عالمی یوم القدس : فلسطین سے یکجہتی کا دن

از:- عبدالعلیم الاعظمی

رمضان المبارک کا آخری جمعہ، جس کو برصغیر ہند و پاک میں ’’الوداع جمعہ ‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ، دنیا بھر میں اس دن کو ’’عالم یوم قدس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اہل فلسطین پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے ، فلسطینیوں کے حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں اہل فلسطین سے یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ عالمی یوم القدس کی تاریخی حیثیت بہت زیادہ قدیم نہیں ہے ، ایران میں امام خمینی کے انقلاب کے بعد 1979ء میں امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ’’یوم القدس ‘‘قرار دے کر اس دن اہل فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ۔ دھیرے دھیرے یہ دن ایرانی حمایت یافتہ دیگر شیعی اکثریتی ممالک میں زور و شور سے منایا جانے لگا اور چند ہی سالوں میں یہ دن فلسطین کی حمایت اور ان کے حقوق کے مطالبہ کا ایک عالمی دن قرار دیا گیا ہے ۔ آج یہ دن فلسطین سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں منایا جاتا ہے ۔

عالم یوم القدس کی موجودہ حالات میں کیا معنویت ہے ؟ اور اس کی اہمیت و افادیت کیا ہے ؟ اس کی معنویت اور ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کے لئے فلسطین کے تاریخی پس منظر اور اسرائیل کی جانب سے اہل فلسطین کے خلاف ظلم و ستم سے واقفیت ضروری ہے ۔ اسرائیلی قبضہ ؛ بلکہ سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد ہی سے اہل فلسطین پر ظلم وستم کیا جارہا ہے ۔ ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ قیام اسرائیل کے بعد ایک منظم طریقے سے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے نکال کر اسرائیلی کالونیاں بنانے کا کام شروع ہوا ، جو کہ ہنوز جاری ہے ۔ اہل فلسطین سفارتی طریقے سے ناکام ہونے اور دنیا بھر کے اداروں اور تنظیموں کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل پناہ گزینی کی وجہ سے مزاحمت پر مجبور ہوئے تو اسرائیلی ظلم وستم میں مزید اضافہ ہوگیا ۔

1988سے 2008 تک اہل فلسطین خاص طور پر غزہ کے لوگوں کو بد ترین ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا ، اس دوران دو مرتبہ عوامی غصے کی شکل میں انتفاضہ پھوٹ پڑا ۔ 2008 سے اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کئے ہوئے ہے ۔ غزہ کو دنیا سے بالکل الگ تہلگ کردیا گیا ہے حتی کہ بنیادی انسانی ضروریات کی چیزیں بھی غزہ میں اسرائیل کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتی ہیں اور اس سلسلے میں فلسطین کے پڑوسی ملک مصر کا اسرائیل کے ساتھ مکمل تعاون رہا ہے ۔ غزہ پر اسرائیلی حصار کی وجہ سے آج غزہ دنیا کے سب سے بڑے جیل کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں ، جن کو بغیر کسی جرم اور ٹرائل کے قید کیا گیا ہے اور ان جیلوں میں حکومتی سرپرستی میں بدترین قسم کے مظالم کئے جاتے ہیں ۔ ان تمام ظلم وستم اور اس پر عالمی اداروں کی رپورٹس کے باوجود نام نہاد عالمی ادراے ، عدالتیں اور حقوق انسانی کے علمبردار مسلسل خاموش رہے ہیں ؛ بلکہ ان اداروں نے ہمیشہ اسرائیل کی پشت پناہی کی ہے ۔ایک طرف عالمی اداروں کا یہ حال ہے تو دوسری عالم اسلام خاص طور سے عالم عرب مسلسل مسئلہ فلسطین سے کنارہ کش ہورہا ہے ۔ حالاں کہ فلسطین ایک عرب سرزمین ہے اور یہ ہمیشہ سے عربوں کے لئے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ رہا ہے، عربوں نے اس کے لئے کئی جنگیں بھی لڑی ہیں ۔ لیکن آج کے عرب ممالک مسئلہ فلسطین سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں ؛ بلکہ کئی عرب ممالک نے تو اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم کرلیا ہے ۔ 7؍اکتوبر ،2023ء کے انقلاب ’’طوفان الاقصی ‘‘ کا بھی ایک اہم سبب یہی تھا کہ خطے کے عرب ممالک مسئلہ فلسطین سے دست بردار ہوکر بہت تیزی سے اسرائیلی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ ان حالات میں جب مسئلہ فلسطین پر سرد مہری اختیار کی جارہی ہے ، فلسطینیوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھنا بند ہونے لگی ہے ، اس صورت حال میں ’’عالمی یوم قدس ‘‘ کی اہمیت و افادیت اور ضرورت مزید دو بالا ہوجاتی ہے ۔ کم از کم سال بھر میں ایک ایسا موقع آتا ہے کہ جب اہل فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی جائے ۔ ان کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا جائے اور مسئلہ فلسطین کو زندہ کیا جائے ؛ اسی لئے پوری دنیا میں یہ دن پوری تیاری اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جانا چایئے ۔

گزشتہ تین سالوں سے عالمی یوم قدس فلسطین میں مشکل ترین حالات میں منایا جارہا ہے ۔ سال گزشتہ یوم القدس ؛ بلکہ رمضان کے دوران غزہ پر اسرائیل کی بدترین جارحیت و نسل کشی جاری تھی ۔اس 7/اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں ، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ گزشتہ سال 9/ اکتوبر 2025ء کو اگرچہ جنگ بندی ہوگئی ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے، اہل غزہ آج بھی انہیں مصائب و مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، غذائی قلت، علاج و معالجہ کی عدم سہولت؛ غرض کہ زندگی گزارنے کے لیے بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہیں۔ آج بھی غزہ محاصرہ کیا گیا ہے ، بیچ میں رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر کھولا گیا تھا، لیکن حالیہ اسرائیل ایران جنگ کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر رفح کراسنگ کو بند کردیا گیا ہے۔ اسرائیل بہت ہی محدود پیمانے پر انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے پر رونق مہینے میں اہلیان غزہ کو اس طرح کی مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان حالات میں عالمی یوم قدس کی اہمیت و افادیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ اس دن پوری دنیا میں اہل فلسطین کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا جائے ۔ اسرائیلی مظالم ، نسل کشی اور سفاکیت کے خلاف احتجاج کیا جائے ۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنا چاھئے ۔ یہ دن ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور عالم اسلام کی قد آور شخصیات سے مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں سنجیدہ ہونے اور اہل فلسطین کی ہر ممکن مدد کرنے کا مطالبہ کریں ۔ اس دن کا تقاضا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مسئلہ فلسطین کی حساسیت سے واقف کرائیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔