کلیرین انڈیا: کیا ایک اور چراغ بجھنے والا ہے؟

از:- محمد عَلَمُ اللہ، لندن

آج دل بہت بوجھل ہے۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان صرف بیان نہیں کرتا، بلکہ اپنے سینے میں خنجر اترنے جیسا محسوس کرتا ہے۔ کلیرین انڈیا کے مالی بحران کی خبر بھی ایسی ہی ایک خبر ہے۔ اس وقت رات کے تین بج رہے ہیں۔ میں سفر میں ہوں، لیکن پھر بھی یہ لکھ رہا ہوں، کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ اگر فوری تعاون نہ ملا تو شاید آئندہ ماہ سے یہ ادارہ بھی اپنی خدمات جاری نہ رکھ سکے گا۔ بہتوں کے لیے یہ اطلاع شاید معمولی ہو، مگر میرے لیے اس نے دل میں نہ جانے کتنے سوال، کتنی یادیں اور کتنی بے بسی جگا دی۔

یہ صرف ایک ویب سائٹ کے بند ہونے کا خطرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی آواز کے خاموش ہونے کا اندیشہ ہے جو برسوں سے ان لوگوں کے لیے بولتی رہی، جن کی آواز اکثر شور میں دب جاتی ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم، جس نے وسائل کی فراوانی نہیں دیکھی، مگر ذمہ داری کا بوجھ ضرور اٹھایا۔ جس نے آسان راستہ نہیں چنا، بلکہ مشکل راستے پر چلنے کی ہمت کی۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہر چند ماہ بعد ایک نئی افسوس ناک خبر سننے کو ملتی ہے۔ پہلے ملی گزٹ خاموش ہوا، پھر سہ روزہ دعوت کا سفر رکا، اس کے بعد ہفت روزہ ہندی کانتی کا چراغ گل ہوا، اور اب کلیرین انڈیا بھی گویا آخری سانسیں گن رہا ہے۔ کبھی سوچتا ہوں، آخر کب تک؟ کیا ہماری قسمت میں صرف اپنی آوازوں کے جنازے اٹھانا ہی لکھ دیا گیا ہے؟ کیا ہم ہر بار صرف تعزیتی کلمات لکھنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ کیا ہم صرف یہ کہتے رہیں گے: "افسوس، ایک اور ادارہ بند ہوگیا”، اور پھر اگلی خبر کا انتظار کریں گے؟

سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں کہ ایک ادارہ بند ہو رہا ہے؛ سب سے زیادہ غم اس بات کا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اس منظر کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کسی آواز کا خاموش ہو جانا ہمیں چند لمحوں کے لیے افسردہ تو کرتا ہے، مگر جھنجھوڑتا نہیں۔ کسی کے دل میں یہ سوال نہیں اٹھتا کہ اگر ہماری اپنی آوازیں ایک ایک کرکے دم توڑتی رہیں تو کل ہم اپنی بات کس کے ذریعے دنیا تک پہنچائیں گے؟ کیا ہم دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے پھریں گے؟ کیا ہم ان سے امید رکھیں گے کہ وہ ہمارے دکھ، ہمارے زخم اور ہماری کہانی اسی درد کے ساتھ بیان کریں گے، جس درد کے ساتھ ہم خود کر سکتے ہیں؟

ہم برسوں سے ایک بات دہراتے آئے ہیں کہ دوسروں کے ہتھیار سے اپنی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ مگر افسوس، ہم نے اس جملے کو صرف تقریروں کی زینت بنا دیا۔ ہم اپنی زبان سے تو آسمان سے تارے توڑ لانے کے نعرے لگاتے ہیں، مگر جب اپنی آواز کو زندہ رکھنے کی باری آتی ہے تو ہماری جیبیں بند ہو جاتی ہیں، ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں، اور ہماری ذمہ داریاں کسی اور کے کندھوں پر منتقل ہو جاتی ہیں۔

کلیرین انڈیا کے بند ہونے پر یقیناً ہزاروں لوگ افسوس کریں گے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی جملے لکھے جائیں گے، افسوس کے ایموجی بھیج دیے جائیں گے، چند دن اس کا ذکر ہوگا، پھر سب خاموش ہو جائے گا۔ لیکن کیا صرف افسوس کافی ہے؟ کیا آنسو کسی ادارے کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں؟ کیا افسردگی صحافیوں کے گھروں کے چولہے جلا سکتی ہے؟ کیا جذبات بجلی کے بل ادا کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری کا کون سا حصہ ادا کیا؟

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کروڑوں میں ہے۔ اگر لاکھوں لوگ صرف معمولی سا تعاون بھی مستقل طور پر کریں تو نہ صرف ایک، بلکہ درجنوں مضبوط، باوقار اور آزاد میڈیا ادارے کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔ مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ شعور کا ہے۔ مسئلہ غربت کا نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آواز پوری دنیا میں سنی جائے، لوگ محنت سے کام کریں، ہمارے اوپر پڑنے والے چھینٹوں کا جواب دیں، مگر اس آواز کو زندہ رکھنے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

اور شاید ہمیں کبھی یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ایک خبر کے پیچھے کتنی راتیں جاگتی ہیں، کتنی آنکھیں کمپیوٹر کی اسکرین پر تھک جاتی ہیں، کتنے لوگ اپنے بچوں کا وقت قربان کرتے ہیں، اپنی نیند، اپنی صحت اور اپنا سکون قربان کرتے ہیں۔ سفر ہو یا حضر، کچھ دیوانے بلا تھکے کام کرتے رہتے ہیں تاکہ صبح جب دنیا موبائل کھولے تو اس کے سامنے ایک خبر موجود ہو، جسے دنیا نے نظر انداز کر دیا تھا؛ ایک تجزیہ موجود ہو، جو آپ کو راستی کا سراغ دے؛ اور ایک سچی آواز موجود ہو، جو جھوٹوں کو شرمسار کر دے۔ کوئی رپورٹر دھوپ میں کھڑا ہوتا ہے، کوئی ایڈیٹر رات کے آخری پہر تک الفاظ سنوارتا ہے، کوئی مترجم ایک ایک لفظ کے لیے گھنٹوں ماتھا پیچی کرتا ہے، کوئی خاموشی سے پوری ٹیم کو سنبھالتا ہے۔ اور یہ سب اکثر ایسی تنخواہوں پر، بلکہ کئی بار بلا معاوضہ، کام کرتے ہیں، جن پر شاید بہت سے لوگ ایک ہفتہ بھی گزارنے پر آمادہ نہ ہوں۔

پھر بھی وہ یہ سب کرتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل دورِ انحراف بدلے گا اور سچائی کو لوگ سنیں گے۔ انہیں ایک امید ہوتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک ایسا معاشرہ موجود ہے جو ان کی محنت کی قدر کرے گا، جو انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن جب ایسے ادارے مالی بحران کا اعلان کرتے ہیں تو دل یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ شاید ہم نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا، جنہوں نے کبھی ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔

دنیا کی دوسری قوموں کو دیکھیے۔ وہ ہر روز نئے اخبارات، نئے میڈیا پلیٹ فارم اور نئی آوازیں پیدا کر رہی ہیں۔ وہ اپنی فکری جنگ کو مضبوط سے مضبوط تر بنا رہی ہیں۔ اور ہم؟ ہم اپنی پرانی، معتبر اور قابلِ اعتماد آوازوں کو بھی بچانے میں ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک ادارے کی ناکامی نہیں، یہ ہم سب کی اجتماعی ناکامی ہے۔

کلیرین انڈیا سے ایک جذباتی وابستگی رکھنے والے ہزاروں لوگوں کی طرح میں بھی یہ خبر سن کر خاموش ہوگیا۔ دل نے یہی کہا: "بند نہیں ہونے دیں گے… مگر کب تک؟” کاش! ہمیں ایک بار پھر اپنی کسی آواز کے لیے تعزیتی نوٹ نہ لکھنا پڑتا۔

اب بھی وقت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی آوازوں کو سہارا نہ دیا تو کل، جب ہماری خاموشی کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا، تب پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کلیرین انڈیا کے ذمہ داران، مدیران، صحافیوں اور کارکنوں کی محنت کو قبول فرمائے، ان کی مشکلات آسان فرمائے، اس ادارے کو بقا عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔