غزل

از:- ذکی طارق بارہ بنکوی «»

وجودِ مشترک میں درد کو تنظیم کر لیتے
سفر کو بانٹ لیتے ہم، تھکن تقسیم کر لیتے

تو خود کو ایک اعلٰی صاحبِ تعلیم کر لیتے
اگر حاصل فقط ہم علمِ رے اور میم کر لیتے

معافی، در گزر کے بعد بھی میری ترے دل میں
جگہ پہلی سی ہے یہ کس طرح تسلیم کر لیتے

درِ امروز کھل جاتا جو ہم پر ایک لمحہ بھی
تو اے اندیشۂ فردا تجھے ترمیم کر لیتے

ہماری تشنگی کو بھی میسر آ ہی جاتی حد
جو تم ساحل پہ آ جاتے تو ہم تنعیم کر لیتے

نہ رہتا فاصلہ کوئی دل و آواز کے مابین
تمہیں محسوس کر لیتے تمہیں تفہیم کر لیتے

اتر جاتے اگر معمول میں اپنے وہ تشنہ لب
تو شاید اپنے حق میں کوثر و تسنیم کر لیتے

نہ وہ ناراض ہوتے اور نہ ہی کوئی ہرج ہوتا
اگر ہم کام کے خاکے میں کچھ ترمیم کر لیتے

تمنا ہے حقیقت میں اگر آ جاتے میرے گھر
تمہارے پاؤں دھو کر پینے سی تعظیم کر لیتے

ہماری زیست کی معراج ہو جاتی جو صاحب آپ
شریکِ زندگی اپنا ہمیں تسلیم کر لیتے

اگر اس خاکدانِ دل کو مل جاتی تری نسبت
ہر اک ذرّے کو ہم آئینۂ تعظیم کر لیتے

وجود اپنا یہ عالمگیر و آفاقی نہ بن جاتا
اگر تخصیص کے افکار کو تعمیم کر لیتے

نہ لب پر لرزشیں ہوتیں نہ آنکھیں کرتیں برساتیں
خدا بخشی طبیعت میں جو ہم ترمیم کر لیتے

کبھی الجھن میں گھرتے تو بھی لہجہ شوخ ہی رہتا
سخن کو جو جمالِ یار کی تجسیم کر لیتے

کچھ ایسا کاش ہو جاتا وجودِ اُو میں ضم ہوکر
سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کر لیتے

نظر آتا نہ پھر کوئی تفاوت اس جہاں بھر میں
اگر ہم حُبّ کو بنیادِ ہر تنظیم کر لیتے

کسی امکان کا در وا تو رہتا دل کے گوشے میں
جو منفی سوچ کی رفتار ہم کچھ دھیم کر لیتے

جو اپنی ذات کا عرفان دے دیتا خدا ہم کو
مسخر اس فقیری سے ہی ہفت اقلیم کر لیتے

«» ایڈیٹر ہفت روزہ "صدائے بسمل” بارہ بنکی

سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔