از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور سختی کے باوجود کارِ طفلاں تمام ہوتا جا رہا ہے، اس صورتِ حال کی وجہ سے گارجین بڑی تیزی سے پرائیویٹ اسکولوں اور کنونٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں، اب سرکاری اسکولوں میں وہی طلبہ بچ گئے ہیں، جو غریب ہیں اور پرائیویٹ اسکولوں اور کنونٹ میں داخلہ کے وقت خطیر رقم ڈونیشن (عطیہ) کے طور پر نہیں دے سکتے یا ان کے لیے ماہانہ فیس کی ادائیگی دشوار ہوا کرتی ہے، بیوروکریٹ، سرکاری افسران، وزراء، ایم ایل اے، ایم ایل سی، ایم پی اور راجیہ سبھا کے ارکان اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں پڑھاتے، کیوں کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہاں تعلیم کے نام پر وقت گزاری ہوتی ہے، ایک ایک کمرے میں کئی کلاس کے بچے بیٹھا دیے جاتے ہیں، بڑی تعداد میں اسکولوں کے پاس اپنی زمین اور عمارت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں عمارت والے اسکولوں میں ضم کر دیا گیا ہے، اردو اسکولوں کا وجود خطرے میں ہے، کئی تو ہندی اسکولوں میں ملا دیے گئے اور کئی میں ہندی اساتذہ کی اس طرح تقرری کر دی گئی ہے کہ اس کو اردو اسکول کہنا ہی غلط ہو گیا ہے، گزشتہ دس سالوں کی رپورٹ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد اسکول ملکی سطح پر یا تو بند ہو گئے یا دوسرے اسکول میں ضم ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھے، مرکزی وزارتِ تعلیم نے یوڈائس 2025-2026 جاری کی ہے، اس کے قبل 2023-2024 کی بھی رپورٹ آئی تھی، اس کے مطابق سرکاری اسکولوں میں چھیاسی (86) لاکھ طلبہ و طالبات کی کمی درج کی گئی ہے، جب کہ اس کے مطابق پرائیویٹ اور نجی تعلیمی اداروں میں اس درمیان اٹھاسی لاکھ نئے طلبہ و طالبات نے داخلہ لیا ہے، اس کی وجہ سرکاری تعلیمی اداروں سے طلبہ اور گارجین حضرات کی بے اعتمادی ہے، اس حقیقت کو نجی تعلیمی ادارے والے خوب سمجھتے ہیں، بہار میں رہبر کوچنگ آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو مفت کوچنگ فراہم کرتی ہے، اس کی کارکردگی اچھی ہے، جناب شکیل احمد اور انعام خان صاحب بہار میں اس کے ذمہ دار ہیں، یہ کوچنگ غریب طلبہ کے لیے ہے، ان کے یہاں غربت کا پیمانہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی لڑکا سرکاری اسکول کا طالب علم ہو، میں نے اوپر ہی ذکر کیا کہ سرکاری اسکولوں میں غریبوں، مزدوروں اور پس ماندہ طبقات کے بچے ہی زیادہ پڑھتے ہیں، مڈ ڈے میل وغیرہ کی سہولت سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار میں کمی کی بڑی وجہ اساتذہ کا خود یا سرکاری حکم کے مطابق غیر تدریسی کاموں میں لگنا ہے، سرکاری پالیسی کی وجہ سے اساتذہ کی تعداد اسکولوں میں کم نہیں ہے، حاضری کا یہ رہا تناسب بھی پہلے سے بہتر ہے، لیکن پڑھنے پڑھانے کا مزاج نہیں ہے، میرا اپنا تجربہ تو یہی ہے کہ جب چار اساتذہ ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو تنخواہ کی ادائیگی، انکریمنٹ، حاضری میں، کس سختی وغیرہ ہی موضوع گفتگو رہتا ہے، کبھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ ان کی گفتگو کا موضوع تعلیمی ترقی اور اس کی منصوبہ بندی ہو، حالاں کہ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ پرائمری اور مڈل درجات میں اب پہلے کی طرح ڈراپ آؤٹ اور تعلیم چھوڑنے کا مزاج نہیں ہے، پرائمری میں یہ تناسب صرف 3.5 فی صد ہے، البتہ ثانویہ میں اس میں اضافہ ہو جاتا ہے جو ان دنوں 11.5 ہے، اس کی وجہ بھی غربت ہے کہ بچے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے ہیں اور فکر معاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ان کی پشت پناہی کرنے والا یا تو کوئی نہیں ہوتا ہے یا ہے تو اس لائق نہیں ہوتا، گارجین حضرات کے ذہن میں یہ بات پختہ ہوگئی ہے کہ آدھی روٹی کھائیں گے، بچوں کو پڑھائیں گے، یا یہ کہ جو پڑھے گا وہ بڑھے گا اور جتنا پڑھے گا اتنا بڑھے گا، جب پڑھے گا، تب بڑھے گا جیسے نعروں نے اثر دکھایا ہے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے پرائمری اور مڈل سطح پر کم از کم سرکاری اسکولوں کو ناکافی سمجھا جا رہا ہے، سرکار کا تعلیم پر کروڑوں، بلکہ اربوں کا خرچ ہے، مگر اس کا فائدہ پورے طور پر پہونچ نہیں رہا ہے، وجہ چاہے جو ہو، ہمیں بچوں کی تعلیمی نشوونما کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر منصوبہ بندی کرنی ہوگی، ہم جہاں اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے رہتے ہیں، وہیں اپنے فرائض کے سلسلے میں بھی حساس ہونا ہوگا، سماجیات والے کہتے ہیں کہ حقوق و فرائض میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔