از۔ شیزا جلال پوری
انسان کی زندگی ایک خاموش سوال ہے، اور اس کا ہر دن اس سوال کا نیا جواب۔ کوئی اسے قسمت کا نام دیتا ہے، کوئی حالات کا، اور کوئی زمانے کی ستم ظریفی قرار دیتا ہے؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی نہ مکمل طور پر تقدیر ہے اور نہ صرف تدبیر،بلکہ تقدیر کے دروازے تک پہنچنے کا راستہ تدبیر ہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو انسان اس راز کو سمجھ لیتا ہے، وہ شکست میں بھی راستہ تلاش کر لیتا ہے، اور جو نہیں سمجھ پاتا، وہ مواقع کے درمیان رہ کر بھی محرومی کا شکار رہتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ناکامی کا سب سے آسان جواز “قسمت” بن چکا ہے۔ امتحان میں ناکامی ہو تو قسمت خراب، روزگار نہ ملے تو تقدیر ناراض، رشتے ٹوٹ جائیں تو نصیب کا لکھا۔ گویا انسان نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ تقدیر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ تقدیر ہمیشہ حرکت کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے، ٹھہر جانے والوں کا نہیں ہے۔
قدرت نے انسان کو اختیار دیا، عقل دی، شعور دیا، اور سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی۔ یہی وہ نعمت ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اگر سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہوتا تو کوشش، محنت، دعا، منصوبہ بندی اور جدوجہد کا کوئی مفہوم باقی نہ رہتا۔ پھر انبیاء کی دعوت، اولیاء کی تعلیمات اور مفکرین کی جدوجہد کیوں وجود میں آتی؟ حقیقت یہ ہے کہ تقدیر امکانات کا نام ہے، اور تدبیر ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے کا عمل ہے۔
زندگی کے میدان میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو حالات کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ پہلا شخص ہر مشکل کو دیوار سمجھتا ہے، دوسرا اسے سیڑھی بنا لیتا ہے۔ فرق صرف سوچ کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ کیونکہ سوچ جب تک تدبیر میں نہ ڈھلے، محض خواب رہتی ہے۔
ہم اکثر کامیاب لوگوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ان کی قسمت اچھی تھی۔ مگر ہم ان کی بے خواب راتیں، مسلسل ناکامیاں، اور خاموش جدوجہد نہیں دیکھتے۔ دراصل کامیابی اچانک نہیں آتی؛ وہ آہستہ آہستہ انسان کی عادتوں، فیصلوں اور مستقل مزاجی میں جنم لیتی ہے۔ تقدیر ان کے دروازے پر دستک دیتی ہے جو پہلے خود دروازہ بنانے کی ہمت رکھتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ تدبیر سے زیادہ تعویذ پر یقین کرنے لگا ہے۔ محنت سے زیادہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتا ہے۔ حالانکہ قدرت کا نظام بڑا واضح ہے، بیج بوئے بغیر فصل نہیں اگتی۔ دعا کے ساتھ عمل ضروری ہے، نیت کے ساتھ محنت لازمی ہے، اور خواب کے ساتھ جدوجہد ناگزیر ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری خوف ہے۔ناکامی کا خوف، تنقید کا خوف، اور تبدیلی کا خوف۔ یہی خوف اسے قدم اٹھانے سے روکتا ہے۔ وہ سوچتا رہتا ہے، منصوبے بناتا رہتا ہے، مگر آغاز نہیں کرتا۔ یاد رکھئے، تقدیر حرکت میں چھپی ہے۔ جو پہلا قدم اٹھاتا ہے، راستے خود اس کے لیے ہموار ہونے لگتے ہیں۔
زندگی کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں ہر دن نئی شروعات کا امکان رکھتا ہے۔ کل کی غلطیاں آج کی تدبیر بن سکتی ہیں، اگر انسان سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ناکامی دراصل انجام نہیں بلکہ رہنمائی ہے۔ یہ انسان کو بتاتی ہے کہ کون سا راستہ درست نہیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ناکامی کو اپنی پہچان بنا لیتے ہیں، حالانکہ وہ صرف ایک تجربہ ہوتی ہے۔
انسان جب اپنی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے تو اس کی شخصیت بدلنے لگتی ہے۔ وہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا معمار وہ خود ہے۔ یہی شعور تدبیر کی ابتدا ہے۔ کیونکہ تدبیر صرف منصوبہ نہیں بلکہ خود احتسابی کا نام ہے۔
وقت دنیا کی سب سے منصف قوت ہے۔ یہ ہر انسان کو برابر مواقع دیتا ہے، مگر نتائج مختلف ہوتے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ وقت کو استعمال کرتے ہیں اور کچھ وقت کے استعمال ہو جاتے ہیں۔ جو شخص اپنے لمحوں کی قدر جان لیتا ہے، وہ اپنی تقدیر لکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
آج کا انسان سہولتوں کے باوجود بے سکون ہے، کیونکہ اس نے کوشش کی جگہ خواہش کو بٹھا دیا ہے۔ وہ چاہتا سب کچھ ہے مگر کرنا کم چاہتا ہے۔ یاد رکھئے، خواہش تقدیر نہیں بدلتی، عمل بدلتا ہے۔ خواب راستہ نہیں بناتے، قدم بناتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھئے، ہر انقلاب ایک فرد کی تدبیر سے شروع ہوا۔ کسی نے حالات کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود حالات پیدا کیے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ اگر وہ بھی تقدیر کے انتظار میں بیٹھ جاتے تو دنیا آج مختلف نہ ہوتی ۔
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ارادے کی کمزوری ہے۔ محدود وسائل کے باوجود بے شمار لوگ عظیم بنے، جبکہ بے پناہ سہولتوں کے باوجود کئی لوگ گمنامی میں کھو گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کامیابی کا تعلق حالات سے کم اور فیصلوں سے زیادہ ہے۔
زندگی ہمیں بار بار موقع دیتی ہے کہ ہم خود کو بدل سکیں۔ مگر تبدیلی تکلیف مانگتی ہے، صبر مانگتی ہے، اور سب سے بڑھ کر مستقل مزاجی مانگتی ہے۔ جو شخص آسانی چاہتا ہے وہ معمولی رہ جاتا ہے، اور جو مشکل کو گلے لگا لیتا ہے وہ غیر معمولی بن جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تدبیر کا مطلب صرف دنیاوی کامیابی نہیں۔ اصل تدبیر اپنے باطن کو سنوارنا ہے۔ انسان جب اپنے اخلاق، کردار اور نیت کو درست کر لیتا ہے تو اس کی زندگی میں برکت آتی ہے۔ کیونکہ تقدیر صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں بلکہ سکونِ قلب بھی تقدیر کا حصہ ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تقدیر کوئی بند کتاب نہیں جسے بدلا نہ جا سکے۔ یہ ایک ایسا مسودہ ہے جس میں انسان کی محنت سطریں بڑھاتی رہتی ہے۔ ہر نیا فیصلہ ایک نیا باب لکھ دیتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ انسان اپنی کوشش سے اپنی تقدیر کا رخ موڑ سکتا ہے۔
جب انسان خود پر یقین کر لیتا ہے تو دنیا کی رکاوٹیں چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔ یقین وہ چراغ ہے جو اندھیرے راستوں کو روشن کر دیتا ہے۔ مگر یقین بغیر عمل کے محض فریب ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں پورا کرنے کی ہمت بھی پیدا کی جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ قسمت کو الزام دینے کے بجائے اپنی تدبیر کو مضبوط کریں۔ اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اور مسلسل آگے بڑھنے کا عزم کریں۔ کیونکہ زندگی ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو ہار ماننے کے بجائے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
یاد رکھئے! سورج ہر روز غروب ہوتا ہے مگر اگلے دن پھر طلوع بھی ہوتا ہے۔ یہی زندگی کا سبق ہے۔ اندھیرا مستقل نہیں ہوتا، بشرطیکہ انسان روشنی تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ تقدیر انتظار کرنے والوں کو نہیں بلکہ کوشش کرنے والوں کو ملتی ہے۔ جو شخص اپنی تدبیر کو مضبوط کر لیتا ہے، اس کی تقدیر خود اس کا ساتھ دینے لگتی ہے۔ کیونکہ قدرت کا اصول سادہ ہے: قدم بڑھاؤ، راستے بن جائیں گے۔
پس اے انسان! اپنی کمزوریوں کو تقدیر کا نام مت دے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچان، اپنے ارادوں کو جگا، اور اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لے۔ کیونکہ تیری تقدیر آسمان پر نہیں لکھی جا رہی، وہ تیرے فیصلوں، تیرے عمل اور تیری تدبیر میں جنم لے رہی ہے۔
یقین کر۔تری تقدیر واقعی تری تدبیر میں ہے۔