حقیقت پسندی نہ کہ روشن خیالی !

از:- محمد قمر الزماں ندوی

دگھی، گڈا۔ (جھارکھنڈ)

انسان کی زندگی کا اصل مقصد محض دنیا کی آسائشیں حاصل کرنا اور ظاہری ترقی کے پیچھے دوڑنا نہیں، بلکہ اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنا اور آخرت کی دائمی کامیابی کو یقینی بنانا ہے۔ مومن کی زندگی دراصل "رب چاہی زندگی” ہوتی ہے، یعنی وہ اپنی خواہشات، ترجیحات اور فیصلوں کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا اپنی تمام تر چمک دمک، رونق و زیبائش اور ظاہری کشش کے باوجود عارضی اور فنا ہونے والی ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی حقیقت ہے۔

قرآن مجید نے دنیا کو دھوکے کا سامان قرار دیا ہے، اس لیے ایک سچا مومن دنیا کے سراب میں کھو جانے کے بجائے حقیقت کو پہچانتا ہے اور اپنی نگاہ آخرت کی کامیابی پر مرکوز رکھتا ہے۔ افسوس کہ آج کا انسان مادہ پرستی، دنیا طلبی اور ظاہری کامیابیوں کے فریب میں اس قدر مبتلا ہوچکا ہے کہ آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے دور ہوتا جارہا ہے، بلکہ خدا فراموش اور آخرت کا منکر بنتا جا رہا ہے، شکوک و شبہات کے سائے میں زندگی گزارنا شروع کر دیا ہے،۔ حالانکہ مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ سمجھتا ہے اور ہر لمحہ آخرت کے لیے توشۂ عمل جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ خدا کی ذات پر بھر پور یقین رکھتا ہے اور اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے، پوری دنیا اسی کے حکم کے تابع ہے ذلت و پستی اور تنزلی و انحطاط اور عروج و اقبال ترقی و بلندی عطا کرنا یہ سب اسی کے قبضے میں ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کے ظاہری جلوؤں اور اہلِ دنیا کی چکاچوند سے مرعوب ہونے کے بجائے حقیقت کو سامنے رکھیں، احساسِ کمتری اور مرعوبیت سے بچیں، اور اللہ رب العالمین کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں۔ یہی طرزِ فکر مومن کو حقیقی کامیابی، قلبی اطمینان اور ابدی فلاح سے ہم کنار کرسکتا ہے۔

نیچے ہم ایک مستفاد قیمتی تحریر پیش کر رہے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ آج کا انسان کس قدر بدل چکا ہے، اور کس طرح وہ حقیقت کو چھوڑ کر سراب کی طرف دوڑ رہا ہے اور کس طرح معاد کی فکر سے بے پرواہ ہوکر دنیا طلبی میں مشغول ہے اور اسی کو وہ اپنی ارتقاء اور عروج سمجھ رہا ہے اور اصل زندگی اور اس کے تقاضے سے غفلت برت رہا ہے ۔

ذیل کی یہ تحریر اختلافِ رائے رکھنے والوں کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کے اُس اندرونی خلا کو مخاطب کرنے کے لیے ہے, جسے نہ شور بھر سکا، نہ آزادی، نہ انکار یہ تحریر اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے دل کے چراغ بجھا دیے، پھر تاریکی کو “روشن خیالی” کا نام دے کر اس پر فخر کرنے لگے۔ وہ لوگ جو کبھی اذان کی صدا پر چونک اٹھتے تھے، آج اسی صدا کو شور سمجھنے لگے ہیں۔ جن پیشانیوں نے کبھی سجدوں کی ٹھنڈک محسوس کی تھی، آج وہی پیشانیاں اپنی عقل کے غرور میں آسمان سے بلند ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، حالانکہ انسان جب خدا سے بلند ہونے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت اپنے ہی وجود سے گر جاتا ہے۔

ایمان سے دوری ہمیشہ دلیل کی وجہ سے نہیں ہوتی؛ اکثر یہ خواہشات کی اس آندھی سے جنم لیتی ہے جو انسان کو نفس کی غلامی میں دھکیل دیتی ہے۔ جب دل گناہ سے مانوس ہو جائے تو پھر حق کی آواز کانوں پر نہیں، انا کی دیواروں پر پڑتی ہے۔ پھر انسان دلیل نہیں ڈھونڈتا، بہانے تلاش کرتا ہے۔ وہ حقیقت کی جستجو نہیں کرتا بلکہ اپنی خواہشات کے لیے فکری جواز تراشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دین کو نہیں چھوڑتے، بلکہ دراصل دین کی پابندیوں سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ خدا کے وجود کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ اُنہیں یقین ہو گیا کہ خدا نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کوئی حساب لینے والا نہ ہو، کوئی “حرام” کہنے والا نہ ہو۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بعض لوگ دین کے نام پر فرقہ واریت، شدت، جہالت یا انسانوں کے رویوں کو دیکھ کر اسلام کی اصل روح ہی سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ کسی مسلمان کا کردار اسلام نہیں ہوتا، جس طرح کسی بیمار ڈاکٹر کی غلطی طب کے علم کو باطل نہیں کر دیتی۔ اگر چند لوگوں نے دین کو تنگ نظری، نفرت یا تعصب کا لبادہ پہنا دیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وحی کی روشنی ہی بجھ گئی۔ سچائی افراد کے رویوں سے بڑی ہوتی ہے لوگ انسانوں کی غلطیوں کی وجہ سے خدا کو چھوڑ دیتے ہیں، مگر انسانوں کی ہی بنائی ہوئی نظریات اور نظاموں کی ہزار خرابیوں کے باوجود اُن پر ایمان رکھتے ہیں اسلام کسی فرقے کا نام نہیں، وہ تو انسان اور اُس کے رب کے درمیان وہ تعلق ہے جو ٹوٹ جائے تو روح اندر ہی اندر بکھرنے لگتی ہے۔
عجیب بات ہے کہ انسان پوری کائنات میں نظم دیکھتا ہے مگر خالق کے تصور پر ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ سورج کی گردش اُسے قانون لگتی ہے، جسم کا نظام اُسے حکمت دکھائی دیتا ہے، مگر اپنی ہی روح کی پکار اُس کے لیے ایک خاموش اتفاق بن جاتی ہے۔ آخر یہ عقل، یہ شعور، یہ محبت، یہ خوف، یہ جمال کا احساس—یہ سب کہاں سے آیا؟ کیا مٹی نے خود سوچنا سیکھ لیا؟ کیا اندھی قوتوں نے انسان کے دل میں ابدیت کی تڑپ رکھ دی؟ اگر زندگی صرف چند سانسوں کا کھیل ہے تو پھر انسان قبر کے تصور سے لرزتا کیوں ہے؟ موت کا نام سنتے ہی دل کے اندر ایک انجانی وحشت کیوں جاگ اٹھتی ہے؟ اس لیے کہ روح اپنے انجام کو جانتی ہے، خواہ زبان انکار کرتی رہے۔

ایکس مسلم حضرات آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ آزادی آخر ہے کیا؟ اگر آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، حیا کو فرسودہ خیال کرے، نفس کی ہر پکار کو حق سمجھ لے اور ہر حد کو ظلم قرار دے دے، تو پھر یہ آزادی نہیں، نفس کی بدترین آمریت ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو معبود بنا لے، وہ بظاہر آزاد ہو کر بھی اندر سے زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر لذت وقتی ہے، مگر روح کی پیاس ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اسی لیے بے شمار لوگ بظاہر “آزاد” ہونے کے باوجود اندر سے خالی، بے چین اور منتشر رہتے ہیں۔

الحاد اور سابقہ مذہبی شناخت رکھنے والے منکر میں ایک فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ایک پیدائشی ملحد اکثر دین کو ایک فکری اختلاف کے طور پر دیکھتا ہے، مگر بہت سے وہ لوگ جو دین چھوڑتے ہیں، اُن کے لہجے میں عجیب قسم کی تلخی، تمسخر اور انتقام در آتا ہے۔ کیونکہ وہ صرف ایک نظریہ نہیں چھوڑ رہے ہوتے، وہ اپنے ماضی، اپنی شناخت اور اپنے ضمیر سے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ یہی اندرونی اضطراب اکثر اُنہیں شائستگی سے دور اور تمسخر کے قریب لے جاتا ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ دین کو “عدم برداشت” کا طعنہ دیتے ہیں، اُن میں سے بعض خود ہر دینی شخص کا مذاق اڑانے کو روشن خیالی سمجھتے ہیں حالانکہ حق کا معیار بلند آواز نہیں، مضبوط دلیل اور پاکیزہ کردار ہوتا ہے۔
انسان جتنا بھی بھاگ لے، آخرکار اُسے مٹی کے حوالے ہونا ہے۔ وہ عقل جس پر آج غرور ہے، کل بڑھاپے کے ہاتھوں کمزور ہو جائے گی۔ وہ زبان جو آج خدا کے انکار میں دلائل تراش رہی ہے، ایک دن خاموش ہو جائے گی۔ وہ جسم جس کی خواہشات کے لیے انسان نے اپنی آخرت بیچ دی، چند گز کفن میں لپیٹ کر زمین کے سپرد کر دیا جائے گا۔ پھر نہ فلسفہ ساتھ دے گا، نہ انا، نہ خواہشات۔ وہاں صرف اعمال ہوں گے اور وہ رب ہوگا جسے دنیا میں جھٹلایا جاتا رہا۔

ابھی بھی وقت ہے۔ دل کے بند دروازے پر دستک دو۔ اپنے اندر کے شور سے نکل کر اُس خاموش آواز کو سنو جو ہر رات تنہائی میں تمہیں پکارتی ہے۔ تم حادثہ نہیں ہو، تم تخلیق ہو۔ تمہاری روح محض کیمیائی عمل نہیں، وہ ایک امانت ہے۔ اور ہر امانت ایک دن اپنے مالک کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وقت کی آخری شام اُتر آئے، اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ۔ کیونکہ سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ انسان دنیا ہار جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے دور ہو کر خود کو ہی کھو دے۔
کٹی ہوئی پتنگ کو لگتا ہے کہ وہ آزاد ہو گئی ہے، مگر حقیقت میں وہ ہواؤں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اور اس کا انجام کسی خاردار جھاڑی یا گندگی کا ڈھیر ہوتا ہے۔ حقیقی آزادی اڑنے میں نہیں، بلکہ اپنی ڈور (مرکز) سے جڑے رہنے میں ہے۔

"کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔” (سورہ الزمر: 53)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔