مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی تیسری موت : ایک قرآنی و تہذیبی تجزیہ

از:- مفتی محمد اطہر شمسی

ڈائریکٹر ، القرآن اکیڈمی کیرانہ

ایک صاحب علم کی وفات کا مطلب کیا ہوتا ہے ۔ کیا اس کا مطلب محض دل کی دھڑکن بند ہو جانا اور اس کی زندگی کا ختم ہو جانا ہوتا ہے یا یہ پھر یہ واقعہ خود کسی تہذیبِ کا امتحان ہوتا ہے ۔میرے نزدیک کسی بڑے عالم کی وفات دراصل ان تمام لوگوں کا امتحان ہوتی ہے جنہیں وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔

ہمارے یہاں جب بھی کسی صاحب علم کی وفات ہوتی ہے تو تمام بیانیہ اس کے فضائل ، محاسن اور خوبیوں کے بیان پر مرکوز ہوتا ہے ۔ قرآن کا نقطہ نظر کسی عالم کی موت کو محض ایک شخص کی وفات کے طور پر نہیں دیکھتا ۔قرآن میں ارشاد ہے:

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ…﴾
"ہم نے اس امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا…” (الأحزاب: 72)

امانت محض مال اور وسائل تک محدود نہیں ۔ علم ، اخلاق ، کردار ، وحی ،رہنمائی ، فکر و نظر تمام چیزیں امانت میں شامل ہیں ۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو علم کسی شخص کی ملکیت نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری نظر آتا ہے جسے ایک نسل کو دوسری نسل تک منتقل کرنا انسانی فرض ہے ۔ جو امانت دوسری نسلوں تک منتقل نہ ہو وہ محض ایک شخصی ملکیت ہوئی جو مرنے والے کے ساتھ دفن ہو گئی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن جب انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرتا ہے تو وہ محض ان کی زندگی نہیں سناتا بلکہ ان کی ہدایت اور فکر و نظر کی منتقلی کو اصل موضوع بناتا ہے ۔ چنانچہ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اس طرح نقل کی گئی ہے:

﴿فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا ۝ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾
"اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آلِ یعقوب کی ذمہ داریوں کا بھی وارث ہو۔” (مریم: 5–6)

یہ دعا محض خاندانی وراثت کی دعا نہیں تھی بلکہ ایسے افراد کی درخواست تھی جو انبیاء کی علمی ، فکری، نظری اور کردار کی وراثت کو اگلی نسلوں تک منتقل کر سکیں ۔ حضرت سلیمان اور داؤد علیہ السلام کے بارے میں بھی یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ﴾
"اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔” (النمل: 16)

یہاں بھی اصل موضوع جائیداد کی منتقلی نہیں بلکہ قیادت ، رہنمائی ، ورلڈویو اور فریم ورک کا انتقال ہے ۔ گویا قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی اصل وراثت مال و دولت نہیں ہوتی بلکہ فکر و نظر ، کردار ، اخلاق ، اور ذمہ داری کا تسلسل ہی ان کی اصل میراث ہے ۔ خود رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم کی بعثت کو بھی قرآن اسی نقطہ نظر سے ببان کرتاہے :

ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ
"وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا… جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ، ان کا تزکیہ کرتا اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔” (الجمعہ: 2)

غور کیجیے کہ قرآن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہاں ایک مبلغ کے طور پر نہیں بلک ایک معلّم کے طور پر پیش کر رہا ہے ۔ گویا teacher formation قرآن کے ابتدائی اور بنیادی مقاصد میں شامل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ کی وفات کے بعد آپ کے تیار کردہ بے شمار معلمین نے اس فریضہ کو سنبھال لیا ۔آپ علیہ السلام کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ، حضرت ابو بکر کے بعد عمر ، پھر عثمان اور پھر علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ چھوڑی گئی ذمہ داری کو سنبھالتے رہے ۔ علم ، اخلاق ، اقدار اور افکار کا ایک تسلسل تھا جو شخصیتوں کی موت کے باوجود برقرار رہا ۔ یہ تسلسل ہی کسی صاحب علم کی سب سے بڑی میراث ہوتی ہے ۔ آج مولانا سلمان حسینی ندوی کے انتقال کے بعد بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا ان کے بعد ان کا علمی و فکری تسلسل باقی ہے یا پھر وقت کے ساتھ علم کا آفتاب غروب ہو گیا ؟

قرآن کی ایک اور آیت اس بحث کو ہمیں مزید گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ ارشاد ہے :

﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾
"اور ہم نے ان میں ایسے پیشوا (امام) پیدا کیے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر کامل یقین رکھتے تھے۔” (السجدہ: 24)

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح قائد نہ آسمان سے ٹپکتے ہیں نہ زمین سے برآمد ہوتے ہیں ۔ امامت دراصل ” امر رب ‘ کے قانون کے تحت اُبھرتی ہے۔ امر رب کی اجتماعی پابندی ہی وہ سنت الٰہی ہے جو صالح قیادت کو وجود بخشتی ہے ۔اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیادت و امامت ایک طویل مدتی تربیتی عمل ، صبر ، یقین ، فکری و اخلاقی تشکیل کے نتیجہ میں تیار ہوتی ہے ۔قیادت قوموں کو پیدا کرنی ہوتی ہے یہ خود بہ خود وجود میں نہیں آتی ۔ اگر کسی قوم میں صالح قیادت کا فقدان ہو تو پھر اسے شکوہ شکایت کے بجائے امر رب کے تحت اپنے نظام کا جائزہ لینا چاہیے ۔کسی قوم میں صالح قیادت کے فقدان کا مطلب یہ ہے کہ اُس معاشرہ میں تعلیمی و تربیتی ادارے ” امر رب ” کے معاملہ میں کمزورپڑ گئےہیں۔ یعنی سنت الٰہیہ کے مطابق ان میں وہ صلاحیت موجود نہ رہی جو افراد کو صالح قیادت میں ڈھال سکے ۔

یہی قرآنی اصول اصحاب علم و علما پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ چوٹی کے اصحاب علم محض اتفاقا آسمان سے نازل نہیں ہوتے ۔ برسوں کی جد و جہد ، فکر کی آزادی ، اخلاقی تربیت ، علمی ماحول ، مطالعہ کی روایت اور جد و جہد کے بعد ہی کسی معاشرہ میں اہل علم تیار ہوتے ہیں ۔ جب یہ علمی ماحول کمزور پڑتا ہے تو پھر کسی ایک عالم کی موت نہیں ہوتی بلکہ یہ حقیقت بھی ابھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ معاشرہ اب ” ائمہ ” پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے ۔

شاید اسی لیے کسی صاحب علم کی موت کے بعد اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مرنے والے میں کیا خوبیاں تھیں بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہمارے تعلیمی و تربیتی ادارے ، اساتذہ اور نظام اس قابل ره گئے ہیں کہ وہ” امر رب” کے تحت” ائمہ” پیدا کر سکیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو اصل موضوع مرنے والی شخصیت کی زندگی نہیں بلکہ اس کے جانشین ہوتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کی نگاہ میں امامت کا تسلسل خدا کی سنت ہے اور اس سنت کو برقرار رکھنا انسانوں کی ذمہ داری ۔leadership foarmation کی اس سوشیالوجی کو سمجھے بغیر محض انفرادی قصیدے قوموں کو قیادت کے بحران سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

ان قرآنی آیات کو سامنے رکھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی صاحب علم کی وفات محض ایک انفرادی موت کا واقعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ امانت کی منتقلی کا سوال بن جاتی ہے ۔ یہ ایک خاندانی حادثہ نہیں ہوتی بلکہ ملت کا امتحان بن جاتی ہے ۔

حکمت نبوی علیہ السلام کا ایک عظیم شاہکار یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس دنیا سے رحلت کے بعد کبھی خلا پیدا نہیں ہونے دیا اور تاریخی تسلسل کو برقرار رکھا ۔ آپ علیہ السلام نے ایسے افراد کی تیاری کو یقینی بنایا جنھوں نے نبوت کو تو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا مگر کار نبوت کو وہ آگے بڑھاتے رہے۔

دراصل ہر صاحب علم کی موت تین بار ہوتی ہے ۔ ایک بار اس وقت جب اس کا جسم سپرد خاک کر دیا جاتا ہے اور آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے ۔ یہ وہ موت ہے جسے ہر آنکھ دیکھتی اور ہر کان سنتا ہے۔ اگر کسی عالم کی موت محض اتنی ہی بات ہوتی تو پھر بھی نقصان کوئی غیر معمولی نہ تھا ۔

دوسری موت اس وقت ہوتی ہے جبکہ اس عالم کے ساتھ ایک منفرد Intellectual Architecture بھی ختم ہو جاتا ہے ۔اصل یہ ہے کہ ہر بڑا عالم محض معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتا وہ اپنی ایک مخصوص علمی دنیا ( Intellectual Universe) رکھتا ہے ۔اس کے ذہن میں بے شمار کتابیں محفوظ ہوتی ہیں ۔ قرآن ، حدیث ،سیرت ، فقہ ، نفسیات ، ادب ، سائنس ،فلسفہ ، اقتصادیات ، سیاست وغیرہ بے شمار موضوعات پر اس نے لا تعداد کتابوں کا مطالعہ کیا ہوتا ہے ۔ یہ کتابیں اس کے ذہن میں باہم گفتگو کرتی ہیں ۔ ایک synthesis ہوتا ہے اور اس synthesis کے نتیجہ میں فکر و نظر کا ایک مخصوص فریم ورک وجود میں آتا ہے ۔ وہ عالم اس فریم ورک کے تحت حقیقت کی تعبیر و تشریح کرتا ، دنیا کے مسائل کو سمجھتا اور ان کا حل تجویز کرتا ہے ۔ دو علماء نے ایک جیسی کتابیں پڑھی ہوتی ہیں ۔ مگر ان کے نتائج فکر ایک نہیں ہوتے ۔ ہر عالم علم کو اپنے منفرد انداز سے ڈھالتا ہے ۔ اس کی موت کے ساتھ یہ علم کی یہ ساخت بھی رخصت ہو جاتی ہے ۔ ہر عالم کے اساتذہ ، مطالعہ ، تجربات ، مشاہدات اور فکر مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل کرتے ہیں جس کی منتقلی ممکن نہیں ہوتی ۔گویا کہ ایک عالم کی موت صرف ایک شخص کی موت نہیں ہوتی ، وہ خود علم کی ایک مخصوص تعبیر کی بھی موت ہوتی ہے۔علم کا سب سے بڑا ذخیرہ لائبریری نہیں انسان ہوتا ہے ۔کتابیں علم کو محفوظ کرتی ہیں، لیکن عالم علم کو زندہ رکھتے ہیں۔

عالم کی تیسری موت اکثر بہت خطرناک اور نہایت درجہ خاموش ہوتی ہے ۔ یہ وہ موت ہے جو عام طور پر لوگوں کے نوٹس میں نہیں آتی ۔کسی عالم کی تیسری موت اس وقت ہوتی ہے جب وہ مستقبل میں چھپے اپنے تمام تہذیبی امکانات کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔ ہر عالم محض ماضی کا محافظ نہیں ہوتا وہ مستقبل کا معمار بھی ہوتا ہے ۔ اس کے ذہن میں ایسے سوالات ہوتے ہیں جو ابھی تک کسی نے پوچھے ہی نہیں ، وہ ایسی علمی کاوشوں کے منصوبے رکھتا ہے جنہیں ابھی تک کہیں سوچا بھی نہ گیا ، اس کے امکانی اجتہادات ، ان کہے خیالات ، نا مکمل منصوبے ، ادارے جن کی بنیاد بھی نہ پڑ سکی ، علم کی دنیا میں اصلاحات جو اسے مطلوب ہوتی ہیں ،سب کچھ اس کے ساتھ چلا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ کتابیں بھی جو اس نے ابھی تک لکھی ہی نہیں ۔

زندہ قوموں میں کسی بڑے عالم کی موت کے جھٹکے کو سہنے کی قوت ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ وہ عالم اپنے پیچھے بہت سے افراد چھوڑ جاتا ہے جو واقعتاً اس کے جانشین ہوتے اور اس کے مشن کو خود مرحوم عالم سے بھی آگے لے کر جاتے ہیں ۔ مگر زوال یافتہ قومیں افراد پر منحصر ہوتی ہیں ۔ یہاں کسی عالم کی موت خود قوموں کو مزید پیچھے دھکیل دینے کا سبب بن جاتی ہے ۔ یہی وہ موت ہے جس کو ہم نے کسی عالم کی تیسری موت کہا ہے ۔ کسی عالم کی تیسری موت وہ ہوتی ہے جب وہ اپنے پیچھے علماء و شاگردوں کی ایک ایسی ٹیم کو نہ چھوڑ سکے جو اس کے علمی سفر کو آگے جا کرجاری رکھ سکیں ۔

حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی موت ہمیں اسی نقطہ نظر سے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ان کی موت دراصل کون سی موت ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی بھی بالآخر بہت سے علماء کی طرح اپنی تیسری موت کا شکار ہو گئے ہوں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ ایک عالم کی موت نہیں ، ایک مکمل تہذیبی امکان کا خاتمہ ہے ۔ یہ قوم کے مستقل پر ایک سوال ہے ۔

آج وقت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انفرادی فضائل اور ذاتی خوبیاں سنانے کا نہیں بلکہ اس خلا پر غور و فکر کا ہے جو اس درجہ کی شخصیات کے بعد اکثر پیدا ہو جاتا ہے ۔اس خلا کا اندازہ قوموں کو بہت دیر بعد ہوتا ہے ۔

قرآن کے نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کسی شخص کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ ایک ایسی امانت ہے جو اسے اپنے بعد آنے والی نسلوں کو منتقل کرنی ہوتی ہے ۔ اگر علم و فکر کی منتقلی کا یہ عمل رک جائے تو تہذیبیں آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہیں ۔ قومیں سیاست کے میدان میں شکست کھانے سے ختم نہیں ہوتیں وہ اس وقت ختم ہوتی ہیں جب ان میں علم و اخلاق کی منتقلی کا سلسلہ منقطع ہو جائے ۔تاریخی تسلسل(Historical Continuity)کو توڑ دینے والے اس عمل کے نتائج جب تک قوموں کو سمجھ آتے ہیں ، اکثر اوقات بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ مولانا سلمان حسینی کی وفات پر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بعد یہ تسلسل برقرار رہے گا یا پھر اس تسلسل کو ایک مزید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑے گا ؟ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انہوں نے کتنی کتابیں چھوڑیں ، اصل سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسے انسان کتنے چھوڑے جو خود ان سے بھی آگے جانے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۔اصل سوال یہ نہیں کہ مولانا سید سلمان حسینی مرحوم ہو گئے ، اصل سوال یہ ہے کہ اگلا سلمان حسینی ہماری جامعات اور مدارس سے کب نکلے گا ؟ اب امتحان مولانا سلمان حسینی کا نہیں اس تہذیب کا ہے جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں ۔ سوال اس قوم سے ہے جسے وہ ہمیشہ للکارتے رہے ” تم علماء کے جنازے پڑھنے والی قوم بنے رہوگے یا پھر ایک ایسی قوم جو علماء تیار کرنے کا فن جانتی ہے ؟

مولانا شاید اس سوال سے پوری طرح با خبر تھے ۔ مجھے ان کی ایک بات اس لیے یاد ہے کہ اس سے ان کی تعلیمی فکر پوری طرح واضح ہو جاتی ہے ۔کورونا کے زمانہ میں ہماری معمولی سی ٹیلی فونک دعوت پر وہ القرآن اکیڈمی کیرانہ تشریف لائے ، یہاں انھوں نے طلباء کو خطاب کیا ، ایک سوال جواب سیشن بھی منعقد ہوا ۔ وہ اکیڈمی کے قرآنی ،علمی و فکری ماحول سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اب القرآن اکیڈمی کیرانہ اور جامعہ سید احمد شہید کے درمیان ایک پیکٹ ہو جس کے تحت اکیڈمی اساتذہ تیار کرے اور انہیں جامعہ سید احمد شہید بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں طلبہ کی تربیت کر سکیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ خوب جلسے کرو اور سیمینار منعقد کرو بلکہ مولانا نے فرمایا کہ اساتذہ تیار کرو ۔ دراصل مولانا اس حقیقت سے واقف تھے کہ تہذیبیں عمارتوں سے نہیں اساتذہ سے زندہ رہتی ہیں ۔ آج مولانا کی موت نے ملت کے تمام اداروں ، تنظیموں اور دانشوروں کے سامنے پھر یہی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اساتذہ کی تیاری ہماری ملت کی ترجیحات میں شامل ہے ؟ کیا ملت اس اہم فریضہ کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنے کو تیار ہے ؟

ہمیں یہ بات بخوبی طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ تعزیت آنسوؤں سے نہیں ہوتی ، لیٹر ہیڈ سے نہیں ہوتی ، تعزیت علمی و فکری ذمہ داری کو قبول کرنے سے ہوتی ہے ؟ اگر مولانا مرحوم کی وفات کے بعد بھی جامعات ویسی ہی رہیں ، تحقیق جوں کی توں رہے ، علم کا قافلہ ٹس سے مس نہ ہو تو ہم نے ایک عالم کا جنازہ پڑھا ہے ، مگر ان کے ذریعہ چھوڑی گئی امانت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے. اگر ملت کے ادارے بالخصوص آپ کا قائم کردہ جامعہ سید احمد شہید کٹولی اور خود دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو بھی اس ذمہ داری کے متحمل نہ ہوں تو اندیشہ ہے کہ مؤرخ یہی لکھنے پر مجبور ہوگا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کی تیسری موت ہو گئی ہے ۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔

مولانا سید سلمان حُسینی ندوی کی موت پر اصل سوال جس پر سوچا جانا چاہیے وہ یہ نہیں کہ مولانا کی وفات کیسے ہوئی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگلا سلمان حسینی کہاں ہے ؟ کیا وہ کسی مدرسہ کی درس گاہ میں بیٹھا ہے ؟ کیا وہ کسی یونیورسٹی کی لائبریری کی خاک چھان رہا ہے ؟ یا پھر اگلا سلمان حسینی پیدا ہی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے وہ ماحول سرے سے ناپید کر دیا ہے جس میں ” سلمان حسینی ” جنم لیتے ہیں ؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔