکوٰۃ ہے جو اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور جس کے ذریعے مال کی پاکیزگی دل کی سخاوت اور معاشرتی فلاح کے مقاصد بیک وقت حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اسلام نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ نیکی کے کاموں میں ترجیحات اور فضیلت کے درجات کا لحاظ رکھا جائے اگر کوئی نیکی ایسی ہو جس میں بیک وقت کئی دینی فوائد جمع ہو جائیں تو اس کا اجر و ثواب بھی بڑھ جاتا ہے چنانچہ زکوٰۃ کو ایسے مصارف میں خرچ کرنا جن سے دین کی خدمت علم دین کی اشاعت اور معاشرے کی اصلاح کا پہلو بھی پیدا ہو جائے یقیناً زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے۔
زکوٰۃ شریعت کا اہم فریضہ ہے جو شریعت کی طرف سے مخصوص مال داروں پر فرض کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مال کی محبت کم کرنا اور غریبوں و ناداروں کا تعاون کرنا ہے اسی لیے اس میں جمہور کے نزدیک غریب کو مالک بنانا شرط قرار دیا گیا ہے پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اگر اس میں کوئی اور بھی کار خیر شامل ہو جائے تو اس کا ثواب دوبالا ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر اپنے غریب و مستحق رشتہ داروں کو زکوٰۃ دی جائے تو اس میں دہرا ثواب ہے ایک تو خود زکوٰۃ ادا کرنے کا جو ہر صحیح مصرف میں ادا کرنے سے بہر حال ملتا ہی ہے اور دوسرا ثواب رشتہ داروں کے ساتھ احسان وصلہ رحمی کرنے کا اسی وجہ سے غریب و مستحق رشتہ دار کو زکوٰۃ دینا دہرا ثواب قرار دیا گیا ہے اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اہل علم نے ہمیشہ مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ زکوٰۃ کے صحیح اور افضل مصارف کو پہچانیں اور اپنے مال کو ایسے مقامات پر خرچ کریں جہاں سے دین اور امت دونوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے اسی طرح اگر زکوٰۃ کسی ایسے صحیح مصرف میں لگائی جائے کہ اس میں کوئی اور دینی فائدہ اور اس سے بڑھ کر صدقہ جاریہ ہونے کا پہلو بھی شامل ہو جائے تو وہ بھی ثواب کو چند دو چند کرنے کا باعث ہوگا اور اسی وجہ سے دینی مدارس کے غریب و مستحق طلبا پر اپنی زکاۃ کو خرچ کرنا دہرے ثواب کا باعث ہے چنانچہ یہاں بھی ایک ثواب تو خود زکوٰۃ کی ادائیگی کا ہے اور دوسرا ثواب نیک لوگوں پر خرچ کرنے کا ہے جو اللہ کے راستہ میں اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور دین کی تعلیم کے حصول کے لیے نکلے ہوئے ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ زکوٰۃ کی جو رقم نیک ہستیوں اور اس سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کے مہمانوں پر اور دین کی تعلیم کے حصول کے لیے خرچ ہوگی اس کا ثواب اور اجر ان خوبیوں اور فضیلتوں سے خالی مواقع اور عام مستحقین پر خرچ کرنے کی بنسبت بہت بڑھ جائے گا پھر اس میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ دین کی تعلیم حاصل کر کے طالب علم زندگی بھر جو دین کی خدمت کریں گے اور جہاں جہاں بھی ان کی تبلیغ اور دینی جدو جہد کا فیض واسطہ در واسطہ پہنچے گا اس ثواب میں زکوٰۃ دینے والوں کو بھی اجر حاصل ہوگا۔
اور یہ ظاہر ہے کہ دینی تعلیم کا سلسلہ واسطہ در واسطہ اور نسل در نسل ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتا ہے اور شروع اسلام سے اس کا سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ قرب قیامت تک جاری رہے گا جس مرحلے میں بھی اشاعت دین کے اس جاری و ساری سلسلے میں کوئی شامل و شریک ہوگا آئندہ زمانہ پھر ( تا قرب قیامت ) وہ اس صدقہ جاریہ میں شریک اور حصہ دار بن جائے گا۔ الحمد اللہ تعالیٰ برصغیر میں صدیوں سے مسلمان اس فضیلت اور اجر و ثواب سے واقف ہیں اور اس پر عمل کرتے اور اس میں حصہ دار بنتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ زکوٰۃ و صدقات وغیرہ سے دینی مدارس کے طلبا کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن چند سالوں سے مسلمانوں کے اس رجحان میں کمی دکھائی دے رہی ہے اس کی ایک وجہ تو مادیت پرستی کا غلبہ ہے کہ مادیت پرستوں نے صرف کھانے پینے اور اس ظاہری زندگی کو ہی سب کچھ سمجھا ہوا ہے اس لیے انھوں نے سارا زور اسی پر لگایا ہوا ہے اور خدمت خلق اور سوشل سروس کے ادارے رات دن غریبوں یتیموں بیواؤں اور بیماروں کے تعاون کا نام لے کر مسلمانوں کے ذہنوں سے مادیت و روحانیت کے فرق کو مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں روحانی و دینی خدمات کو چھوڑ کر ان کا سارا زور ہی ان مادی چیزوں پر لگا ہوا ہے اور اب یہ وبا ایسی پھیلنی شروع ہو گئی ہے کہ بعض دینی ذہن رکھنے والے بڑے طبقے کی توجہ بھی اپنے روحانی امور سے ہٹ کر مادیت کی طرف ہوتی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ علم حضرات زکوٰۃ کے روحانی و مادی اس فرق اور اس میں فضیلت کے درجات کے تفاوت کی طرف خود بھی متوجہ ہوں اور عوام الناس اور اپنے حلقہ احباب وارادت کو بھی متوجہ فرمائیں۔
عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ دینی مدارس و جامعات کی اہمیت وضرورت کا احساس اپنے ذہنوں میں برقرار رکھیں اور دینی مدارس و جامعات جو اس پرفتن دور میں بھی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور قال الله وقال الرسول کی خدمت میں مصروف ہیں اور حفاظت و اشاعت دین کا اس دور میں ( اسباب کی حد تک ) امتیازی ذریعہ ہیں زکوٰۃ و صدقات اور عطیات وغیرہ کے مصارف کے اعتبار سے ان کو اولیت و ترجیح دیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ اپنی طرف سے تحقیق و اطمینان کر لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت ولا علمی میں نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں زکوٰۃ وصدقات پہنچ کر اہل اور صحیح مدارس کی حق تلفی ہو جائے کیوں کہ آج کل دوسرے شعبوں کی طرح اس میدان میں بھی نااہل لوگوں کی بہتات اور کثرت ہوتی جارہی ہے اور بعض اسلام اور ملک دشمن عناصر یہاں تک کہ تخریب کار اور دہشت گرد بھی دوسرا روپ اختیار کر کے سادہ لوح مسلمانوں کی زکوٰۃ وصدقات پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں حال ہی میں کئی احمقوں کو پکڑا گیا ہے اللہ ہدایت دے اللہ ربّ العزت ہماری زکوٰۃ کو مال و دل کی پاکیزگی اور محتاجوں کی مدد کا ذریعہ بنا دے اور ہمیں اس کا قبول شدہ اجر عطا فرما۔
آمین یارب العالمین