از:- محمد عادل ارریاوی
_____________________
نذر ایک قدیم عبادت ہے اور یہ اسلام سے پہلے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے زمانہ سے جاری ہے۔ اللہ ربّ العزت کی آخری کتاب قرآن مجید میں اس کے بارے میں متعدد آیات نازل ہوئی ہیں، اور دین اسلام میں بھی اس کے متعلق بہت سے احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم نذر کا معاملہ روز مرہ پیش آنے والا نہیں ہوتا، بلکہ یہ کبھی کبھار پیش آتا ہے۔
نذر کا لغوی معنی ہے وعدہ کرنا، خواہ وہ کسی خیر (بھلائی) کا ہو یا شر (برائی) کا۔ اردو زبان میں نذر کو منت ماننا۔ کہا جاتا ہے۔ جبکہ نذر کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ ربّ العزت کی تعظیم اور رضا کے لیے زبانی الفاظ کے ساتھ کسی جائز کام کو اپنے اوپر لازم اور واجب کر لے حالانکہ وہ کام اس پر پہلے سے واجب نہ تھا۔
بعض اہلِ علم نے نذر کی تعریف اس طرح بیان کی ہے کہ انسان کسی خاص بات یا واقعہ کے پیش آنے کی صورت میں اپنے اوپر کسی ایسے عمل یا کام کو لازم کر لے جو اس پر پہلے لازم نہیں تھا۔ یعنی کسی شرط کے ساتھ اپنے اوپر عبادت یا نیکی کو واجب کرنا۔
نذر کے احکام میں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ نذر کا دار و مدار ظاہری الفاظ پر ہوتا ہے، نیت پر نہیں ہوتا۔ یعنی جو الفاظ انسان زبان سے ادا کرتا ہے، شریعت میں انہی کا اعتبار کیا جاتا ہے، نہ کہ دل میں چھپی ہوئی نیت کا۔ اس لیے اگر نذر کے الفاظ مطلق (بغیر کسی شرط کے) ہوں، اور دل میں کوئی قید یا شرط رکھی گئی ہو، تو اس نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر الفاظ میں کوئی قید یا شرط موجود ہو، لیکن نیت میں وہ قید نہ ہو بلکہ نیت مطلق ہو، تو بھی الفاظ کی قید ہی معتبر ہوگی اور نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
اس کی وضاحت ایک مثال سے یوں کی جا سکتی ہے کہ اگر کسی شخص نے کہا اگر مجھے فلاں چیز مل گئی تو میں اتنی رقم خیرات کروں گا لیکن اس کے دل میں یہ نیت تھی کہ اگر وہ چیز صحیح حالت میں ملی تو میں خیرات کروں گا۔ مگر اس نے اپنی بات میں اس شرط کو ظاہر نہیں کیا، تو اب حکم یہ ہوگا کہ جیسے ہی وہ چیز اسے مل جائے گی، اس پر خیرات کرنا لازم ہو جائے گا، چاہے وہ چیز صحیح ہو یا خراب۔ اس لیے کہ اس نے زبان سے مطلق الفاظ کہے تھے، اور شریعت میں انہی الفاظ کا اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کی اندرونی نیت کا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص الفاظ میں شرط ذکر کر دے تو وہی شرط معتبر ہوگی، خواہ اس کے دل میں کچھ اور نیت کیوں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کے معاملے میں انسان کو بہت احتیاط سے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، کیونکہ بعد میں اسی کے مطابق اس پر حکم لازم ہوگا۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین۔