انصاف کے دوہرے معیار پر ملک بھر میں نئی بحث
نئی دہلی: ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ اور عصمت دری کے مقدمات میں سزا یافتہ گرومیت رام رحیم سنگھ کو ایک بار پھر 30 دن کی پیرول مل گئی ہے۔ وہ منگل کے روز روہتک جیل سے رہا ہوگئے اور 24 جون تک پیرول پر رہیں گے۔ سزا کے بعد یہ ان کی 16ویں پیرول بتائی جارہی ہے، جس کے بعد ملک میں عدالتی نظام اور انصاف کے دوہرے معیار پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
رام رحیم کو 2017 میں دو خواتین سے عصمت دری کے مقدمات میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں صحافی رام چندر چھترپتی قتل کیس میں بھی انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود انہیں بار بار پیرول اور فرلو دیے جانے پر اپوزیشن جماعتیں اور سماجی کارکن مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب دہلی فساد سازش کیس میں گرفتار طلبہ رہنما عمر خالد اور شرجیل امام گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں بند ہیں، جبکہ ان کے مقدمات کا ٹرائل ابھی تک مکمل طور پر شروع نہیں ہوسکا ہے۔ دونوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ سماعت میں ان کی ضمانت سے متعلق قانونی نکات کو بڑی بنچ کے سپرد کردیا، جس کے بعد ان کی فوری رہائی کی امیدیں مزید کمزور ہوگئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس صورتحال کو انصاف کے غیر مساوی رویے کی مثال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں سزا یافتہ ایک شخص کو بار بار پیرول دی جارہی ہے، جبکہ ایسے افراد جو ابھی تک عدالت سے مجرم قرار نہیں دیے گئے، برسوں سے بغیر ٹرائل جیل میں ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “پری ٹرائل قید سزا میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے، مگر موجودہ حالات یہی ظاہر کررہے ہیں۔” انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “ایک شخص جیل سے بار بار چھٹیاں حاصل کررہا ہے اور دوسرا مقدمہ شروع ہونے کے انتظار میں برسوں سے قید ہے۔”
سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے اور حکومت و عدالتی نظام دونوں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آیا ملک میں انصاف سب کے لیے یکساں ہے یا نہیں۔