نئی دہلی: کانگریس نے مودی 3.0 حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ایک تفصیلی ’’وعدے بمقابلہ حقیقت‘‘ (Promise vs Reality) رپورٹ جاری کرتے ہوئے مرکز کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت نے بڑے بڑے اعلانات اور دعوے تو کیے، لیکن ان کا عوامی زندگی میں مطلوبہ اثر نظر نہیں آیا۔
کانگریس کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کردہ تقریباً 75 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو پارٹی رہنماؤں راجیو گوڑا اور امیتابھ دوبے نے جاری کیا۔ رپورٹ میں معیشت، روزگار، مہنگائی، تعلیم، زراعت، ایم ایس ایم ای سیکٹر، بنیادی ڈھانچے، خارجہ پالیسی، ماحولیات اور حکمرانی سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
راجیو گوڑا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت نے سرخیوں اور تشہیر پر زیادہ توجہ دی، مگر عام شہریوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چھوٹے و متوسط کاروباروں کو درپیش مشکلات حکومت کے دعوؤں کی نفی کرتی ہیں۔
کانگریس نے اجولا یوجنا کے تحت غریب خاندانوں کو دی جانے والی سبسڈی والی ایل پی جی سلنڈروں کی تعداد میں کمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت نے پہلے 12 سلنڈروں کا وعدہ کیا تھا، جسے پہلے 9 اور اب مزید کم کر کے 4 کر دیا گیا ہے، جس سے غریب خواتین اور خاندان متاثر ہوں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی، نجی شعبے کے اعتماد میں گراوٹ، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل نے اقتصادی ترقی کے حکومتی دعوؤں کو کمزور کیا ہے۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر ایندھن اور ضروری اشیا کی قیمتوں کا اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے راحت فراہم کی جائے۔