یہ کیسا سرینڈر ہے!

از:- شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

امریکی صدر ہندوستان کے باپ نہیں ہیں، لیکن ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اُن کا احترام ایک بیٹے ہی کی طرح کرتے نظر آ رہے ہیں، بھلے ہی ان کے عمل سے سارا ہندوستان اور سارے ہندوستانی ذلیل و خوار ہوں ۔ پی ایم مودی کی ٹرمپ بھکتی کی مثالیں ڈھیر ساری ہیں، لیکن بات تازہ مثال کی ہوگی ۔ دو دن ہوئے امریکہ کے افسران نے ہندوستان کو یہ لائسنس یعنی اجازت نامہ دے دیا ہے کہ اُسے روس سے تیل خریدنے کی تیس دنوں کی مہلت دی جا رہی ہے ۔ بتا دیں کہ اس سے پہلے امریکہ نے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ٹرمپ نے ہندوستان کی حکومت کو دھمکی دے کر روس سے تیل خریدنے سے روک دیا تھا ۔ نہ ہماری پٹرولیم کی وزارت کی ہمت ہوئی کہ وہ ٹرمپ سے سوال کرے کہ تم کون ہوتے ہو ہمیں دھمکانے والے اور ہم پر دباؤ ڈالنے والے کہ ہم روس سے تیل نہ خریدیں اور نہ ہی ہمارے پی ایم مودی کی ہمت ہوئی کہ وہ ٹرمپ کو لال لال آنکھیں دکھا سکیں اور دو ٹوک کہہ سکیں کہ ہم تمہارے کہنے سے روس سے تیل لینا بند نہیں کریں گے ۔ نریندر مودی ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر گیے ۔ اور ذلت کی انتہا تو یہ ہے کہ اب امریکہ کے کہنے پر ہمارا ملک اپنی خارجہ پالیسی چلا رہا ہے ۔ کسی نے کہا ہے، کہ مودی ہندوستان میں یوں کام کر رہے ہیں جیسے وہ امریکہ کے وائسرائے ہیں ۔ اگر ان دنوں ملک کی خارجہ پالیسی کا بغور نہیں سرسری ہی جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ مودی اینڈ کمپنی یعنی مرکزی حکومت امریکہ اور اس را ئیل کے ہاتھوں کھیل رہی ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ٹرمپ اور نیتین یاہو کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے ۔ پتا نہیں یہ ایپسٹین فائل کا خوف ہے یا اڈانی سیٹھ کا دھندا بچانے کی فکر کہ مودی ہر اس بات پر، جو ہمارے ملک کو بیچنے کے مترادف ہے، ٹرمپ کے آگے جھکے جا رہے ہیں ۔ چھپن انچ کا سینہ نہ جانے کتنا دھنس گیا ہے کہ ملک کے کسانوں کے مفادات کا سودا امریکہ سے ڈیل کرکے کر لیا گیا ہے ۔ اور رہا اس را ئیل، تو جس طرح مودی نے ایران پر حملے سے ایک دن قبل وہاں کا دورہ کیا اور یاہو کو ہمت دی، اس نے ساری دنیا میں ہندوستان کی ناوابستہ ساکھ کو برباد کردیا ۔ کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ ایران کے روحانی رہنما خامنہ ای کی شہادت پر مودی کی زبان سے تعزیت کا ایک لفظ تک نہیں نکلا! اور کیا یہ انتہائی افسوس کی بات نہیں کہ ایران کی جس نیوی شپ اور اس کے غیر مسلح عملے کو ہندوستان نے مشقی مہم میں مدعو کیا تھا، اس پر امریکی حملے کے بعد اس کے عملے کو بچانے کی ملک نے کوئی کوشش نہیں کی، ایک لفظ تک مودی کی زبان سے نہیں نکلا! اور کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ ایران میں بچیوں کے اسکول پر حملے اور کم عمر بچیوں کی شہادت پر بھی خاموشی رہی! اور کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ بچوں کی قاتل غاصب ریاست کے فرعون صفت حکمراں کو دلاسہ دیا جا رہا ہے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کو دہرایا جا رہا ہے، اور ایران کی تباہی پر منھ پر تالا ڈال لیا گیا ہے! یہ نریندر مودی کا مکمل سرینڈر ہے، یہ ہندوستان کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے ۔ کل کو اگر امریکہ نے کہہ دیا کہ ہم ایران پر حملہ کے لیے ہندوستان کے ایئر بیس استعمال کریں گے، تو یہ کس منھ سے انکار کریں گے ۔ کیا ایسی حالت میں سارا ملک ایک ان چاہے خطرے میں نہیں پڑ جائے گا؟ مودی جی! آپ مسلمانوں سے نفرت کریں کوئی نہیں روکتا، لیکن اس نفرت کے لیے یاہو اور ٹرمپ جیسے مسلم دشمنوں کے سامنے جھک کر کم از کم ملک اور ملک کے وقار اور اس کے باشندوں کی ساکھ کو تو نہ ملیا میٹ کریں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔