اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم امن مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً 14 گھنٹے تک جاری رہے اور یہ 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی براہِ راست بات چیت کا ایک اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
مذاکرات کا مرکزی موضوع خلیج میں کشیدگی کا خاتمہ اور چھ ہفتوں سے جاری جنگ کو روکنا ہے، جس نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں آمد و رفت سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے بڑا اختلاف آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اس میں جہاز رانی کی آزادی کے معاملے پر ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اس میں بلا رکاوٹ عالمی آمد و رفت کی ضمانت مانگ رہا ہے۔
ایرانی وفد نے مذاکرات میں اپنے مطالبات بھی پیش کیے ہیں، جن میں منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور خطے میں مکمل جنگ بندی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر زور دے رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کو صاف کرنے اور وہاں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے اقدامات کر رہی ہیں، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
مذاکرات میں کچھ پیش رفت کے باوجود حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید دور کی بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سطح پر خاصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور انہیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔